
لطیف النساء
لوگ کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی کوسیاست میں گھسنےکی کیا ضرورت ہے اور انہیں سیاست نہیں آتی! تومیں سوچ رہی تھی کہ شاید صحیح
کہتےہوں؟ وہ کہنے لگی کیا کافائدہ ہر مرتبہ تو ہارجاتی ہے، جماعت اور پھر بھی چین نہیں۔
سیاست واقعی مجھےسمجھ نہیں آتی! میں نے خود اس لفظ کو منفی اورغلط معنوں میں استعمال ہوتےدیکھا ہے، سنا ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ زیادہ سیاست چمکانے کی ضرورت نہیں؟ یہاں تمہاری سیاست نہیں چلے گی۔ ہم تواپنا کام کرتے ہیں ہم سیاست کے چکر میں نہیں پڑتے۔دیکھا کیسی سیاست دکھائی؟ وغیرہ وغیرہ جن کا تا ثر کچھ اچھا نہیں تھا۔ مجھے لگا یہ جھوٹ ہےایک طرح کا یا شاید کسی کو دھوکا دینا یا دغابازی کرنا ہے۔ مطلب بندہ اچھی اچھی باتیں کر کے مکرو فریب سےآپ کو جال میں پھنسالے۔ عام زبان میں ہم لوٹ مارمیں کہہ سکتے ہیں، مطلب ایک طرح کی بدنیتی، بد چلنی، خود غر ضی یاعام زبان میں اسےکرپشن بھی کہہ سکتےہیں تو واقعی دیکھا جائے تو یہاں تو تقریبا ہردوسرا بندہ ہی ایسا ہے،بھروسہ ہی نہیں کیاجا سکتا۔ گرگٹ بلا وجہ بدنام ہے۔ لوگ توبندوں کےساتھ ایک لمحےمیں پلٹ جاتے ہیں اوراگلے کو دھوکا دے جاتے ہیں مطلب صحیح بات کا ساتھ نہ دینااوروقت پربھی حق بات نہ کرنا،ایک طرح کی بے ایمانی اور کرپشن ہی توہے،چاہے وہ کوئی بھی معاملہ ہو ،کہیں بھی ہو؟ گویا اقتدار والا اپنی من پسند کررہاہے،چاہے دوسروں کا جتنا بھی نقصان ہو،مطلب وہ کہہ رہاہو کہ" یا شیخ اپنی دیکھ!"نہیں یہ واقعی اگر سیاست ہے تو بالکل غلط ہے۔
یہ کیا بات ہوئی کہ آپ نہ حق بات کرسکتےہوں نہ برائی سے کسی کو روک سکتے ہوں۔ نہ فلاح اور صلاح کا کام کرتےہوں اور نہ ہی اپنی زندگی کوبامقصد بنا کرانسانیت کیلئے رب کی رضا کیلئےرب کے احکام کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتےرہواورتمہیں ہی دنیاوی فائدے ہوں باقی جائے دنیا بھاڑ میں ،تو یہ طرز عمل حقیقی سیاست کےبالکل خلاف ہے! کیونکہ سیاست توزندگی کےمعنی بتاتی ہے،یہ تو خدمت کا نام ہے۔ہروقت دوسروں کی بھلائی، آرام،سکھ چین اورامن کیلئے ضروری ہےکہ انسانیت کا جذبہ ہو خدمت کا جذبہ ہو ظلم کےخلاف نہ صرف ڈٹےرہنےکا حوصلہ ہو بلکہ سیسہ پلائی دیوار تک بننے کا حکم ہےچاہےکوئی بھی مذہب کےماننے والے ہوں تو اس سیاست کو بخوبی سمجھتے ہیں ۔ اپنے ملکوں او رزندگی میں عملاً رائج بھی کرتےہیں اورکرنا بھی چاہیے تبھی تووہ مہذب اور ترقی یافتہ کہلائیں گے۔
اس تناظرمیں دیکھا جائےتو گویا حق کا ساتھ ہی نہ دیا جائے۔ مثال دیکھیں تین مہینے ہونے کو آرہے ہیں اکیس ہزارسے زیادہ لوگ نہتےبے یارو مددگار بموں کی صُبح شام زد میں رہ کر جان دے بیٹھے ہیں۔ گھر،مکان، دکان، اسپتال، قبرستان، کھیت، کسان سب ہی تباہ کردئیے گئےاورکرتےبھی جارہےہیں اورپوری دنیا کےلوگ باتیں بنا بنا کر میٹینگزکرکر کے اجلاس کر کرکے سیاست چمکا رہے ہیں اور تو اور امن کمیٹیاں اور اقوام متحدہ کے امن کے ادارے، اسمبلیاں ان شیطانوں، دغابازوں،بے ضمیروں کے آگے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں کیوں؟
یہ کیاسیاست نہیں سمجھتےکیسے کسی کو قتل وغارت گردی، نسل کشی اور مالی نقصان پہنچانے کی اتنی چھوٹ دی ہوئی ہے؟کیا ضمیر سوئے ہوئے ہیں یا سیاست کے منفی معنوں میں گرفتار ہیں؟ جب حق اور نا حق ہی نہ سمجھے!انسانیت کا قتل بچوں کا قتل بے دردی سے، مزید بھوکا پیاسا، بجلی پانی سے بند کر کے کہیں جائے پناہ نہ چھوڑنا، کسی کا کوئی لحاظ نہ کرنا، صحافیوں تک کو مار ڈالنا یہ سب کیا ہے؟ یہ کیسی اور کس کی سیاست ہے؟ اگر اسرائیلی سیاست کھیل رہے ہیں تو باقی دنیا کیا تالی بجا رہی ہے؟ انہیں کوئی سیاست نہیں آرہی؟ خود اسلامی ممالک بھی ان میں شامل ہیں۔ میرا دل تو کہتا ہے بقول شاعر:۔
ہزاروں سرحدوں کی بیڑیاں الجھی ہیں پاؤں میں
ہمارے پاؤں کو پربنا دیتا تو اچھا تھا
پرندوں نے نہیں روکا کبھی رستہ پرندوں کا
خدا دنیا کو بھی چڑیا گھر بنا دیتا تو اچھا تھا
مگر یہ تو ایسے ہی اپنی تسلی کے لیےکچھ یاد آگیا۔ ورنہ اللہ تعالی نےتو شکرالحمد للہ ہمیں اشرف المخلوقات بنا کرمسلم بنا کرایک ذمہ داری سونپی تھی کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔مرتے دم تک اس کی بھلائی اورخیرخواہی میں لگا رہے۔آج اپنا جائزہ لیں۔خود پاکستان کی کیا صورت حال ہے؟کیا آپ اپنےعمل سے مطمئین ہیں؟ فلسطینیوں کی پکار اورللکارانکا خاموش جہاد ہمیں کیسےچین سے بیٹھنے دے رہاہے؟لگتا ہے واقعی ہمارا سودی کاروبارہی ہم سب کیلئےاعلان جنگ بنا تباہی دکھا رہا ہے اور اس لئے حق کیلئے آگے بڑھنے کی ہماری طاقت کم ہوگئی ہے۔اس لئے اسرائیلیوں کا قاتلانہ برتاؤ اور امن کے خلاف ظالمانہ رو یہ کیوں نہیں کسی مثبت حل کی طرف لا کر انہیں مزید خون خرابے سے بچاتے۔ جنگ بندی کرواتے؟امن کی کوششیں عملی طور پر کرتے؟ آزمائش واقعتاً لوگوں کو بےنقاب کر دیتی ہےجیسے آج دنیا بے نقاب ہو کرسامنےآگئی ہے۔ انسانی زندگی اتنی سستی کبھی نہ تھی۔ یہ توسب کیلئے اخلاق،ہمدردی، صبر،برداشت اور بروقت مدد کر کے کھرے کھوٹے کو الگ کردینے کی بات تھی۔
یہ کیسی سیاست ہے،یہ سیاست نہیں یہ بھی دنیا کی منفی سیاست ہے بلکہ معذرت کے ساتھ ذلالت ہے۔ایسی سیاست جوحق دار کو حق نہ دلا سکے ہمیں نہیں چاہے۔ ہماری ہار جیت اس سے بالا ترہے ہمیں انعام رب سے چاہیے بندوں سے نہیں۔کیا آپ بھی اپنے ضمیر کے ساتھ یہ سیاست تو نہیں برت رہے؟
نوٹ : اٰڈیٹر کا بلاگرکے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )





































