
لطیف النساء
بہت پہلےایک عید کا پروگرام دیکھا تھا جس میں مرحوم معین اختر اوربشریٰ انصاری صاحبہ بھی تھیں۔ شاعری تھی سمجھیں مشاعرہ تھا جب بشریٰ
انصاری جو شاعرہ کی حیثیت سےآئی تھیں، اپنے اشعار سامنے رکھے، سب تو یاد نہیں مگر ایک شعر ہلکا سا یاد ہےجس کےعنوان "گونگا پاکستان" کو دیکھ کر میرے ذہن میں آیا شعر کچھ یوں تھا۔
میں منہ سے کچھ بولتی نہیں، زباں خاموش ہےمیری!
گریباں چاک ہے میرا
مطلب سب کچھ دیکھتا ہےوالی بات! پاکستان کیسےبنا؟ کیا تھا؟ اورکیا ہو گیا؟ سب کچھ دیکھتا ہے!بندوں کوکہنےکی ضرورت نہیں۔ دونوں پہلو دیکھیں! کراچی کی عمارتیں دیکھیں،بازار دیکھیں،ہوٹلز اور مالزدیکھیں، ڈیفنس دیکھیں! تاریخی روڈ کی تعمیرات دیکھیں، بحریہ ٹاؤن دیکھیں، لوگوں کا جو دو تین طبقوں میں بٹے ہیں اسٹینڈرڈ دیکھیں! لکی ون اور بچہ پارٹی دیکھیں؟ مزید جو جتنی استطاعت رکھتا ہے،اتنا اس کا نقطۂ نظر دیکھیں۔
زبانِ حال سےچلا کر کہہ رہا ہے میں بہت آگے بڑھ چکا ہوں، ساری دنیا کا عروج دیکھیں، مالز میں برینڈڈ کپڑے اوران کی قیمتیں دیکھیں! کیا لگتا ہے ہزاروں میں بکنے والی یہ چیزیں جو بک رہی ہیں لوگ خرید رہے ہیں لوگوں کے انداز دیکھیں اور انکی اوقات دیکھیں۔ کچھ کہنے کی ضرورت ہے؟ نہیں! کیوں؟ کیونکہ سب کچھ دیکھتا ہے!اتنے پیسے والے لوگ! کھانوں پر ہزاروں لاکھوں کے بل! جی یہ پاکستان ہے!دوسری طرف پکے بنگلوں اور بڑی بلڈینگوں کے ارد گرد اور گنجان آبادیوں کے خستہ حال مکانات، دڑبے نما گھر یا فلیٹ تاریک گلیاں، سڑکوں کے نام پر کھودی گلیاں، کچرا کونڈی، ناجائز تعمیرات، سڑکوں اور مکانوں کے باہر جہاں جگہ ملے وہاں تاحد نظر تجاوزات، گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، ٹوٹی پھوٹی زمین میں دھنسی گاڑیوں کے ڈھیر،ہر بلڈنگ سے گلی ایک کچرے سے فل" گندی گلی" اوپر سے لوگوں کا جم غفیر!ہر طرح کے لوگ معمولی سے لیکر چیتھڑے لگے لوگ ننگے پاؤں ٹھیلے والے، معمولی معمولی چیزیں بیچنے والوں کے ٹھکانے اورہرجگہ ہر موڑ پر مزدوروں کے علاوہ مانگنے والوں کے منفرد انداز! ہر چھ، آٹھ قدم پر بھیک مانگنے والے افراد،کہیں انفرادی اور کہیں اجتماعی عورتیں، بچے کہیں پوری پوری فیملیاں، پُلوں پر، پلوں کے نیچے ہر جگہ ہر طرف! آپ کی شاید نظران تک نہ جائے،مگر ان کی نظریں آپ پر ضرورہوں گی،مانگنے اور پیچھا کرنے والے افراد، خواجہ سراؤں سے لیکر اچھے خاصے حلیوں میں، عبایوں میں، فیملیز کی فیملیز سڑکوں پر باقاعدہ ایک نہیں کئی کئی مافیاز چل رہے ہیں۔
یہ بھی سب کو سب کچھ دیکھتا ہے، ساتھ ہی پولیس رینجرزا اور دیگر فلاحی کام کرنے والے لوگ بھی ہیں مگر سب کچھ ڈنکے کی چوٹ پرہو رہا ہے کھل کر ہو رہا ہے۔ اس میں اضافہ بھی ہو رہا ہے کمی نہیں! کیوں؟ کیونکہ سب خاموش ہیں، مافیا چل رہا ہے! کون چلا رہا ہے؟ کیسے چل رہا ہے؟ کیوں چل رہا ہے؟ کب سے چل رہا ہے؟ ہے کوئی جواب دینے والا؟ نہیں نا! کس سے شکایت کریں؟ کہاں جائیں؟ کیسے روکیں؟ توہوا نا گونگا پاکستان!ظاہر ہے۔ ہم برائیاں گنوا گنوا کر معاشرے کی اصلاح تو نہیں کر سکتے مگر پھر بھی اس گونگے پاکستان میں چوبیس گھنٹے خون پسینہ بہانے والے لوگ بھی ہیں جو غیرت مند، محنتی، جفا کش ہونے کے باوجود اپنا کوئی مقام نہیں بنا سکتے لیکن اس بات پر خوش ہیں کہ یہ دنیا تو ہے ہی امتحان! اللہ اجر دے گا اور برکت بھی! یقینا ایسا ہی ہے بھی!مگر پھر بھی یہ کہتے ہوئے افسوس ہوتا ہے کہ ہم مادی ترقی اور ٹیکنالوجی کے دور میں کسی حد تک آگے تو جا رہے ہیں لیکن اخلاقی طور پر بالکل کنگال ہوئےجارہے ہیں۔مزہ تو جب آئے گا جب ہمارا کام بولے، کردار بولے ہمارا تو دین ہی اتنا اچھا ہے کہ ہمیں کہیں سے کچھ لینے کی ضرورت نہیں خاموشی سے ہر بندہ اپنا فرض ہی نبھاتا رہے تو کیا کچھ نہ ہو؟ ابھی بھی اللہ کی مہربانی سے ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے ملک کی ترقی کیلئے بہت کچھ کر رہے ہیں مگر گمنام ہیں۔ بجلی،پانی، گیس اور پیٹرول جیسی نعمتوں کو یہاں کی غیر منصفانہ تقسیم سے برسوں سے عوام کو عاجز کیا ہوا ہے۔ زندگی میں ان سنگین مسائل میں رہ کر بھی ہم بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں، زندگی کو خوبصورت بنانا چاہتے ہیں ہمیں معلوم ہے کہ زندگی خوبصورت کیسے بنتی ہے بقول حضرت علیؓ کہ ہمیں سہنا ہے،نظر انداز کرنا ہے، خاموش رہنا ہے۔ ہر دم سیکھنا ہے اور سبق لینا ہے یہاں تک کے اکیلے بھی رہنا ہے تو ہی ہم خوش رہ سکتے ہیں درست!مگر ہمارے اعمال!روئیے، تعلقات،معاملات میں یہ رنگ کیوں نہیں نظر آ رہا، کردار تو خود بولتا ہے، کام تو خود بولتا ہے۔
برے کردار اور واقعات ہمیں خاموش کرادیتے ہیں یعنی گونگا پاکستان بنا دیتے ہیں! اتنے المناک حادثات، اغوا، چوری، چکاری،مکاری، بد کرداری اور بد تہذیبی ہوسٹل کے کالج کے واقعات، بچیوں کے ساتھ مسلسل بدفعلی کےواقعات، رشوت ستانی پانی اورگیس،بجلی کے چوری کے مسلسل اور مستقل واقعات!اسے مزید گونگا کیےجا رہے ہیں ۔ یہ اچھی بات تونہیں! یہ تو سراسر اللہ کی ناراضی کےنشان ہیں۔ اخلاقی گراوٹ اتنی کہ پھوپھی، دادی، نانی،دا دا،نانا،ماں باپ یہاں تک کہ بچوں کیلئے وقت نہیں جبھی تو شیلٹرہوم، ایدھی ہومز،اولڈ ہاؤس، ڈے کیئراورگوشۂ عافیت جیسے مقامات بنتے جارہے ہیں۔ کیونکہ برداشت کی نہ ہمت ہےنہ ٹائم۔ صرف دنیا میں لگے ہوئے ہیں اور نا انصافیوں اور بےایمانیوں نے خود ہمیں دنیا کمانے پر لگا دیا ہے۔ فٹنس سینٹر امیروں کے چونچلے اور دل بہلواے ہیں جوایک الگ گو نگا پاکستان ہے۔ یہ ترقی نہیں تنزلی ہے کیونکہ اس گونگے پاکستان میں سب ہی معیارِ زندگی بڑھانے کے چکر میں لگے ہیں۔کیسے بھی ہو مال کماؤ،زندگی بناؤچل رہا ہے۔ ایسے میں چاہےرشتوں کا خلوص جائے یا احساسِ ذمہ داری اور فیملی نظام غارت ہو ۔۔ کوئی پرواہ نہیں! تو ہوانا گونگا پاکستان! امزہ تو تب ہے کہ عورتیں اپنا کردار مضبوط کریں حیا کو اپناتےہوئے اور رد شعوری قوام ہوں اورمغربی ہندوانہ تہذیبوں کو روندتے ہوئے آگے بڑھیں۔تعلیم اور خاص کر دینی تعلیم عام کریں۔
میڈیا کی فحاشی بے حیائی کو لگام ڈالیں اوراس ٹیکنا لوجی کی مشینی زندگی میں بھی اسی سےاستفادہ کرتے ہوئے دنیا اور اس کی آسائیشوں کو مقصد نہ بنائیں بلکہ آخرت کا فائدہ دیکھیں،نسلوں کی تعمیراس نہج پر کریں کہ صرف دنیا بنانے میں نہ لگ جائیں بلکہ آخرت ترجیحی بنیادوں پر بنانے کی کوشش خود بھی کریں اور اپنے اہل وعیال کی بھی کریں۔
پاکستان دراصل گونگا کیوں ہوا؟ اسلام کوہی چھوڑنے کی وجہ سے،ظاہر ہے ہم صرف دروس سن کر ،لیکچرزسن کریا دے کر یہ کام نہیں کر سکتے بلکہ ہم میں سے ہر فرد انفرادی اوراجتماعی کوششوں سے مل کر کام کریں مل کر رہیں۔ اپنے عزیز ترین اور عظیم ملک پاکستان کو بچانے کیلئے اپنا اصلی کام کریں۔ یعنی ایمان کا بیج اپنےاوراپنی نسلوں میں نہ صرف بوئیں بلکہ اس کی اس طرح ابیاری کریں کہ اللہ اوراس کےرسول کی محبت ہر معاملے میں غالب رہے۔ آج کے بچے کل کا اسلام کا قلعہ ثابت ہوں ۔ حیات طیبہ اور عمل صالح کا شعور رکھنے والے لوگ ہی دین کے فہم کو نسلوں میں اتارکر اپنا کردار نبھا سکتے ہیں، جب ہمارا خاند انی نظام اسلامی ہو جائے گا تو انشاء اللہ! اصل چیز تو کردار اور اخلاق ہیں جو ہمیں مادیت سے نکال کر انسانیت کی طرف لے جائے گا پھرپاکستان گونگا نہ ہوگا۔
رشتے اہم ہوں گے خلوص پروان چڑھےگا اور قوم کا کردار ان شا اللہ ہر جگہ بولے گا۔ اپنے عمل سے لوگوں کو خاص کراولاد کو سمجھائیں، احساسِ ذمہ داری ان میں پیدا کریں ۔ ان کی فکر کریں انہیں بھی آخرت کیلئے تیار کریں کیونکہ اُن کیلئے بھی ہم ہی سے سوال کئے جائیں گے۔ابھی سے آج سے اس گونگے پاکستان کو اپنے اچھے اعمال سے ایمان کے ساتھ سینچ کر گلستان بنانے کوشش میں زندگی بھر کی قربانیاں اللہ کی رضا کیلئے مستقل پیش کرتے رہیں۔





































