
لطیف النساء
ہیرے کی خصوصیات میں، میں نے پڑھا تھا کہ اس کی کیا خاص بات ہےکہ جتنا زیادہ یہ دباؤ برداشت کرتا ہے،کوئلے کی یہ قسم معمولی نہیں رہتی
بلکہ اپنی قوت برداشت یعنی دباؤ سے ہیرابن جاتی ہےجو بادشاہوں کے سروں کے تاج میں جڑے جاتے ہیں اورقیمتی ترین شےسمجھے جاتے ہیں۔ عجیب دستور زندگی ہے حالات کیسے بھی ہوں ، ماحول کوئی بھی چل رہاہو مگرنئے سال یعنی سالِ نو کی بات ہو رہی ہوتو مجھے جو پہلا احساس ہوتا ہےوہ نہ جانے کیوں ایک خوشی کا ہی احساس ہوتا ہےپھر فوراًہی گزرے ہوئے سال کی مستعدی اوراچھے برے واقعات فلم کی طرح نظروں میں گھومنے لگتے ہیں۔
زندگی کے ایک سال کے ختم ہونے کا احساس! اور اس مرتبہ توابھی سے ہی میرادل غم سےچور چورہے۔ کیا قیامت صغریٰ ہم مسلسل دیکھ رہے ہیں؟ اتنی تباہی انسانوں کے ہاتھوں انسانوں کا، انسانیت کا قتل عام، بربریت، جاہلیت، ظلم، سفاکی، تصور سے باہر تباہی اورننھے فرشتوں کے زخمی نظارے،عورتوں کی دل خراش پکار یں! اللہ اکبر! سال کے بدترین نظارے اتنی تباہی و بربادی سوچ سے زیادہ تکلیف دہ، پوری دنیا جنگ رکوانا چاہ رہی ہے مگرشیطانیت ناچ رہی ہے اور اپنی دھمال دکھارہی ہے۔ انسانوں پر بلڈو زرچلانا اوپر سےبم بر سانا، ساری دنیا سے راستے منقطع کرکے خوراک، پانی، روشنی تک کا بند کر دینا اور پھرہرجانب سےتابڑ توڑحملے کرناکیاجیت ہے؟ہرگزنہیں یہ انسانیت کہ منہ پر طمانچہ ہے،تہذیب پر کاری ضرب ہے۔ ایسے حالات میں ہمیں اللہ پاک کا شکر کرنا چاہیےکہ اللہ پاک نے ہمیں بے کسی ،بےبسی اورمجبوری سے بچا رکھا ہے۔ ہم صحت مندہیں کھا پی رہے ہیں اور بہت کچھ کرنے کے سبحان اللہ لائق ہیں، سالِ نو کی خوشیاں منانا کیا ہمیں زیب دے گا؟ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ کیسے سجدۂ شکر ادا کرنا چاہیےاور کیسے ان کی مدد کرنی چاہیےجو ہمیں اپنا مسلم بھائی اورامت مسلمہ کا اہم ترین قلعہ سمجھ کر ہماری طرف مسلسل دیکھ رہے ہیں۔ استغفراللہ۔ ان کی مدد اور بھرپور تعاون تو ہم سب کیلئےفرضِ عین تھا اور ہے۔اب بھی ہم خاموش!یہ طرزعمل اس سالِ نومیں ہمیں فراموش کر دینا چاہیے۔ایک نیا حوصلہ ، ایک نیا ولولہ،ایمان افروزحیا جگا کرانسانیت کی فلاح اوراصلاح کیلئے اپنےآ پ کو سر پر کفن باندھ کرنکلنے کے لئے تیاررکھنا ہو گا۔ اپنا مقصدِ حیات ہی پورا نہ کیا اور مہلتِ عمل گزار دی توکیا حاصل؟ سوائے بے چینی اور اضطرابی کے۔ ہر بندہ سوچ لے کہ حالات کیسے بھی ہوں ہمیں صبر واستقامت سے وقت کی قید سے آزاد ہو کر اللہ کی راہ میں اپنا" جہاد" جہاد یہاں بہت وسیع معنوں میں ہے۔ جان، مال، وقت،صلاحیت،ہمت، طاقت، رویے، تعلقات، زمانے کے گرم و سرد سب کچھ اللہ کی راہ میں ہی اپنا جہاد جاری رکھنا ہے۔ وہی تو اللہ کے محبوب بندے ہیں ظاہر ہے،اس سے بڑی کامیابی کوئی اور ہو نہیں سکتی کہ بندہ جس کی مخلوق ہے اس کے حکم پر پیدا ہوا ہےتو اس بندے کےصبر واستقامت کو دیکھ کر اللہ اس کی طرف اپنی نظرعنایت کردے تو ہی واقعتاً بڑی کامیابی ہےاورظاہر ہےایسے ہی لوگ تو مقربین ہوتے ہیں اورانہیں ہی صدیقین، صلحا اور شہدا ء کی صف ملتی ہے۔ پورے سال کا نچوڑ ہمارے لئے یہ فلسطینی مجاہدین ایک ایسا عظیم درسِ عبرت ہیں کہ جن کی مثال ملنا مشکل ہےکہ وہ اپنی طرف سے کی گئی کسی بھی کوشش میں کمی کا شکارہی نہ ہوئے بلکہ ہمت طاقت سےبڑھ کرحوصلے کاکام کررہے ہیں اور اپنے محبوب رب پر مکمل توکل کئے ہوئے ہیں۔
ہمارے زخمی دل اس سالِ نو میں ان کا حوصلہ ہمت بڑھا کر نہ صرف انہیں خراج تحسین پیش کرتےہیں بلکہ امت مسلمہ کو ہوش کے ناخن لینے کا سبق دیتے ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ ہم اس موقع کو بھی سنجیدگی سےانسانیت کی بقااورتحفظ کیلئے استعمال کرتےہیں یا پھرطاغوتی قوتوں کی طرح اپنا قیمتی وقت جوزندگی ہےاسے بےکار مشغولیات، خرافات، چراغاں، پٹاخے، ڈھول ڈھمکے،گانےبجانے میں ضائع کرتے ہیں؟ یہ ہمیں کبھی نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہمیں اپنی نسلوں کو درس عبرت دلانا، نیکی کی طرف لانا انہیں عبرت دلا کر اپنا فرض نبھانے پر راغب کرنا چاہیے۔
آنے والے سال کیلئے نئی ٹیکنا لوجی کےعلم کوایسے سیکھانا اور ان پر دسترس حاصل کرناہےجنہیں انسانیت کی فلاح و بہود کیلئے پرامن استعمال کیا جائےنہ کہ کسی بھی طرح کے بگاڑ کیلئے تا کہ اس دنیا کو امن کا گہوارا بنایا جاسکے۔ جنگ بری، فساد برا، اللہ کبھی فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا کیونکہ نئے سال کا پیغام ہی یہ ہے کہ جوزمین کا امن تباہ کریں ،وہی ظالم ہیں،جابر ہیں اورفاسد ہیں۔اختیاراس لیے حاصل کریں کہ دنیا کو سکون دیں،انسانیت کوپرامن رکھیں اوردنیا میں دکھوں کا مقابلہ کریں۔ لوگوں کوخوشیاں بانٹیں ،ساتھ ہی ان کے یعنی دکھی انسانیت کے دکھ سمیٹ کرانہیں صحیح معنوں میں خوشحال بنائیں۔
دل توڑ دیں سبھی کا یہ زندگی نہیں ہے
دکھ لے لیں ہم کسی کا کیا یہ خوشی نہیں ہے؟





































