
لطیف النساء
دادی جان پاکستان بننے والا تھا تو آپ لوگوں نے پاکستان کیلئےکیا کیا؟ دادی جان نے بتایا کہ دادا جان کا کافی پہلے انتقال ہوچکا تھا اورایک چچاکافی پہلے
پاکستان آ چکےتھے،ہم بہت اچھی طرح رہتے تھے کیونکہ دادا مرحوم بڑے زمیندار تھےانڈیا میں کافی مشہور اور معزز تھے۔ بڑے گھر اورکافی سارے لوگ ہوا کرتے تھے کسی چیز کی کمی نہ تھی۔ مطلب دادا ابا کے گزرنے کے بعد بھی کسی کو کوئی تنگی، پریشانی نہ تھی کہ ایک دم حالات بگڑے۔ بڑی پھوپھی شادی شدہ تھیں۔ ایک بیٹا بھی تھا،جبکہ چھوٹی پھوپھی کی منگنی ہو چکی تھی اورشادی ہونے والی تھی مگرحالات اتنےبگڑے کے چھوٹی پھوپھی کوہونے والے سسرالیوں کے حوالے کیا کہ خود شادی کرلینا اوروہ تیار بھی ہو گئے تھےباقی سب لوگ پاکستان کیلئےنکلے۔میرےچارچچاؤں میں سے ایک پاکستان میں تھے باقی تین چچا چھوٹے تھے مطلب بارہ تیرہ سال سے بڑے تھے اور امی یعنی دادی مرحومہ سب پاکستان کیلئےٹرینوں میں ایسے گھسے کہ جو کچھ ہاتھ لگا اٹھا لیا۔ نہ پیسے، نہ کھانا پینا، نہ سامان، نہ کپڑا لتا جو کچھ ضروری چیزیں لی تھیں وہ بھی ٹرین میں ادھر ادھرہو گئیں۔ ان دنوں پوری پوری ٹرینیں خون میں نہائی ہوتی تھیں، خوف کا عالم نہ پوچھیں! دادی کے پاؤں میں چپل تک نہ تھی۔
جب لاہور پہنچیں تو وہاں اتنی گرمی تھی کہ پیر جلنے لگے بڑے بڑے آبلے پڑ گئے۔ تودادی کبھی دوپٹہ نیچے رکھ کر اس پر پیر رکھ لیتیں اورکبھی پہن لیتیں۔جیسے تیسے کراچی والے چچا ملے اور ہماری باقی دونوں بڑی پھوپھیاں ایک شادی والی اورایک غیرشادی شدہ اورپھوپھا تین چچا سب کراچی میں مقیم بڑے چچاکے گھرآگئے۔ کہنے لگیں میرے شوہر بتاتے ہیں کہ دادی اماں نے جب بیٹے کا اتنا چھوٹا دڑبےجتنا گھر دیکھا تو انہیں بڑا افسوس ہوا کہ اتنا سا گھر!اور اتنے سارے لوگ کیسے رہیں گے؟ اور یہ خود کیسے رہتے ہونگے؟ انہیں پیروں میں اتنی تکلیف تھی کہ وہ چل بھی نہیں سکتی تھیں، پھر گرمی کے دن تھے اور صرف ایک بیٹا معمولی نوکری کرنے والا؟ کیسے گزارا ہو گا؟ انہیں بہت دکھ ہوا اور وہ یہ غم نہ سہہ سکیں اورصرف سات دن بعد انتقال فرماگئیں اور ہم تینوں کنوارےبھائی ایک بہن اور پھوپھی پھوپھا اسی گھرمیں جیسےتیسے رہنےلگےمگر میرے پھو پھا بڑےنیک آدمی تھےانہوں نے کسی نہ کسی طرح انڈیا سےمیری منگنی والی پھوپھی کو بھی قافلے والوں میں سے کافی دنوں بعد پالیا اور گھرلے آئے۔انھیں اطلاع ملی تھی کہ اُن کے سُسرال میں بھی بلوائیوں نے کافی لوگوں کو مار دیا اور وہ قافلے والوں کے ہمراہ ہو گئیں اس طرح وہ بھی کراچی آگئیں کہنےلگیں کہ ہماری بڑی پھوپھی نےبڑی محنت اورمحبت سےہم سب بہن بھائیوں یعنی میرے چچاؤں اور دونوں پھوپھیوں کو پالاپوسا اوربڑاکیااور دونوں پھوپھیوں کی شادیاں کیں، جو بہت خوبصورت تھیں، بقول میری دوست کہ وہ آج بوڑھی ہو چکی ہیں مگر اب بھی بہت اچھی لگتی ہیں۔
میرے شوہر انہیں ماں ہی کہتے تھے کیونکہ انہوں نے بالکل ماں بن کرہمارے چچاؤں کی پرورش کی تھی۔ پھو پھا بڑے نیک آدمی تھے۔ دین دار اور عالم کی طرح تھے چچا بھی بہت اچھے تھے عبد الرحمن انکا نام تھا، میرے سسرانکی بڑی قدر کرتے تھے اورانکا احسان مانتے تھے کہ انہوں نے لمحہ ضائع کیے بغیر اتنی مصیبتوں سے ہمیں سنبھالا اور پال پوس کربڑا کیا اور پاکستان کیلئے کتنی قربانیاں دیں، دادا دادی، چچاؤں اور پھوپھیوں نے اپنی ہر آسائش کو چھوڑ کر عزیز رشتوں کو چھوڑ کرہزا رہامشکلات اٹھاتے ہوئے پاکستان پہنچے اور یہاں آکر بھی مستقل اس وطن عزیزکی تعمیر کی مسلسل جدو جہد کرتے رہے۔ جس کی وجہ سے آج ہم لوگ دوبارہ اللہ کی مہربانی سے خوش حال ہو گئے، اپنے گھر ہیں بچے ہیں اور ہمیں ابھی بھی پاکستان سے والہانہ محبت ہے اور کیوں نہ ہو؟ اس کی تعمیر میں تو ہمارے اجداد کا لہو شامل ہے۔ میری دوست نے یہ کہانی سنائی کہ اس کے شوہر نے اپنے دادا اور پھوپھی کے بارے میں یہ بتایا۔ ان کی وہ پھوپھیاں اب بھی ماشاء اللہ حیات ہیں اور میری دوست کی ایک بڑی بہن چھوٹی پھوپھی کی بڑی بہو ہیں اور بہت خوش ہیں۔
وہ لوگ اب بھی بہت خوش رہتے ہیں اور میرے شوہر بھی مجھے اور میرے نوجوان بچوں کو اپنےبچپن کے یہ واقعات بتاتے ہیں کہ کس طرح پاکستان کیلئے گھروالوں نے قربانیاں دیں اور آج ہم اس مقام پر ہیں۔ ہمیں تو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ ہمیں یہ آزاد اسلامی ملک بنا بنا یا مل گیا! شکر الحمد للہ! اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اس ملک کی قدر کریں اور اس کے سدھار میں دل و جان سے لگے رہیں لیکن حالات بتا رہے ہیں کہ ہم بے خوف ہو گئے ہیں اور اتنی قربانیوں سے لئے گئے ملک کی ویسی قدر نہ کی جیسے کرنی چاہئے تھی۔ اس دور کے مقابلے میں آج ہمارے پاس سب کچھ ہے مگربد انتظامی اوربد تہذیبی نے ہمارے ملک کو مستقل نقصان پہنچایا ہے۔ ہمیں اچھی تعلیم اور اچھے انتظامی حالات سے اپنی ہر طرح کی صلاحیتوں سے ایمانداری سے اس کی خدمت کرنی چاہئے اور دنیا میں مقبولیت حاصل کرنی چاہئے۔ اسلام کو نافذ کرکے، اسلامی تہذیب کو فروغ دیکر اسے مضبوط قلعہ بنانا اور متحد رہنا اب ہماری ذمہ داری۔ اللہ ہمیں توفیق دے ہمارا ملک سلامت رہے۔ آمین





































