
لطیف النساء
اتنا دکھ ہوتا ہے یہ دیکھ کرکہ برائی کو دیکھ کر بھی لوگ چپ ہیں اوراس کو روکنے کی ذرابرابرکوشش نہیں کرتے!جب ہم کالجزمیں ہوتےتھےاکا
دوکا بندہ بھیک مانتےنظر آتا تھا۔ کہیں کہیں دوردرازجگہوں پر کوئی ننگا پنگا یا چیتھڑے میں تھیلے والی بندی یا بندہ نظرآتا تھا۔ یہاں تک کہ گھروں میں بھی بھیک مانگنےوالے یا والیاں کبھی کبھی جمعرات یا پیرکومانگنےآتے تھےجو واقعی ضرورت مند تھے۔
شکر گزارتھے دروازہ کھول کرمعاف کروبابا یامائی کہتےبھی تھے تووہ پیچھے نہیں پڑتےتھےبلکہ دعا دیتے ہوئے آگے بڑھ جاتے تھے۔ ہماری ماں ایک پیالہ آٹا یا کبھی کبھاردوروپیہ دے دیا کرتی تھیں۔ توبھی دعائیں دیتے گزرجاتے کبھی منہ نہ بناتے۔ نہ برا بھلا کہتےلہٰذا ایک انجاناساان سےبھی لگاؤ تھا مگر پھراچانک دنیا کےرنگ بدلتے ہی چلے گئے۔ منظر بھی بدلتے گئے،ایکٹرز، بہروپیے اوردیگرپیشہ ورلوگ ان میں شامل ہوتے چلے گئے۔ اچھے خاصے لوگ ضمیر بیچ کر لنگڑے،لولے،اندھے،معذور ہرعمر اور ہر ضعف کے لوگ دھڑلےسےنظر آنے لگے۔
پوری فیملیاں کی فیملیاں مزید یہ کہ موسمی فقیرجن کےرمضان سے پہلے اوربقرہ عید تہوارسے پہلے قافلے کے قافلے آنے لگے۔ یوں لگتا ہے بلکہ لگتا کیا یقینا ایسا ہی ہے کہ ایک بڑا مافیا چل رہا ہے۔ جگہیں،علاقے،مکان، ہو ٹلز،پل ،چوراہے، فٹ پاتھ توکیا اوورہیڈ پل اوربلڈنگیں تک لگتا ہے بکی ہوئی ہیں جس پرباقاعدگی سےمانگنے والےاورمانگنے والیاں، بچے بوڑھے سب چلےآتے ہیں۔
ہوسکتا ہےاس مہنگائی میں ان میں بہت سےحقدار بھی ہوں مگروہ اتنے منظم نہیں! کیونکہ ان میں غیرت ہوتی ہے ایک جھجک اور حیا ہوتی ہے۔ تھوڑے پر بھی احسان مانتے ہیں۔ مگر اُن کا کیا جو عادتاً آتے ہیں جیسے تنخواہ یابھتہ لینے آتے ہوں، کہتے ہیں کہ آپ نے پہچانا نہیں، میں تو ہمیشہ سے آتی ہوں یا آتا ہو ں تو آپ کو یاد نہیں میں تو ہر سال آپ سے زکوٰۃ اورراشن لے کر جاتی ہوں! اللہ اکبر! اللہ معاف کرے ،کیا برسوں سے مطلب جدی پشتی کے فقیر ہونے پرفخر جتایا جارہا ہے۔ بھئی حالات کو بدلنے کی کوشش تو کرنی چاہیے ایک دفعہ زکوٰۃ اس نیت سے لوکہ آئندہ میں نہیں لوں گابلکہ زکوٰۃ دینے کے قابل بنوں گااورتو اورسارے ہی لوگ ہرجگہ نظرآرہے ہیں مگر پولیس، رینجرز، چودھری، سردار، گورنر کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا ہے۔ چوکیدارروک نہیں سکتا ہے، پانچویں چھٹی منزلوں پرکسی بھی وقت سیڑھیاں چڑھ کر یا لفٹ سے بھی آجاتے ہیں اور اُن ہی میں سے بعض بدترین قسم کی وارداتیں بھی کر جاتے ہیں کوئی پرسانِ حال نہیں۔ کیمرے لگے ہیں مگربہانے اتنے ہیں، فلاں کےمہمان ہیں، نیچے والی آنٹی یابھائی کا نام تک لیکرکہتےہیں۔ انہوں نےاتنے دیئےہیں اور آپ کے پاس بھیجا ہے! بتائیے؟کئی ہزاربہانے کہ ضرورت مند بھی واقعی رُل جائےمگر حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ اب تو کوئی بھی احباب، محلے دار،ماسیاں، چوکیدار کوئی بھی چلتی راہ کا مسافر، نہیں معلوم کس وقت مجبور بن جائے اور مانگنے کھڑا ہو جائے!پہلے تو کام والیاں بھی نہیں مانگتی تھیں مگر اب تو ہر مہینے دو مہینے بعد مانگتی ہیں۔ راشن بھی زبردستی لے جاتی ہیں۔ مطلب کچھ نہ کچھ بگاڑ ان میں بھی آگیا ہے۔
مجموعی طور پرہم سب میں ہی صبر شکر کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے۔ ان سے بھی بدتر حالت چرسیوں اور ان ہیرو ئنچیوں کی ہےجنہوں نے نہ صرف اپنی زندگی کوبرباد کیابلکہ اپنے پورے پورے خاندانوں کو ناکوں چنے چبوائے ہوئے ہیں۔ اب تو ان میں اتنی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہےکہ اللہ کی پناہ! اچھے خاصے نوجوان لڑکے اورلڑکیاں ان کی اکثریت ہے۔باغیچوں کو جنھیں کچرا ڈال کر اجاڑ دیا گیا ہے اُن میں، درختوں کے نیچے نالوں کے پیچھے۔کونے کھدروں، دیواروں کی آڑ اور گندی گلیوں میں ٹولے کے ٹولے بیٹھے بھنگ پی رہے ہوتے ہیں۔انجکشن لگا رہے ہوتے ہیں۔ اپنا نشہ پورا کرنے وہ کچھ بھی برے سےبرا کام کرنے کو تیار رہتے ہیں۔
تالے،لوہے کی جالیاں، گٹرکے ڈھکن، کھڑ کیاں، گیس اور پانی کی ٹیوبز،میٹرزاور نہ جانے کیا کیا۔موٹر سائیکل والوں، گاڑی والے کی ہزارہا چیزیں چرانا انکا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اس ایک نشے کی خاطر نہ انھیں اپنی بیوی بچوں کی فکرہوتی ہے، نہ بہن بھائی، ماں باپ کی، انھیں بھی مار پیٹ کر ان کی محنت مزدوری کی جمع پونجی تک لے بھاگتے ہیں اوروالدین بے چارے مجبور،بے کس بے بس مزید معاشرے پربوجھ بن جاتے ہیں اور انتقامی سرگرمیاں یا خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
بیویاں بچوں کو چھوڑ کر ماں باپ کے گھر جا بیٹھتی ہیں کہ مرجاؤنگی مگر واپس ان ہیروئنچیوں کے پاس نہ جاؤنگی۔ یہ وبا توتشویش ناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے اور کوئی پوچھنےوالا نہیں۔ کتنے ہی افسوس کی بات ہے۔ایک فرد کامعاشرے پر کتنا بڑا بوجھ ہے اور ایک لڑکی اگر نشئی ہوگئی تو سمجھو پورا معاشرہ ہی مفلوج ہے، اللہ کی پناہ!کیا کسی کو اس نوجوان نسل کےبگڑنے کا افسوس نہیں؟کیا حکومتی سطح پر کوئی مائی کا لال اس بگڑتی ہوئی حالت کو سدھارنے کو نہیں تیار؟
کیسے ضمیر ہیں ہمارے؟ کتنے مرد ہ دل اور بے حس ہو گئے ہیں ہم لوگ کہ ان معاشرے کے ناسوروں کو وبا کو بلکہ زہریلی جان لیو او با کو سختی سے روک تھام کرنے کے بجائے بے پروا ہ ہوگئے ہیں، بے فکر بیٹھے ہیں۔ اتنی بھی کیا مصروفیت!جب پانی سر سے گزر جائے! فساد تو جڑ سے ہی ختم کرتا پڑتا ہے۔ یہ وبا تو میں کہتی ہوں کسی بھی بڑے تشدد، بم بلاسٹ یا قتل سے بھی بڑھ کر ہے کہ اس میں بندہ ایک دفعہ مرجاتا ہے وہ بھی کسی وجہ سے! جبکہ یہاں تو معاملہ ہی سرے سے کچھ اور ہے، جب تک خبر ہوئی کینسر سے زیادہ موذی اور تکلیف دہ صورت حال کا کون ذمہ دار!خدارا اپنے پیاروں کی ان سلگتے انگاروں کی فکر کریں ۔ انہیں دیکھیں یہ پاکستان کا مستقبل ہی نہیں، آپ کی ،ہم سب کی دنیا اور آخرت ہیں۔ ہماراامتحان ہیں ہماری ذمہ داری ہیں۔ یہ بیماری میں کب سے مبتلا ہوئے اور ہوتے ہی چلے گئے۔
یہ ہمارے اپنے ہیں۔ یہ بھی دل دل پاکستان جان جان پاکستان ہیں مگر پریشان ہیں ہم کیسے مسلمان ہیں؟ کسی کے دکھوں کا مداوا نہیں کرسکتے؟بیماری کا علاج کرنا ہے شروع سے اور مریضوں کا علاج کرنا ہے۔ شفایابی تک یہ ہم سب کا فرض ہے! ہم کیسے اپنی نسلوں کواتنا بے کس بے بس اور مجبور بنا سکتے ہیں؟ا۔ للہ کو کیا منہ دیکھائیں گے؟ میں دیکھتی ہوں وہ دنیا مافیا سے بے خبر اپنی الگ دنیا بسائے ہوتے ہیں۔ وہ کیوں کٹ گئے کیوں دورہوگئے اتنی بڑی تعداد میں گمراہی کی طرف بھاگے جا رہے ہیں اور حکومت اور دیگر افراد تماشائی!کیوں کیا ہم سے اس بگاڑ کا سوال نہیں پوچھا جائے گا؟ ۔
اگرحکومتی سطح پرانفرادی اوراجتماعی سطح پر اس برائی کو جڑسے ختم کرنے کی ٹھان لیں،محنت کریں۔ والدین بلکہ تمام اہل ضمیر مسلمان اپنے ہر مسلم بھائی کا خیر خواہ ہو،اسکی مدد کرے اور روک تھام کرے،برائی کو جڑ سےختم کرنے کی مسلسل کوشش کرے تو یقین جانیے اس مافیا پر قابو پا کر ہم پورے پاکستان کو پر امن اور صحت مند بنا سکتے۔ ہیں اوپر سے نیچے تک ہر لیول پر چیک اینڈ بیلنس ہو گا۔ احساسِ ذمہ داری ہو گی، اداکاری نہ ہو گی تو یقین جانیے ہم ہر طرح کی آفت سے چھٹکارا پاسکتے ہیں۔ منشیات میں پولیس ملوث ہے ورنہ یہ معاملہ بڑھے نہیں گھٹتا جائے گا۔ جب ان کی سرپرستی ہوگی اور عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جائیگا۔ ان اڈوں اور جگہوں کی مسلسل چھان بین ہوگی اور تمام مریضوں کا باقاعدہ علاج کرکے ان کو صحت مند اور فعال شہری نہ بنایا جائے گا ۔
یہ وباء ہم آپ سب کو اللہ نہ کرے لے ڈوبے! یہ بھی ہمارے لیے کٹھن چیلنجز ہیں۔ نہ نوکری نہ پڑھائی نہ کا روبار اوپر سے مہنگائی، بیروزگاری، بجلی، پانی، گیس اور کرایوں کے مسائل، جعلی دوائیں!کہاں کہاں آدمی مار کھائے، کہاں جائے؟ لیکن ساتھیوں حالات کتنے ہی ابتر صحیح مگر یہ حل نہیں! حل تو سمجھداری میں ہے،وفاداری میں ہے،محبت اور ہمددری میں ہے!انسانیت میں ہے ورنہ آپ تو نرے جانور سے بدتر ہیں! اللہ نہ کرے ہم ایسے ہوں، خدارا ان نوجوانوں کو ان سلگتے انگاروں کو مزید ہوا نہ دو۔ ان پیاروں کو ہماری توجہ، محبت، ایثار قربانی چاہیے شروع سے آخر تک۔ہمت مرداں مدد خدا!یہی مسلمانوں کا شیوہ ہے۔





































