
لطیف النساء
بالکل درست ہے۔ اسلام آباد میں کانسرٹ، کالجوں، میلوں ٹھیلوں میں دیگرپروگراموں میں ناچ گانے، کھیل، سیاست کے نام پرجلسے جلوس اوریہاں
تک کے بچوں کے تفریحی پر وگرامز مجھے تو پھولوں کی نمائشوں کا خبروں پر دیکھ کر پہلے جیسا تاثر نہیں ملا مگر باقی گیمز، سیاست، ڈارمے، مختلف چینلز سے پیش کی جانے والی پاکستانی،پنجابی،انڈین فلمیں، بھرے بازاراور ریسٹور ینٹس،شادی بیاہ کی خرافاتی تقریبات بھی بے حسی لگنے لگی ہیں۔ ایک عجیب سا احساسِ گناہ ہےجو طبعیت کو ہمہ وقت بے چین کئے دیتا ہے، رہ رہ کر خیال آتا ہے۔
کوئی آس نہیں، احساس نہیں
دریا بھی ملا بجھی پیاس نہیں
بالکل درست ہے۔یہ کیسا ماحول ہے؟ یہ کیسی بے حسی ہے؟ اتنا سب کچھ ہو رہا ہے فلسطین لہو لہو ہو رہا ہے۔ اب تو زہر یلے بموں کے بھی نہتے بے بس، بے کس مسلمانوں پر حملے ہونے لگے اور وہ مجاہدین اپنی جانیں لڑا رہے ہیں اور دوسری طرف ہمیں کوئی عملی اقدامات کی رمق نظر نہیں آرہی۔ نہ کہیں بے چینی، سو گواری نہیں امت مسلمہ کیسی ہوگئی ہے؟ اپنے فلسطینیوں کیلئے،زخمیوں کیلئے،شہداء کیلئے دردنہیں، احساس نہیں وہی گلے شکوے اور وہی بے حسی، لا پروائی ہمیں کیوں دردِ انسانیت نہیں؟ کیوں ہمارے دل سخت ہوگئے؟کیوں 57ممالک کے سربراہان اور دیگر افواج، امن کمیٹیاں کچھ عملی اقدام نہیں کر رہے؟ لوگ مرے جا رہےہیں ،جتنا دکھا یاجا رہا ہے،اس سے کہیں زیادہ تباہی ہوگئی کیونکہ میڈیا کوریج نہیں دے رہا نہ دےسکتا ہے۔ صحافی بھی کہاں بچ رہے ہیں؟ لوگ مررہے ہیں،مارے جارہے ہیں،اب توزہریلی گیسوں کا استعمال سرعام! اللہ کی پناہ! اللہ اکبر!جانے کب ہوں گےکم اس دنیا کے غم۔ اللہ کی پناہ!مسلمانوں کیا اب بھی حرکت میں نہ آؤ گے؟سنانہیں جو بوؤگے وہی کاٹو گے! جانے والوں کو عبرت کی نگاہ سے تو دیکھو! آج یہ جا رہے ہیں کل ہماری باری ہے۔ موت کی تیاری ان سے سیکھو۔
موت وہ ہے کہ کرے جس کازمانہ افسوس
ورنہ آئے ہیں سبھی آئے ہیں مرنے کیلئے
انیس ہزار سے زائد لوگ شہید ہو چکے ہیں۔پچاس ہزار زخمی، گرفتاریاں! سوچیں؟ ہم کیسے زندہ ہیں؟ نفسا نفسی لگی ہوئی ہے قیامت صغریٰ دیکھ کر بھی!
کیا خاک وہ جینا جو فقط اپنے لئے ہو؟
خودمٹ کے کسی اور کو مٹنے سے بچا لو
غداروں کا کہنا ہے کہ جنگ کا مقصد یرغمالیوں کی رہائی اور حماس کا خاتمہ ہے!جھوٹ بڑا جھوٹ صاف نسل کشی ہو رہی ہےجبکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اسے ایٹمی جنگ سے بھی بڑھ کر قرار دے دیا ہے۔نظر آرہا ہےمگر قرار دینے سے تو انہیں خوشی ہے، بے سکونی، بے چینی، رنج غم نہیں۔ اس مسئلے کو امن کمیٹیاں، اقوام متحدہ حل کیوں نہیں کر سکتے؟ جانوروں کی طرح دو ڈھائی مہینوں سے مرنے کے لیے چھوڑاہوا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہمیں اُن کی بے رحمی اور منافقت دیکھاتے ہیں۔ قابل غورہیں تومتحرک توامت مسلمہ کوہونا چاہیے! وہ تو صرف باتیں بنا کر صرف اجلاس کر کے ویڈو بنا کرچاہتے ہیں مسلمان کم ہوں مرتےہیں تو مریں!یہی تو وہ چاہتے ہیں۔ بری طرح تباہ ہوا مال و اسباب لٹے، ترقی ہی نہ کر پائیں۔ان ہی جھمیلوں میں پڑے رہیں آپس میں بھی لڑتے رہیں اور ہم آگے بڑھتے رہیں! اب تو لگتا ہے مسلمان ہی مسلمان کا دشمن ہو تا جارہاہےکیونکہ ان میں ایکانہیں، اتحاد نہیں۔ اس لیے اتحادی قوت نظر نہیں آرہی عمل نظر نہیں آرہا۔ صرف ہاں میں ہاں ملا کرانگلی کٹا کر شہیدوں میں شمار ہونا چارہے ہیں۔ خلوص نظر نہیں آرہا محبت مقفود ہے،کہاں ہے بنیان مرصوص؟ دیواریں مضبوط ہیں جھوٹ کی، ہٹ دھرمی کی،انا کی،غلامی کی،دکھاوے کی کہیں سنا تھا کہ
آہنی کلیجے کو زخم کی ضرورت ہے
انگلیوں سے جو ٹپکے، اسی لہوکی حاجت ہے
مطلب ٹھوکر کھا کر سنبھلنا!تویاد رکھیں اللہ نگاہوں کے اشاروں اوردل کی نیتوں کا جاننے والا ہے! کیاوہی نہ جانے گاجس نے پیدا کیا؟ پاکستان کی سرزمین مادر زمین تڑپ تڑپ کر،دھڑک دھڑک کر،زلزلوں کے جھٹکوں سے تنبیہہ کر رہی ہے،لگتی ہوئی آگیں،حادثات،موسمی تبدیلیاں تنبیہ کررہی ہیں۔ یہ قیامت صغریٰ تک ہمارے ہی لیے وارننگ ہے۔کہ کیا تم بے خوف ہوگئے، آسمان سے جو تم پر پتھر برسائے کیا تم بے خوف ہوگئے۔ زمین سے جو تمہیں دھنسادے! سبق نہیں لیتے سب بھول گئے؟یاد رکھیں! وقت پر بھی اگرخاموش رہے تو یہ ظلم کےخلاف نہیں بلکہ ساتھ ہے اقرار ہے کیونکہ
وقت پر گر بات نہ مانی تم نے وقت کی
وقت پھروقت نہ دیگا تمھیں پچھتانے کا
میڈیا بھی وہ رول نہیں ادا کررہا جو کرنا چاہیے لیکن میڈیا کو بھی چلانے والےہم ہیں۔ تعمیری سوچ اورنصب العین کو یاد رکھیں! اللہ کبھی فساد کو پسند نہیں کرتا تو ہم اپنی تمام تر صلاحیتوں کو اس فساد کو روکنے کیلئے استعمال نہیں کریں گے؟ معلوم ہے نا کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہےتو پھرہزاروں کا قتل! جی ہاں قتل ہمیں کیسےغیرمتحرک رکھ سکتا ہے؟ ظالم بادشاہ کے آگے حق دیکھانے کا بتانے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں ہمت کریں کیونکہ ہمت مرداں مدد خدا۔





































