
لطیف النساء
ہر وقت ہمارا موضوع کیا ہوتا ہے جب کہیں چار لوگ جمع ہوتے ہیں کسی بھی طرح کی گیدرنگ ہو؟ اگر عورتیں ہیں تو وہی مہنگائی، فیشن، خاندانی جھگڑ
ے یا زیادہ ایڈوانس ہوئے تو ٹی وی ڈرامے۔ مصروف لوگوں کے پاس بھی یعنی سروس کرنے والی خواتین بھی اس کا کسی حد تک شکار ہوتی ہیں اور خاص کر مغربی دنیائے فیشن، کھانے پکانے، نئی تراکیب، نئی ڈیشز کا ایک چکر ہوتا ہے۔ بچوں کی تعلیم تربیت، ادب تہذیب تمیزموضوع عموما ًنہیں ہوتے! نہ ان کو دین کی زیادہ فکر ہوتی ہے نہ آخرت کی بلکہ لیٹسٹ کے چکر میں برینڈڈ کے چکر میں یا پھر اسٹیٹس کے چکر میں ہوتی ہیں۔ ب
چوں کو ایکٹیوٹی کے نام پر مختلف مشغولیات میں ملوث رکھ کرسمجھتی ہیں کہ وقت کا صحیح استعمال کر رہی ہیں مگر ایسا نہیں ہے۔ ہمیں تو بچوں کو صحت مند تندرست توانا بنانے کے ساتھ ساتھ دین و دنیا میں کامیابی کی فکر رکھنی چاہئے عموما ًدنیا میں جتنی کامیابی اور چاہے جانے کی فکر ہوتی ہے۔ دین کے معاملے میں ناکافی ہے۔ صرف قرآن پڑھنا سیکھا دینا نماز یں ادا کروادینا کافی نہیں بلکہ ہر لمحہ کو شکرگزاری اور مثبت سوچ کے ساتھ مقصدِ زندگی کیلئے ادا کرنا سیکھانا چاہئے۔
اپنے اور اپنے ماحول کے ساتھ ساتھ اس طرح عموما ًمردوں کیلئے بھی، ذرا لوگوں میں اکٹھا ہونے کا موقع ملا بہترین کھانےاورلوازمات کےساتھ ساتھ موضوع گفتگو، سیاست، کھیل اور پُر تعیش زندگی کیلئے ٹیکنیکس اور کاروبار ہوتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ زمانہ خراب ہونے کی شکایت کی جی ماحول بہت خراب ہے۔ لوگ ایسے ہو گئے ہیں، ویسےہوگئے ہیں، خود غرض ہیں، لفٹ نہیں کراتے، مکاری دیکھاتے ہیں، شو مارتے ہیں، ایسے ہیں ویسے ہیں۔ رشتے ناطے ہمیشہ شکایت لئے ہوتے ہیں۔ دراصل دوسروں کی برائیاں کرکے چاہےوہ کو لیگس ہوں، ساتھی ہوں، دوست احباب ہوں یا سیاست دان یا ڈرامے اور فلمی کردار یا واقعاتِ زندگی ہر جگہ،ہم دوسروں کی برائیاں کرکے بچ نہیں سکتے کیونکہ ماحول میں خود اپنا بھی عمل ہے۔ ہم ماحول کا حصہ ہیں اور ہمارا بھی ایک تاثر ماحول کو متاثر کرتا ہے۔ دوسروں پر تنقید کرنا آسان ہےاوراپنی اصلاح انتہائی مشکل بقول علامہ اقبال:۔
اپنے کردار پر ڈال کر پردہ
ہر شخص کہہ رہا ہے زمانہ خراب ہے
ظاہر ہے معاشرے کے سدھار کیلئے شخصی سدھاردرکار ہے۔ ہر بندے کواپنا محا سبہ کرنا ہوگا، موجودہ لمحے سے اپنےکردار کو مضبوط بناناہوگا اور صرف لمحے دولمحے کیلئے یا مخصوص جگہ کیلئے نہیں بلکہ ہر وقت ہر جگہ اور ہر دم بلکہ رہتی زندگی کے آخری لمحے تک اچھے اور مضبوط مثبت سوچ، نیت اور کردار کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ نیکیاں، اچھائیاں کرنا، شریعت پر چلنا اور برائیوں سے بچتے رہنا ہی ایک ایسا چراغ ہے جس میں نہ صرف مجھے روشن راستہ ملے گا بلکہ ماحول خود بخود روشن ہو جائے گا، اجالا ہو جا ئے گا تب ہی مزہ آئے گا۔
ہم کبھی اپنے مرحومین کے بارے میں یا بزرگوں کے بار ے میں سوچتے ہیں زیادہ تر کتنے اچھے ہوتے ہیں۔نرم طبیعت کے حامل، انکی محبت ان کا ظرف، انکے اخلاق نرم مزاج کیسے ہمیں متاثر کرتے ہیں۔ گویا کہ وہ روشنی تھے ہمیشہ دوسروں کے لیئے مددگار و معاون ان کا یہ عمل کیسے قابل تقلید نظر آتا ہے۔ انکے کردار کی، وفاداری کی، عاجزی و انکساری کی محبت کی کیا بات ہے۔ جو ہمیں اب بھی محظوظ کئے رکھتی ہے۔ بس کسی کے کام آجاؤ کسی کی مدد کرو، بخل نہ دیکھاؤ، صبر شکر کرلو۔
اللہ کی تقسیم پر راضی رہو شکر کے ساتھ تو زندگی کا مزہ ہی اورہےورنہ شکوہ شکایات توبندے کو جیتےجی مردہ کئے دیتے ہیں۔ مال اور وہ بھی دونمبر سے کمایا ہوا مال کبھی بھی سکون نہیں دے سکتا۔ اصل خوشی، اصل چیز مال کا صحیح اوراچھا استعمال ہے، اصل چیز نیکی اور بھلائی ہے،رحم کے کام ہیں کہ اگلا یاد رکھے کہ فلاں شخص نے یہ نیک کام کیا تھا۔ نہ دھوکا دینے والے کو کوئی یاد رکھتا ہے نہ دھوکا کھانے والے کو مگر دونوں ایک دوسرے کو کبھی نہیں بھولتے۔ یاد صرف وہ رکھے جاتے ہیں جو بے لوث ہوں، مخلص ہوں، لالچی نہ ہوں بلکہ نیک نیت اور پاکیزہ ارادہ رکھتے ہوں جب تمام ہی افراد (مسلمان) ایسے روئیے کے حامل ہو جائیں تو کوئی یہ نہ کہےگا کہ زمانہ خراب ہے کیونکہ زمانے کو برا نہ کہو کیونکہ زمانہ تم، ہم اور آپ ہی بناتے ہیں۔
ایسے ملا کرو کہ کریں لوگ آرزو
ایسے رہا کرو کہ زمانہ مثال دے





































