
لطیف النساء
گلستان جوہرکے کسی بڑے ہال میں شادی کی تقریب میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں کا جو ماحول کھانا پینا تو جو تھا سو تھا جس کاغم زیادہ لگااور خوشی کم
بس دل سے دعا تھی کہ اللہ پاک اس مقدس رشتے بلکہ رشتوں کو جو دو بھائیوں اور ایک بہن کا تھا اللہ مبارک فرمائے اور اس کے تقدس کو سدا قائم و دائم رکھے کیونکہ بے شک والدین دادی دادا نے بڑے ارمانوں سے بڑی ہی پُرتکلف دعوت کی تھی اللہ پاک انہیں ان بچوں کی نیک نامیاں اور خوشیاں دکھائے، آنے والے مہمانوں مجھ سمیت اور میزبانوں کو اپنی حفظ وامان میں رکھے اورآئندہ ہم سب کو بےجا تصرف اور شوشا سےبچائے اورسب کو فطرت کے مطابق رب کی رضا کے مطابق کام کرنے کی اہلیت عطا فرمائے۔ آمین۔
صد شکر کہ اتنا بڑا کام رب نے آسان فرمایا تین تین شادیاں اکٹھا کرنا اور اتنےمہمانوں کا انتظام کرنا کوئی معمولی بات نہیں!مگر میرا رب مہربان جس سے یہ کا م لینا چاہے لے لیتا ہے بس ہم سب کو اللہ پاک اپنی رحمتوں اور برکتوں میں رکھے ہمیں اصراف سے بچائے اور دین پر چلتے رہنے پر کار بند رکھے۔ آمین۔ یہ تو تھی شادی کی بات! مگر اصل بات جو میں کرنے جا رہی تھی وہ راستے کے دشوار مناظر تھے جو کافی تکلیف دہ اور حیرت انگیر تھے۔ میں نے صرف سنا تھا کہ اسٹریٹ گرلزہوتی ہیں۔ اللہ نےشاید اسی لیے ہمیں دعائیں تک سیکھائیں کہ اللہ پاک برے نظاروں سے، برے لوگوں سے، بری صحبتوں سے اور حادثات سے ہمیں پناہ میں رکھے۔ ایک جھلملاتے چوراہے پر میں نے رات کے گیارہ بجےعبائے میں ملبوس مگرچہرہ سجا ہوا ہاتھوں میں موبائل ٹپ ٹاپ اسٹائل میں دولڑکیوں کو دیکھا جو بمشکل بیس سے پچیں سال کے درمیان کی ہونگی چوراہے پر بیٹھی آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھتیں کبھی اسٹائل مارتیں کبھی اتراتے دیکھا ۔ ارد گرد دیکھا کہ شاید گاڑی خراب ہو گئی ہے؟ مگر ادھر تو رواں ٹریفک تھا اور ٹریفک میں بھی ہر بندے کی نظریں راہوں پرکم اور ان لڑکیوں پر زیادہ تھیں ۔ میں نے اپنے شوہر سے کہا نہ جانے کیا ہوا ہوگیا بے چاری یوں بیٹھی ہیں؟ تو میرے بھائی کہنےلگے بھابی ماں یہ تو ہر چوراہوں کا حال ہے یہ تو ان کا روز کا معمول ہے اور واقعی میں نے تو صرف ایک طرف دیکھا تھا جبکہ دوسرے ہی لمحے سگنل پر جوان جہاں لڑکیوں کووائیپرز لیے گاڑی کا شیشہ صاف کرتے دیکھا کوئی منع کر رہاتھا تو کوئی بلا رہا تھا۔ ان کے بھی حلیے ایسے ہی تھے وہ تو مزید کم عمر لڑکیاں تھیں۔ پیٹرول بھروا کر باہر نکلتے وقت بھی راہوں میں ہاتھ پھیلائے لڑکیوں کو دیکھا! وہ مانگ بھی نہیں رہی تھیں مگردینے والے ہاتھ چھونے والےہاتھ لا تعداد مہربان قدردان! اللہ کی پناہ!کیسی تربیت ہے یہ کیسے والدین ہیں؟ ان کے کیسے محرم رشتے ہیں؟ اسلامی ملک میں یہ حال؟ اللہ تو خبیر ہے اورمانگنے والے دینے والے اورلینے والوں کی نیتوں تک سےواقف ہے بقول شاعر ایسا منظر ہے کہ
سب لوگ جدھر "وہ" ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں
ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
جگہ جگہ راہوں پرریسٹورینٹس کے سامنے سڑکوں کی فٹ پاتھوں پر بیٹھی عورتیں غبارے والیاں،پوری پوری فیملیاں،بچوں والیاں،مانگنے والے ہر عمر کے جوڑے ایک دوسرے کا بازو تھامے کیا کیا اداکاریا ں دکھا رہے ہیں جبکہ قریب قریب پولیس چوکیاں پولیس کانسٹبل اور دیگر گشتی فوجی گاڑیاں بھی ہوتی ہیں لیکن پھربھی کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں کہ اِن ان گنت معاشرے کے کردار! کیسا ہے یہ معاشرے کا بگاڑ! راستہ چلتے مرد عورت پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا کہ لمحے میں فقیر بن کربے بسی اور بے کسی کی کہانی سناکر لوٹنے والے الگ، اوور ہیڈ برجز پر بیٹھے مانگنے والے، وزن کر وانے والے اوروہیں پر مستقل ٹھکانا بنا کر بیٹھنے والوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں یہ کردار تو خود رو پودوں سے بھی زیادہ پھیلتے ہی جارہے ہیں لگتا ہے کہ اس سے بڑا مافیانہیں۔ یوں تو بے شمار منظم مافیاز اس معاشرے کا حصہ بنے ہوئے ہیں وہ بھی ڈنکے کی چوٹ پر! ان میں سے ایک مافیاچرسی، ہیروئنچیوں، افیمیوں کا بھی ہے جو کسی بھی جگہ کو بھیانک اور غلیظ بنائے جا رہے ہیں۔ یا تو یہ ٹولیوں کی شکلوں میں کچرا کونڈی، پرانے کباڑی، دکانوں یا درختوں کی چھاؤں میں بیٹھے بھنگ پی رہے ہوتے ہیں یا ادھر ادھر اکیلے کبھی چیتھڑے میں تو کبھی برہنہ اور کبھی نیم برہنہ نظر آتے ہیں جبکہ بعض تو لگتا ہے مرے پڑے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ مرے ہوئے ہی ہوں؟
سخت دھوپ میں فٹ پاتھوں پرسوتےنظر آتے ہیں۔ہسپتالوں کے ارد گرد کسی باغیچےمیں یاکسی کچی دیوار کے کنارے کونے کتروں میں بیٹھے عجیب عجیب حرکتیں کرتے یہ لوگ معاشرے کا بگاڑ! واقعی یہ کیسے کردا ر؟میرے نسبتی بھائی جو مجھے بھابی ماں کہتے ہیں میرے شوہر سے باتیں کرتے ہوئے بتا رہے تھے کہ کیسے عورتیں جمعہ کی نماز کے بعد مسجد کے دروازوں پر مردوں سے مانگنے کھڑی ہوتی ہیں؟ اگر کبھی سو پانچ سودے بھی دیں تو اگلی جمعہ پھر وہیں موجود پہچان کر مزید شدت سے مطالبہ کرتی ہیں!یہ کیسی عورتیں ہیں؟ان کی شرم و حیا کہاں ہے؟ اور ان کے مرد حضرات کیسے ہیں؟ جو اپنی عورتوں کو یوں چھوڑ دیتے ہیں! یہ دو طرح کے لوگ بھیک مانگنے والے جو چند کتابیں اگر بتی یا معمولی چیزیں ہاتھوں میں لیکر بیچتے بیچتے فوراً بھیک مانگنے لگتے ہیں یا جگہ جگہ اداکاریاں دیکھاکر لوگوں کو لوٹتے اور مستحق لوگوں کا حق مارتے ہیں۔ دوسرے چرسی موالی ہیروئنچیوں کا مؤثر گروہ جو بڑے سے بڑا جرم کر سکتا ہے کرتا ہے، خاندان کے خاندان رلوائے ہوئے ہیں۔ ان سے اگر معاشرہ پاک ہوجائے تو سمجھو ہم معاشرے کے تیسرے درجے کے کینسرسے چھٹکارا پا جائیں گے مگر اس کیلئے انفرادی اجتماعی اور حکومتی سطح پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ اگر پولیس اور دیگر لوگ خود بد نیت ہوں ملے ہوئے ہوں۔ خوف خدا نہ رکھتے ہوں اور ان برائیوں سے بچنا ہی نہ چاہتے ہوں تو یہ معاشرہ مزید برائیوں کے دلدل میں پھنستاچلا جائے گا۔ دینی تعلیم کو اپنے اوپر لازم کریں، اپنے بچوں کو محنت کی عظمت سیکھائیں خود ہی رول ماڈل بنیں،ایمانداری سیکھائیں عزت اور وقار سے محنت کی عظمت حلال کمائی اور اس کی برکات سمجھائیں تو ان بد کرداروں جیسے موذی امراض سے معاشرے کو پاک کیا جا سکتا ہے بلکہ ان کا پاک کر نا ہم سب پر فرض ہے۔ بھیک نہ دو بلکہ روز گاری کا ہنر دو، غربت دور کرنے کی حکومتی سطح پر کوششوں میں معاون و مددگار رہ کر ہم اپنے معاشرے کے بگاڑ کو سدھار میں بدل سکتے ہیں۔اپنی کسی بھی معذوری کو مجبوری نہ بنائیں بلکہ صبر شکر کے ساتھ کسی بھی طرح کا جائز کام کر کے محنت سے حلال روزی کمائیں دنیا اور آخرت سنواریں کہ یہی محنت اللہ کو محبوب ہے اور یہی انسانی ترقی ہے اور پُر امن معاشرہ۔





































