
لطیف النساء
آج صبح سب کام کاج سے فارغ ہو کر موبائل کھولا اس امید کےساتھ کہ اللہ پاک سب کچھ اچھا دیکھانا! مگراچانک ایک بندے کا انٹرویو دیکھنے
کو ملا جو صرف یہ کہہ رہا تھا کہ میں نے آج دکان نہیں کھولی ۔ بسم اللہ نہیں کی۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا کروں؟ بس صبر کررہا ہوں!پوچھا گیا تو آپ؟؟ بس پھر کیا تھا اچھا خاصا مضبوط جوان بندہ! آنکھیں بھرآئیں اور منہ چھپا کر روتے روتے کہنے لگے دیکھیں بھائی یہ حالات ہوگئے ہیں جبکہ رات دیکھا تھا کہ بجلی کا بل جمع کرنےجو بندہ گیا تھا وہ وہیں گر کر مر گیا اور لوگ اس کے گرد جمع ہو گئے اوربیوی بھی دھاڑیں مار مار کر رونے لگی! ۔
یا اللہ یہ مناظر! ہم کوئی پر دیسی ملک میں نہیں رہ رہےاور نہ غلام ملک میں! الحمد للہ ہمارا اسلامی ملک ہے اور ہم سب مسلمان، مگر یہ لمحۂ فکر سب کیلئے ہے کہ کیا ہم واقعی مسلمان ہیں تو پھر ہمارا شعار کیا ہے۔ طریقۂ زندگی کیا ہے؟ ہماری اخوت محبت اور مودت کہاں مرگئی؟ احترامِ انسانیت، عزت غیرت حمیت نام کی کوئی چیز ہم میں باقی نہیں؟ کیونکہ ہمارے اندر نہ خدا کی محبت ہے اور نہ ہی خوف خدایعنی جواب دہی کا احساس! تو پھر ہم اپنے ہی لوگوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں۔ ہر بندہ دوسرے کو لوٹ رہا ہے۔ مٹھی بھر مہذب ایمان والے جفا کش لوگ، بری طرح بے موت مر رہے ہیں۔ نچلا طبقہ نام کا تو وجودہی نہیں ہونا چاہئے۔ اگر ہم صحیح معنوں میں مسلمان ہوں! آج کی اہم ضرورت جو ہمیں موجودہ افسردگی، غربت، ڈر خوف، بد امنی اور بے روزگاری سے بچاسکتی ہے وہ تو کل اور خود اعتمادی محنت اورایک دوسرے کیلئے ہمدردی کا جذبہ مخلص اور بے لوث اور ساتھ ساتھ رب کوراضی ہرلمحہ رکھنے کی اپنی سی کوشش ہے۔ میرے نزدیک ناراض بندہ بھی اداس بندہ ہوتا ہے اور اداس بندہ اپنے سے بھی خفا رہتا ہے۔ ظاہر ہے اُس کے دل کی کیفیت رب جانتا ہے مگر آج کل جو مغموم حالات چل رہے ہیں ۔ اس میں سب سے زیادہ ضرورت خواتین کوپر اعتماد اورتحمل کے ساتھ رہتے ہوئے حقیقت کو تسلیم کرنے کی ہے ۔کبھی کبھی حالات بہت زیادہ خراب ہو جاتے ہیں۔ مرد حضرات با وجود اپنی محنت، ہمت طاقت اور کوشش کے بے بس ہو جاتےہیں اور کمائی نہیں ہو سکتی ہمت جواب دینے لگتی ہے۔ ایسے میں ماؤں بہنوں بیویوں اوربیٹیوں کاحق بنتا ہے کہ ان کی تکالیف کوسمجھیں،احسن طریقے سے ان کی پوری معاونت کریں۔ اپنی دولت، مال، وقت، طاقت، صلاحیت اوربہترین حکمت عملی کوکام میں لاتے ہوئے بلا تذلیل خوشی خوشی ان کا ہاتھ مضبوط کریں۔
ایسا تو انہیں ہر دم ہی کرناہےمگر مشکل حالات میں کئی گنا اضافہ کر کے اپنے قوام کو ابھاریں حوصلہ ہمت طاقت دیں! کہ یہی حکم ربی ہے۔ ظاہرہے آج کل سب لوگ پریشان ہیں۔ بجلی،گیس،پانی، ادویات،سفر، تعلیمی اورگھریلو اخراجات کی نوعیت اتنی خراب ہوگئی ہے اورہوتی جارہی ہے کہ دووقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ایسے میں اپنے جب سب طرف مایوسی ہوظاہر ہے ہمیں روشنی ہمارے واحد امید کے سہارے اس ایک رب العالمین کی طرف جاتی ہےجو ہماری تمام تر مشکلات کو فوراًحل کرسکتا ہے۔ عافیت دے سکتا ہے۔ساری کارسازی اسی کی ہے۔اپنی کوتاہیوں کی اصلاح کریں اور ایسے میں اگر ہم ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہرائیں گے،لڑیں گے، برا بھلا کہیں گے صرف ہنگامہ آرائیاں کریں گے۔ ایک دوسرے سےلڑتے مرتے رہیں، الزامات لگاتے رہیں تو مطلب مزید اپنا وقت انرجی دنیا وآخرت تباہ کریں گے ۔
بہتر یہی ہےکہ ہم اچھے صابرشاکربندوں کی طرح رہیں!عورتیں خصوصاً بے جا اخراجات نہ کریں۔ نہ زیادہ آرام طلبی اورآسائش کے چکرمیں رہیں، اپنی خواہشات کے لامحدود جال کوسمیٹیں اورسادہ کھائیں۔ سادگی سےپہنیں، اوڑھیں، میڈیا سےبچیں، بچوں کو بھی شکر گزاری اور ضبط و تحمل کا نمونہ بن کر دکھائیں۔کسی بھی کمانے والے"اپنے قوام " پراس حد تک بوجھ نہ ڈالیں کہ وہ کچھ الٹا پلٹا کرجائے!مجبور ہو جائے یاغلط راہ اختیار کرلے۔
اللہ نہ کرے خود کشی! نہیں نہیں کبھی نہیں یہی تو ہمارا ہارسنگھار ہیں ۔ انہیں مطمئن اورخوش رکھیں ان کےساتھ تعاون کریں ۔ وہ بھی خوش اسلوبی اورنیک نیتی کے ساتھ، مخالفت نہ کریں کہ ان کو ذہنی مریض بنا کر ساری زندگی برباد کریں اپنی بھی دوسروں کی بھی!۔
کسی بھی گھر کی خوش حالی مردعورت کےتعاون ومعاون میں۔ ایک دوسرے کی شیئرنگ اورکیئرنگ سےمشاورت اورمعاونت ہے مخالفت اور انا نہیں۔ اس کیلئے رب سے جڑے رہنا ضروری ہے۔رب تعالیٰ ہمیں اتنی آسانیاں دیتا ہے نعمتوں کو دیکھیں جو آپ کو حاصل ہیں انکا شکرکریں، آسانیاں بانٹیں اپنی وفا اور جفا سب کچھ سب اپنے لوگوں پر نثار کردیں ہمیشہ قلیل لوگ غالب رہتے ہیں چند لوگوں کی قربانیاں ہی رنگ لے آتی ہیں میں مگر یہ نہ سوچیں یہ چند لوگ کوئی اور ہوں گے؟
اپنے حصے کا کام کریں شکوہ شکایت ہمیں زیب نہیں دیتا۔ وہ تورحمٰن ہےہزارہا گناہوں کو معاف کرکے آپ کی ایک تو بہ قبول کرلیتا ہے۔ ہمیں حیا آنی چاہیے اللہ سے اس کو کیا منہ دیکھا ئیں گے؟ دنیا دنیا، دنیا کی آسائشیں! یہ چند دنوں کی دنیا اور اس کی آسائشیں ہمیں رب سے دور کررہی ہیں اس لئے ہم مشکل میں ہیں، بے چین اور بے بس ہیں۔ رب کی محبت اور شکر گزاری اطاعت ہی دراصل ہماری تمام الجھنوں کی سلجھنیں ہیں۔ جس کی وجہ سے ہم نہ صرف دنیا حاصل کرسکیں گے بلکہ آخرت بھی کما جائیں ،گے۔ اللہ پاک ہمیں ہدایت دے آمین۔
vif





































