
لطیف النساء
شکرالحمدللہ کتنے خوش نصیب ہیں ہم مسلمان!جنہیں قرآن مجید جیسی الہامی کتاب رہتی دنیا تک کی بھلائی کیلئےعطاکی گئی ہے اوراس کے مطابق
عمل کرنے پر تو یہ مکمل ضابطۂ حیات ہمیں آخرت کی کامیابی یعنی ابدی کا میابی عطا کرے گی۔ سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ ہمیں آخرت کی کامیابی عطا فرمائےکہ وہاں کی کامیابی ہی دراصل "اصل کامیابی"ہے۔حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا جس کوقرآن نے میرے ذکراورمجھ سے سوال کرنے سے مشغول رکھا اُسےمیں اُس سے بہتردونگا جو مانگنےوالوں کودیتا ہوں اورکلام اللہ کی فضیلت دوسرے کلاموں پرایسی ہی ہےجیسی اللہ عزوجل کی فضیلت اس کی مخلوق پر ہے۔ اللہ کی معرفت اس کی مخلوق سے عیاں ہے۔یہ زمین،آسمان، ٹھاٹے مارتے سمندر،دریا، ہوائیں، سورج، چاند، ستارے ان گنت مخلوق انواع و اقسام کی ہمیں ہر لمحہ دعوت ِفکر دیکر ہمارا ایمان بڑھاتی ہیں مخلوق سے محبت اور خالق کی پہچان سکھاتی ہیں۔ ان میں سب اپنا اپنا کام کر رہے ہیں۔
اپنے خالقِ حقیقی کے مطیع وفرمانبردار ہیں جبکہ انسان جس کیلئے کائنات تخلیق کی گئی مگر ساتھ میں اسے حرام حلال کا شعوردیکر اختیار دے دیا گیا۔ واضح اورپاکیزہ آخری کلام اور بہترین نمونہ آپؐ کی ذات کے ساتھ ارسال فرما کر ختمِ نبوت کا اعلان کر دیا گیا۔ قرآن جیسی نعمت مل جانے کے بعد جو رہنمائی ہے، شفا ہے،دعا ہے، دوا ہے۔ شریعت طریقہ زندگی ہے تو پھر کسی ہجت اور اعتراض کا موقع نہیں۔ بار بار پڑھی سمجھی غور کی جانے والی،عمل کی جانے والی اور ابلاغ کی جانے والی کتاب "قرآن" کو ہی فضیلت دی گئی ہے ۔ بار بار پڑھنے کو کہا گیا ہے۔ جب جب پڑھو گے احکامِ الٰہی سامنے آکر عمل سدھا ریں گے۔ آج کے تناظر میں ہر فرداپنا عمل دیکھے!ہاتھ میں ہمہ وقت موبائل، بڑاچھوٹا، نوجوان، بوڑھا، عورت مرد،یہاں تک کہ تین ماہ کا بچہ تک اسی فتنے موبائل کا مارا ہے۔ اسی کودیکھ کردودھ پیتا ہےاورامائیں بچوں کو کھانا کھلاتی ہیں۔ وہ کیا کھاتا ہے۔ اسے نہیں معلوم بسا اوقات تو موبائل میں مشغول لیپ ٹاپ میں مصروف بندوں کو تک معلوم نہیں ہوتا کہ کیا کھا رہے ہیں کیا پی رہے ہیں؟ کون سامنے ہے کون ملنے آیا ہے یا کون ناراض ہو کرلوٹ گیا، روٹھ گیا، مایوس ہو گیا۔ یہاں تک کہ ناطہ تک توڑ گیا! اس فتنے کانے دجال موبائل کی وجہ سے،میاں بیوی تک پرائےہو کر رہ گئے ہیں کہ کہیں یہ اماں بنا ہےتو کہیں ابا تو کہیں سوکن تو کہیں بدترین رقیب ہے۔ یہی اصل خسا را ہے۔ گویا موبائل پر اپنا قیمتی وقت اورزندگی ضائع نہ کریں۔
ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ ہم کیا کررہے ہیں؟ کیوں کررہے ہیں؟ انسانوں کیلئےآسمان سے قرآن اترا تھا موبائل نہیں! لہٰذا جوہمارے لیے رب کی جانب سے اتارا گیا عملی نمونہ دیکھایا گیا ہم اس کی اتنی قدرنہیں کررہے اورنہ ہی اسے اپنا کو الٹا ٹائم دے رہے ہیں توہم کیسے ہدایت پا سکتے ہیں؟ صرف پانچ وقت کی نمازیں پڑھ لینا ،وہ بھی عادت سمجھ کر اور ان میں ہدایت مانگ لینا عادت سمجھ کر! یہ مناسب نہیں، ہمیں سنجیدہ ہونا پڑے گا۔ تمام عذاب شدہ قوموں کی برائیاں اپنا کر بھلا ہم پنپ سکتے ہیں؟ ساتھیوں واقعی ہم حدود کو توڑتے جارہے ہیں۔
پریشانیوں مصیبتوں اور نا کامیوں پرسچی توبہ اورسجدہ شکرکی ضرورت ہوتی ہے ناکہ بکھرے ہوئے پتوں کی طرح بس موبائل گھماتے الگ دنیا بسا کر بیٹھ جائیں اورپہلو میں بیٹھے بے بس بے کس تک کی فکرنہ ہو! یہ زندگی نہیں۔ زندگی تو امتحان ہے،ہر لمحے کا ہر گھڑی کا! پھونک پھونک کر حلال طریقے سےگزارنے کا۔ حرام موت کو گلے لگانا اور بڑا گناہ ہے۔ خود کیلئے بھی دیگر اہل خانہ اورمعاشرے کیلئے بھی۔ اس جرم کا سوچیے گا بھی نہیں، شیطان تو ہے ہی ہمارا کھلا دشمن وہ قدم قدم پر ہمیں بھٹکاتا ہے۔ لہٰذا ہر نئی ایجاد کا ضرور تاً درست استعمال کریں کہ ہمیں آنکھ کان اور دل دیئے انکا غلط استعمال گناہ نہیں تو اور کیا ہے؟ اپنی محنت تو کل صبرشکر یہی تو زندگی کا حسن ہیں۔ رشتے ناطے احساس سے جڑے ہوتے ہیں۔ تقدس اسی میں ہے۔
رشتوں کا ٹوٹنا چھوٹنا در اصل احساس کےمرجانے کی وجہ سےہوتا ہے،جومرنے جدا ہونے سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہوتے ہیں ۔ لہٰذا ہمیں ہروقت اپنے مرکز اپنے دین اپنی آخرت اور موجودہ وقت گویا زندگی احسن طریقےسے قرآن کے مطابق گزارنی ہے۔ شریعت پرچل کرہی زندگی کوحیات دینی ہے، ورنہ سوائےخسارے کےکچھ نہ ہاتھ آئے گا پھر وہی بات کہ محنت بہت ایمانداری اورتوکل وقت کےامتحان سے احسن طریقے سے گزرنا، بقول شاعر:
تندِیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عُقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کیلئے





































