
لطیف النساء
ہرزندہ مخلوق جسم اور روح لئے ہوتی ہے۔ایسی مخلوق کی ہزارہا قسمیں ہیں۔ کتنے خوبصورت رنگ برنگے طوطے،چڑیاں، پھول، مچھلیاں، درخت کے پتے،
چرند پرند اور تتلیاں وغیرہ وغیرہ پھر ہزارہا
اقسام کے چرند پرند حیوان اور انسان۔ جی ا نسان کو بھی دیکھئے؟ ان میں بھی کیسی کیسی اقسام ہیں۔ رنگ مختلف، لباس،زبان مختلف تہوار،علا قے، موسم مختلف اگر چہ سب کو سب سے ہی کم وبیش واسطہ پڑتا ہے لیکن وہ سب ہی اس خطہ زمین کے باسی ہیں۔ وہی زمین و آسمان ان کا گھر ہے زمین کے سینے پرکیسے چوڑے ہو کر چلتے ہیں۔ نعمتیں، رحمتیں ملنے پر کیسے اکڑتے ہیں ،دندناتے ہیں۔ یہ انسانی مخلوق جسے للہ تعالیٰ نے کتنی عزت اور بڑائی دی ہے خلیفۃالارض بنا کر بھیج دیا پھر اشرف المخلوقات میں شمار کیا! غور کریں! یہ انسانی جسم دوچیزوں کا مرکب ہےمادےسےاور روح سے۔ مادی ہے اس لئے مادی اشیاء کا ایسا محتاج ہے کہ ہوا، روشنی، پانی، اجناس مٹی،زمین،غذا ہوا کھانا پینااس کے بغیر اس کا مادی وجود برقرارنہیں رہ سکتا چند دن تو شاید جی لےمگربعض مادی اشیاء جیسے ہواپانی کے بغیر چند گھنٹے بھی نہیں رہ سکتا! اب رہ گئی روح جو اللہ نے پھونکی ہےیہ روح ہی جسم کی جان ہے۔ روح پرواز کرگئی تو سمجھو جسم نے بھی مٹی ہونا شروع کر دیا۔ کیسی محبتیں ڈالی ہیں ان انسانی جسموں میں یعنی انسانوں میں!کہ رشتے آسمانوں پر بنتے ہیں اور یوں گھر، خاندان، قبیلے، علاقے، شہر، ملک بنتے چلے جاتے ہیں مگر سوچنے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے جسم کا کتنا ہر دم خیال رہتا ہے۔اس مادی جسم کیلئے ہم کیا کچھ نہیں کرتے؟ پاؤڈر، کریمیں، میک اپ، وٹامنز، غذائیں، متوازن غذائیں ہر وقت اس جسم کی خوبصورتی اور مضبوطی میں لگے رہتے ہیں، سوتے ہیں گھنٹوں آرام کرتے ہیں۔ غرض ہر ہر وہ حربہ استعمال کرتے ہیں جو ہمیں پھرتیلا اسمارٹ خوبصورت جوان رکھے۔بس تمام تر کوششیں اسی کیلئے ہوتی ہیں پھر روح کا کیا؟ اس کی تو ہمیں فکرہی نہیں! اس کی غذا کیا ہے بہت کچھ معلوم ہوتا ہے مگر پھر بھی ہم اس سے غافل ہیں۔نیک اعمال،صالح صحبت، عبادات، شریعت کی پیروی ہی اس مادی جسم کی روح کی غذا ہے۔ اس کا ہمیں علم ہونے کے باوجو ہم غافل ہیں۔ ہم ایسے منصوبہ بندی کرتے ہیں جیسے ہمیں مرنا ہی نہیں! حالانکہ ہمیں ہر دم واپس لوٹنے اور رب کو جواب دینے کا احساس ہونا چاہیے۔ ہمیں نصب العین کی خبر اور فکر رکھنی چاہئے بہر حال دیکھیں اس مادی جسم کا روح نکلتے ہی انجام کیا ہوتا ہے اور وہ کیسے رزق خاک ہو جاتا ہے۔ تدفین کے 14 گھنٹے بعد کیڑوں کا گروہ پورے جسم پر حاوی ہو جاتا ہے۔ گویا جسم کے پوشیدہ رہ راستے سے نکلنے والے یہ کیڑے گوشت خور کیڑے مکوڑوں کوبدبو کے ذریعے دعوت دیتے ہیں۔ تدفین کے تین دن بعد ناک دب جاتی ہے چھ دن بعد ناخن اور نو دن بعد بال جدا ہو نا شروع ہو جاتے ہیں۔ پیٹ پھولتا پھولتا سترہ دن بعد پھٹ کر دیگر اجزاء کو باہر نکال دیتا ہے۔ تقریباً دو مہینے پورے جسم کا گوشت اور پانی تقریبا ًغائب ہو جاتا ہے صرف ہڈیاں بچ جاتی ہیں اور تین ماہ بعد ہڈیاں بھی ایک دوسرے سے جدا ہونے لگتی ہیں۔پھر سال بھرمیں ہڈیاں بوسیدہ ہو جاتی ہیں اور خاک میں مل جاتی ہیں گویا انجام کیا ہوا؟ مٹی کا مادی جسم مٹی ہو گیا صرف روح پرواز کر گئی۔
مٹے نامور نوجواں کیسے کیسے
زمین کھا گئی آسمان کیسے کیسے؟
یعنی جس انسان کو دفنا یا گیا تھا اس کا وجود ختم ہو جاتا ہے۔ تو پھر ساتھیوں ہمارے لئے کیا پیغام ہے دن رات کتنی ہی موتیں دیکھتے ہیں اور اپنی موت سے بے خبر! تو ساتھیوں ہماری حرص، لالچ،دوستی دشمنی، جلن، بغض، عزت،وقار، نام، عہدہ، رتبہ، بادشاہی، دادا گیری کہاں گئی ۔ سب تو خاک میں مل گیا تو پھر میری آپ کی کیا حیثیت ہوئی؟ ظاہر ہے مٹی سے بنا مٹی میں ملا۔شکر اللہ کا زمین بھی نصیب ہوئی چھ فٹ کے بندے کتنا غرور کتنی اکڑ دوسروں کو حقیر سمجھنے والا مٹی ہو گیا۔ بس اس کا امتحان ابدی زندگی کا وہاں سے شروع!اس ابدی اور ہمیشہ کی زندگی کیلئے اسے ہی پر سکون بنانے کیلئے ہمیں ابھی سے ہرلمحہ فکر ہونی چاہیے۔ اللہ پاک کو ہمیشہ اس کی کبریائی کے ساتھ مانتے ہوئے اسکی ماننی ہے۔ اپنے نیک اعمال اور عبادات میں اخلا ص پیدا کرنا اورہر دم خاتمہ با الخیر کی دعا خود اپنے لئے اور کل امت مسلمہ کیلئے مانگتے رہنا چاہئے۔





































