
لطیف النساء
کہنے کو ہم مسلمان ہیں مگر ہمارے طورطریقے انداز اسٹائل، لباس، پکوان، خوان،فیشن، تہوارتک مغربی نشےمیں چور ہیں۔ گھروں میں اشیاء کا جائزہ لے
لیجئے۔ ڈھیروں استعمال کی چیزیں دیکھ لیں کھانے، نہانے، پہننے ،پہنانے،ڈیکوریشن کی اشیاء تمام کی تمام مغربی تہذیب کی عکاسی کرتی ہیں۔
ایسے میں ہم دھوکہ کھا بیٹھےہیں اوراسے ہی اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ ایک زبان کامسئلہ ہی دیکھ لیں اتنا نمایاں فرق ہے،انگریزی کو کتنا حاوی کردیا گیا ہے کہ صرف انگریزی سیکھنے سکھانے کے چکر میں والدین خود گھن چکربنےہوئے ہیں۔ انگریزی سیکھنے کے چکر میں بچوں کو پھرایک ایسی دنیا مل جاتی ہےجو حیا سے تہذیب سے عاری من مانی من چاہی ہوتی ہے۔
کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال ہی بھول گیاوالی بات ہے۔ بڑے اسکولز،بڑے کا لجز اور ٹیکنالوجیکل اداروں کی بھرماراورباہر جانے کا شوق اور پھر جو چلےگئے ان کا فخر و غرور اورپیچھے رہ جانے والوں کیلئے مضحکہ خیز طعنے،القابات یہ کس بات کی دلیل ہے؟ آج بھی انگریزی اسٹائل کے کپڑے پہننااورگیٹ اپ رکھنا ترقی کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔
گویا" جسموں کی غلامی تو ہو گئی ،ذہنوں کی غلامی باقی ہے" والی بات ہے ہم اب تک ذہنی غلام ہیں ہمیں خودپراعتماد نہیں اپنی زبان بولتےہمیں شرم محسوس ہوتی ہےتو ہم کیا ترقی کریں گے؟اپنی زبان اور اس کا علم ہی ہمیں آگے بڑھائےگا، زبانیں چاہے جتنی سیکھ لیں لیکن اخلاق، آداب،اطوار،تہواراور تہذیب جو اپنی زبان میں ہے کبھی کسی اور زبان میں نہیں ہوسکتی!علامہ اقبال جیسےشاعر کے ہوتے ہوئے بھی اگر ہمارے نوجوان شاہین نہ بن پائیں تو پھربڑے ہی شرم کی بات ہے۔
یہ پورا کا پورا کریڈٹ والدین کو جاتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کیسے اپنی تہذیب اپنی مٹی سے محبت سکھاتے ہیں؟ کیسے نمونہ بن کر ان کی بہترین رہنمائی کرتے ہیں ۔ ہم قطعی نا امید نہیں لیکن پُرامید بھی نہیں کیونکہ آوےکا آوا بگڑتا جا رہا ہے۔ اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیےکہ ہم آزاد ہیں جوانسانی عظمت کہلاتی ہے شکرصد شکر! لیکن اس کا مقصد بھی تو سمجھیں کہ ہمیں رب نےسب کچھ دے کرآزاد چھوڑ نہیں دیا بلکہ وہ رب کی بندگی پر ہی مامور رہے گا۔ اللہ تعالیٰ کی واحد ذات کی بندگی ہی دراصل اس کی اصل آزادی ہے۔ ورنہ بربادی ہی بربادی کیونکہ جب ایمان کمزور تو سمجھیں بندہ بے کار۔ آج حال دیکھ لیں فلسطینی کس طرح اپنی آزادی کی خاطر جانوں کے نذرانے دے رہے ہیں۔
اگر چہ ظالم دشمن ہی نہیں بے ضمیر اور ضعیف العقیدہ مسلمان بھی ان میں شامل ہیں جوحوصلہ نہیں رکھتے حق سے ٹکرانے کا۔ اُن میں ہم بھی شامل ہیں اتنے سست،کاہل،مقروض، ہاتھ بندھے ہوئےغلاموں سے بد ترہوکررہ گئے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہےکہ ہم وہ نہیں ہیں جو نظر آتے ہیں۔ سورۃ صف میں صاف کہا گیا ہے کہ "اے لوگوں تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں " ہمارے ضمیر صاف نہیں پھر بھی رب نے عزت رکھی ہوئی ہے،ڈھیل بھی دی ہوئی ہے، ہمیں بلکہ تمام امت مسلمہ کو اپنے نشہ مغربی تہذیب کی مرعوبیت سےنکل کراتحاد تنظیم اور یقین کےساتھ اپنے روٹ کی طرف واپس آنا ہوگا۔ اپنےمرکز اپنے مقصد کو نصب العین بنانا ہوگا،جب ہم خود مضبوط مستحکم مومن بننےلگیں گے رب سے جڑنے اور شریعت پر عمل پیرا ہونے لگیں گے تو دوسروں کے بھی دکھ درد کو نہ صرف محسو س کریں گے بلکہ ان کی خاطر جان کی بازی لگا کر اپنے مسلمانوں کا کیا، اللہ کی ہر مخلوق کا خلوص دل سے حق ادا کریں گے۔
اپنی مٹی پر ہی چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگ مرمر پر چلو گے تو پھسل جاؤ گے
ہمیں ہر حال سجدہ شکر ادا کرتے ہوئے جہالت کے اندھیروں سے نکل کرہدایت "نور ہدایت " میں آنا، ضمیر جگانا ہوگا اور مظلوموں کی ہر حال میں مدد کرنی ہوگی ہر لیول پر اوراس طرح اپنے رب کو راضی کرنا ہو گا۔





































