
لطیف النساء
یہ کیا بات ہوئی کہ آپ نےکہہ دیا چیلنج! جی ہاں چیلنج ہم برائیوں کی تشہیر کر کے بھی معاشرے میں سدھار پیدا نہیں کرسکتے صحیح ہےمگر میں دعوے
سے کہتی ہوں کہ ہمیں کبھی خود قدم قدم پرجن مسائل کا شکار ہونا پڑرہا ہے۔ کسی حد تک ان مسائل کے ہم خود ہی ذمہ دار بھی ہیں۔
امی کہتی تھیں خود کو دیکھو، اپنا الو سیدھا کرو یہ کیا بات ہوئی کہ دوسروں کو نصیحت خود کو فصیحت! جگہ جگہ ہمیں دھوکے ملتے ہیں موبائل کمپنیاں پاکستان میں غضب ڈھارہی ہیں۔ سم کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اوراتنا ہی زیادہ اضافہ ٹیکس کی صورت میں ہوتا جارہا ہے۔سینکڑوں روپےٹیکس کی مد میں کاٹ کر عوام کا جینا حرام کیا ہوا ہے۔
عوام ان چور اور ڈکیت کمپنیوں کوسمجھ ہی نہیں رہے!کیوں بیوقوفی کا مظاہرہ کر رہے ہیں؟ ظلم کوسہنا بھی ظلم ہے،انہیں چیلنج کرنا چاہیے؟ کہ یہ ٹیکس پر ٹیکس لگا کر عوام کو بیوقوف نہ بنائیں واقعی ان کے خلاف تو آگاہی مہم چلا نا چاہئے۔اس کو چیلنج سمجھتےہوئے تاکہ سب کی خیر ہو۔ اس طرح جہاں کہیں ظلم ہوتا دیکھیں ضرور ظالم کا ہاتھ روکیں۔چاہے وہ ٹیکسی ہو، رکشہ ہو، چنگچی ہو۔ نہ خود بے ایمانی کریں نہ دوسروں کو کرنے دیں لیکن ہاں ضروری کیا ہے کہ ہم خود ایماندار ہوں سب سے پہلی شرط! آپ اگر خود بے ایمان ہیں حق ادا نہیں کررہے۔ سست اور کاہل بنے ہوئے ہیں۔ محنتی نہیں ہیں۔ اپنے کردار میں کمزور ہیں اور دوسروں کے سدھار کیلئے کوشاں ہیں تو آپ کی کو شش کبھی مؤثر نہیں ہوسکتی۔ کیوں؟ کیونکہ کربھلا ہو بھلا۔
یہ ہو نہیں سکتا کہ کر بُرا اورہو بھلا! تو مطلب کیا ہوا؟کہ آپ خود کو پہلے سدھاریں، ذمہ داری نبھائیں ورنہ نتیجےکے ذمہ دار آپ خود ہیں۔ابھی میں سوچ ہی رہی تھی کہ ان دکان والوں کی قیمتوں میں اتنا فرق کیوں؟ جو میرے تجربے میں گزری میڈیکل اسٹورز تھےلیکن قیمتوں کا نمایا فرق!یہ کہہ دیا گیا کہ وہ دو نمبر کی ہیں؟ یہ درست ہیں آپ وہاں سے لے لیں!اب بندہ کیا کرے؟ کتنا بڑا چیلنج؟ اسی طرح گھر گھر ان بے ایمانیوں اوررسوائیوں سے پلید ہو رہے ہیں۔ میڈیا، موبائل، اسکرین اپنا ایسا مؤثر کردار نبھا رہے ہیں کہ سب ہی ان کے غلام بنے نظرآتے ہیں مگر ان میں بھی سبحان اللہ!ایک نہ ایک چیز ایسی نظر آجاتی ہے جو آپ کے لئے چیلنج بن جاتی ہے۔
ابھی میری ایک دوست نے ایک پیغام بھیجا کہ سنو توکیسی زبر دست گفتگو!سونے کےالفاظ میں مطلب سونے کے پانی سے لکھا جائے دنیا میں اپنائی جائے تو پھر سمجھوکا میابی ہی کامیابی! واقعی کوئی بھی ہو مگر کم از کم حق بات تو کرے اور انصاف سے تو کام کرنا چاہئے دکاندار ہو، ڈاکٹرہو، ٹیچر ہو یا سبزی فروش ہو، کُک ہو یا کوئی بھی ذمہ دارشخص ہو، احساسِ ذمہ داری سے عاری بندہ کیسے اچھا کام کر سکتا ہے؟ یہاں تک کے واقعی داعی ہو تو بھی جب تک اس کے اندر یہ خصوصیات نہ ہوں تو وہ کیسے اپناکام صحیح کر سکتا ہے؟ تو ہمیں بننا کیا ہے؟ پیغام میں کہا گیا کہ رفیق بن کر کام کروفریق بن کرنہیں! ظاہر ہے کہ حق تناؤ نہیں ہوتا حق بات میں تو تعاون ہوتا ہے کتنی پیاری بات ہے۔ انھوں نے کہا کہ اپنی دنیا الگ نہیں بنانی ہے کہ ہم تبلیغ والے ہیں، ہم فلاں والے ہیں، یہ مدرسے والے ہیں یہ سب باتیں غلط ہیں دین کے جتنے کام ہوتے ہیں وہ سب دین کیلئے ہوں۔ داعی بنو مدعی نہ بنو، اللہ کے ہاں سب کا درجہ ہے۔ علم،ذکر،دعوت اور تمام تر رفاعی خدمات دین کیلئے ہیں۔ہمارا یہ کام ہے ہمارا یہ کام ہے؟ نہیں سب دین کیلئے کر رہے ہیں، مل جل کر کام کرو اور ایک دوسرے سے تعاون کرنا۔حدیث شریف میں ہے کہ ہر آدمی کو اس کے درجے پر رکھو۔ وہ بھی اللہ کیلئے کام کر رہے ہیں۔ نفسانیت نہ ہو۔ جو دین کا کوئی بھی کام کر رہے ہوں اُن کیلئے اچھے جذبات رکھیں اور دعا کریں کہ الحمد للہ جو کام ہم نہیں کررہے ہیں اور وہ کر رہے ہیں ان میں اللہ ان کو برکت عطا فرمائے یعنی ہمارا ذہن وسیع ہوسب دین کیلئے کام کر رہے ہیں۔ ہم بھی اللہ کے لئے کام کر رہے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سیکھا یا کہ علم، ذکر،رفاعی خدمات جو بھی کررہے ہیں صحیح کر رہے ہیں یہی حق ہے اورسچ ہے۔
ہمیں ان سے تعاون کرنا چاہئے اور انکے لئے دعا کرنی چاہئے جب ہی ہم انکے رفیق ہونگے رقیب نہیں۔ دنیا میں دعوت اور رفاعی خدمات کیلئے ہمارا دل وسیع ہو، داعی ہو۔ دو سروں کیلئے ہمارے دل وسیع جگہ ہو،دوسروں کیلئے ہمارا دل وسیع ہو، تنقید نہ ہو۔ ان کا احسان سمجھ کہ جو کام وہ کر رہے ہیں ہم نہیں کر رہے ہیں۔ ان سے جلیں کڑیں نہیں بلکہ ان سے تعاون کرتے ہوئے ہم بھی علم کے، ذکر کے، خدمت کے احسن کام کریں اور ہمیشہ رفیق رہیں، کبھی فریق نہ بنیں کہ بدلے کاعنصر شامل ہو جائے جب ہی امن ہوگا سلامتی ہوگی۔ حق میں تضاد کیسا؟ وہ تو تعاون ہی تعاون ہے۔کر بھلا ہوبھلا یہی امن کا اصول ہے۔تو کیا ہم اور آپ امن نہیں چاہتے؟ کیا پیاری حدیث ہے آپؐ نے فرمایا "مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے"
کیا آج ہم اس حدیث کے مفہوم پر پورے اتر رہے ہیں؟ دین تو سلامتی ہی سلامتی ہے۔ ہم بھی مسلم ہیں! توکیوں ہمارے درمیان سلامتی نہیں۔ ہم خود اپنے کردار کو چیک کریں۔ پہلے مسائل کو چیلنج کریں اپنے کردار کو دیکھیں اور اپنے اعمال کو چیلنج کریں!ہم کیا تھے کیا ہو گئے؟کیوں ہو گئے؟ کہاں کھو گئے کہاں سو گئے خبر ہے؟ بس تاریخ کے سنہرے دور پر اکتفا کریں؟ کیوں نہ اس دور کو زندہ کریں!
تھے تو آباوہ تمھارے ہی مگر تم کیا ہو؟
ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو!
منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرمِ پاک بھی، اللہ بھی، قُرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلماں بھی ایک
تو ہمیں ایک ہونے نیک ہونے کی ضرورت ہے۔ صحیح معنوں میں امت مسلماں ہونے کی ضرورت ہےتا کہ دنیا بھر کے چیلنجوں کا مقابلہ کر لیا جائے نہ کہ خوچ چیلنج بن جائیں۔





































