
لطیف النساء
وائٹ کوٹ کا لفظ تو سنا تھا اور میں صحیح سمجھی تھی کہ یہ لفظ تو ڈاکٹروں کیلئے کہا جاتا ہے، پاکیزہ سفید شفاف لباس اوربا وقار کردار؟ ایک
الگ ہی پہچان ہے معاشرے میں، ڈاکٹر زکوعموماً مقدس شخصیت اور انسانوں کا مسیحا بھی کہا جاتا ہے۔ صرف ٹی وی پرخبروں میں تھوڑی سی معلومات ملیں کہ" وائٹ کوٹ مارچ" واقعی دل خوش ہو گیا۔خراجِ تحسین پیش کیا جانا چاہیے۔اس مارچ کے تمام شرکاء اورمنتظمین کو جنہوں نے واقعی فلسطینی بھائیوں کیلئےایک پلیٹ فارم پر اتنا اچھا کام کیا اور دنیا کےسوئے ہوئے ضمیر جگانے اورمظلوموں کی یکجہتی اورحق کا ساتھ دینے کیلئے اکٹھے ہوئے۔
میں یہی سوچ رہی تھی کہ ہمارے ملک کے ڈاکٹرزان کی ٹیمیں کیسےفلسطینی مسلمانوں کی وہاں کے ڈاکٹروں کی ہرممکنہ کوشش کرنےجان بچانے اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنے تیار بیٹھے ہیں مگر کیا مجبوری ہے،کیسی بے بسی اور بے کسی ہے؟ دنیا کے مسیحا سب کچھ جانتے ہوئے بھی کچھ کرنےبولنے کوتیارنہیں کیوں؟ جبکہ یہاں دیکھیں نا جائزغاصیبوں نےکیسی درگت بنادی ہے؟اپنی ایٹمی طاقت اوراسلحہ کا بے دریغ استعمال اور اپنی ہاری ہوئی بازی کا" غصہ "نہتے مسلمان بچوں، عورتوں، ضعیفوں یہاں تک کے بیماروں پر بمباری کرکےاتار رہے ہیں۔ انہوں نے تو ہسپتال، مساجد، یتیم خانے،مکان، دُکان، ایمبولینس اور ریسکیو ٹیموں تک کو نہ چھوڑا! ایسا لگتا ہے کہ جنونی ہوگئے ہیں اورہر طرح سے توڑ پھوڑ کرکے اجاڑ اجاڑ کر دل کرجنون کی آگ بجھانا چاہتےہیں اوراس شیطانی عمل میں ان کا ساتھ امریکہ اوربرطانیہ کی شیطانی شرپسند قوتیں،بے ضمیر حکمران جنہیں اپنے نقصان کا اندیشہ ہے،وہ اب تک دے رہے ہیں اور جو بھی اس ظلم پرخاموش ہے اور اسرائیلی بربریت کےخلاف نہیں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی شامل جرم ہیں ورنہ اتنے سے اسرائیل شیطان کی اتنی جرات نہیں کہ وہ 68 دن تک(علاوہ چھ دن) وقفے سے بمباری وہ بھی کیسی بمباری کر رہا ہے؟
سلام ہے نہتے اوردلیرفلسطینی مجاہدوں کو جو مسلسل مشکلات پر مشکلات سہہ رہے ہیں اب تک تقریبا ًاٹھا رہ ہزارافراد لقمہ اجل بن چکے ہیں مگر سبحان اللہ ہماری یہ مسلم افراد کی جان رائیگاں نہیں بلکہ وہ تو شہداء ہیں۔ انکا جذبہ دیکھیں ڈاکٹر زکی اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی عوام کی جرأت اور پختہ ایمانی طاقت دیکھیں! کیسے اپنوں کو مرہم پٹی کے بنا درد دور کرنے کی دواؤں اور بے ہوشی کی دواؤں کے بغیرآپریشنز کر رہے ہیں،اعضاء جوڑ رہے ہیں! اسی ڈاکٹر نے کیسے اپنے معصوم بیٹے کی ٹانگ کاٹی جانے پر دفنانے تک کی نوبت نہ کی اور فوراً دوسرے مریضوں کو دیکھنے میں مصروف ہو گئے۔
اسی طرح سرمیں کیسے وہ ڈاکٹر ٹانکےلگارہے تھے اوروہ بچہ معصوم بنادوا اور بے ہوشی کے قرآن کی تلاوت کرکےرب کی رضا چا ہ رہاتھا۔ سبحان اللہ۔اس مارچ میں سارے ڈاکٹرز کیسے اپنے جذبہ ایمانی اور ظالمانہ سلوک پر دنیا کو،عالمی اداروں، امن کمیٹیوں کو، جھنجوڑ رہے تھے کہ وہ کیوں اس قتل عام پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں؟ جب یہ فلسطینیوں کا جائز حق ہے انہیں کیسے ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ زمینی اورفضائی حملے بھی ان کی قوت ایمانی کے آگے سرنگوں ہیں! وہ بے چارے بھوکے پیاسے غم کے مارے اپنے سامنے اپنے پیاروں کو زخمی چیختےچلاتے بچوں کو بلبلاتے تے دیکھ رہے ہیں،فریاد کر رہے ہیں اور ہماری حکومت کیا تمام عرب ممالک صرف زبانی بیانی اقدامات کر رہے ہیں۔ سب سے پہلے تو جنگ بندکروائی جائے،بمباری رکوائی جائے۔ اس مارچ کیلئے ڈاکٹرز نے یک زبان ہوکر تکبیربلند کی کئی بار اور فلسطینی عوام کی آزادی کیلئے نعرے لگوائے خود لگائے پروگرام کافی منظم اور قابل تحسین رہا کیونکہ کم از کم انھوں نے انسانیت کے مسیحاؤں نے حق کیلئے آو از تو اٹھائی اوراپنے حصے کا کام چڑیا کی چونچ جتنا پانی تو اس نفرت کی آگ پر ڈالا اور باور کروایا کہ یہ ہمارا نصب العین ہے کہ انسانیت کی خدمت کی جائے اورجان بچائی جائے۔
اداروں کے سر براہان اور اعلیٰ شخصیتوں نے خطاب کیا۔ محترم حافظ نعیم نے بھی اپنے جذبے کا اظہار بڑی خوبصورتی سے کیا دل کی بات کی کہ اس کمیٹی کے ارکان کیوں بے بس ہیں کیوں؟ ہماری اور دیگر ممالک کی مسلم افواج خاموش ہیں؟ ایٹمی ہتھیار کیا سجانے کیلئے رہ گئے ہیں؟ لبیک یا اقصیٰ کی صدائیں تھیں یکجہتی کا اظہار تھا گویا شرکت کی چاہ تھی۔ ایسا ظلم واقعی کبھی کسی نے نہ دیکھا ہو گا کوئی موذی جانوروں کوبھی یوں نہیں مارتا! یہ ظلم اللہ کبھی کسی کو نہ دیکھائے ہماری تمام تر کوششوں کا مقصد فلسطین کی آزادی اور جنگ رکوانا اور جلد از جلد رکوانا ہے۔ اُدھر اُن کی استقامت دیکھیں خاندان کے خاندان اجڑ گئے مگر بچے کچے لوگ بھی زخمی بھی اپنی جگہ چھوڑنا نہیں چاہ رہے کتنا ایمان کیسا یقین! رب کی رضا اور خوشنودی کیلئے ساری دنیا کے سامنے تن من دھن کی بازی لگائے جا رہے ہیں جبکہ میڈیا بھی کھل کرنہیں بتارہا کیوں ان کی تو بجلی نیٹ ورک سب کچھ بند کیا ہوا ہے باقی تباہ ہو چکا ہے کوئی ہسپتال اور پناہ کی جگہ نہیں،چھوٹے معصوموں کے انکیوبیٹر تک بچوں سمیت تباہ کرنے والے انسان نہیں ہو سکتے۔
نعیم بھائی نے واقعی اس سنجیدہ مارچ کو جیسے" وائٹ کالر مارچ "کا عنوان دیا گیا تھا بتایا کہ یہ کھلا احتجاج ساری دنیا کے ڈاکٹر زکیلئے چیلنج ہے کہ جان کی حفاظت سب پر فرض ہے بلکہ اب تو ہر مسلمان پر اس جہاد کو فرض عین سمجھنا چاہئے اور اسے ہر لیول پر ہر جگہ جاری رہنا چاہئے۔ پوری دنیا میں ایسا احتجاج نہیں ہوا۔ اللہ تعالی ہماری اس چھوٹی سی کوشش میں اپنی جانب سے ایسی طاقت ڈال دے کہ دشمنوں کا منہ ہمیشہ کیلئے کالا ہوجائے اور اسرائیل اور اس کے حامیوں کو چاہے وہ جو بھی ہومنہ کی کھائے فلسطین اور اس کے غیور عوام ہمیشہ کامیاب و کامران فاتح رہیں اوررہتی دنیا تک سرخرو ر ہیں اور اگلے جہاں میں بھی عظیم کامیابی سمیٹیں۔ آمین۔8 6 دن تک اسرائیل کا اپنے غلیظ امریکیوں اور برطانیوں معاونین کے ساتھ بمباری کرنا خود ان کی اپنی ناکامی ہے۔ ا یٹم بموں کا مقابلہ نہتے لوگوں زخمیوں سے لینا مقابلہ نہیں درندگی ہے۔ اللہ ہمارے مسلمانوں حکمرانوں، جرنیلوں، کر نلوں کو نیک ہدایت دے کہ وہ اپنے ہتھیار اور حکمت عملی کو استعمال میں لائیں اور وقت پر کام میں لائیں۔ ہیروشیما اور عراق کے مقابلے تویہ جنگ، جنگ نہیں ظلم ہے اور کئی زیادہ تکلیف دہ ہے با ضمیر افراد چاہے وہ مسلم ہوں غیر مسلم ہوں ایک پیج پر ہیں۔ پھر بھی اقوام متحدہ اور امن کیمیٹیاں صرف نا کام اور نامراد ہوئی جارہی ہیں۔
ان کے قیام کا مقصد فوت ہو چکا ہے۔ ہمارے لیے بھی سبق ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور دیگر آئی ٹی کے میدانوں میں ترقی کریں علم حاصل کریں اور ان کی قوت کا مقابلہ ان ہی کے ہتھیاروں سے کریں تحیہ کر لیں کہ اب امریکہ اسرائیل اور سر پھِرے لوگوں کو ڈبونا ہے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے، اسلام کا عادلانہ نظام ہی باعث عزت و وقار ہے باقی سب بے کار ہے۔ اچھا ہوا کہ اس مارچ کے اہم نکات انگریزی میں بھی ایک مہربان استاد نے پیش کیے تاکہ دنیا کے کونے کونے میں پاکستانیوں کی آواز" حق کی آواز" پہنچنے اور فلسطینیوں کیلئے یہ آواز تقویت کا باعث ہو ہم تمام اہل ایمان مسلمان اسرائیل کی اسی نا جائز ریاست کو بالکل ختم کر کے فسطین کو آزاد کرانے کی جدو جہد جاری رکھیں گے اللہ ہماری مدد فرمائے۔ آمین۔





































