
لطیف النساء
میرے گھرپچھلے کئی سال سےنمکین پانی آرہا تھا جوابال کر ہزاروں ہتھکنڈوں کے باوجود میٹھا نہ ہوا۔پینے کا پانی الگ منگواتے تھےجوبڑا ہی
مہنگا پڑتا تھا اوراب بھی پڑتا ہے سارے نل، ٹوٹیاں، برتن، چھری،چاقو،چمچے، بڑے سنک،غسل خانے کی دیگر اشیاء زمین تک بےرونق اور زنک آلود ہوگئی۔ شکرہے ڈیڑھ دو سال پہلے بارشیں ہوئیں تو پچھلے سال ہماراپانی خود بخود میٹھا ہو گیا۔
ہم نے خوشی خوشی صفائی کی اوربرتن نل ٹونٹی دیگرضروریات کی نئی چیزیں لیں مگرآہستہ آہستہ پھر پانی نمکین ہوتا ہی چلا گیا ، بل کئی درجہ بڑھ گئے۔ پانی کی قیمتیں مشین چلانےکا خرچہ تقریباً دگنا ہوگیامگر پانی اوروہ بھی نمکین ناپ تول کر بھی آنے لگا اور بوتلیں میٹھے پانی کی مزید مہنگی ہوگئیں ،جن کو ہم پینے،کھانا پکانے اور چائے وغیرہ کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ گیس کا الگ براحال ہے کبھی اتنی کم کہ نہ ہونے کے برابر اورکبھی اتنی تیز کے اندازے غلط ہو جائیں، ہانڈیاں جل جائیں،رات میں تو خیرہے ہی نہیں صبح بھی ساڑھے چھ بجے آتی ہے،گیزرتو زنک آلودہو کرنا کا رہ ہو گئے۔ گرم پانی وہ بھی نمکین نہانے کوبھی نہ ملے،کپڑوں کی دھلائی ڈبل، صابن کا خرچہ ڈبل،محنت مگر کپڑوں میں نہ وہ چمک نہ رونق۔بجلی کا بھی حال نہ پوچھیں کسی بھی وقت لمبا دھوکہ دے جائے کہ سارے ہی منصوبوں پرپانی پھر جائے۔ چلو کسی رشتہ دار کے گھر! مگر وہاں بھی یہی حالت۔
بازارچلے جائیں قیمتیں سبزی کی دیکھ کر گوشت مچھلی مرغی کوبھی شرم آجائے؟ جبکہ گوشت مرغی مچھلی تو نایاب ہوتی جارہی ہیں ،پتا چلا ان کو بڑے پر لگتے ہی چلے جارہے ہیں۔ گھروں میں گیس توآتی نہیں ہےبجلی تو جاتی رہتی ہےمگر بل بڑھتے ہی چلےجارہے ہیں۔حکومت کوکوئی فکر نہیں!پھر دیکھیں کتنی آگیں لگ رہی ہیں۔ پچھلے دنوں عائشہ منزل کی آگ اللہ کی پناہ کتنی جانیں اور اوپر نیچے کی مارکیٹیں تباہ و برباد ہوگئیں اورابھی کل ہی صدر کی مشہور مارکیٹوں کی آگ لگی ،یہ آگ تو نظر آتی ہے لیکن جو لوگ ان سےمتاثر ہوئے اُن کے دلوں کی آگ! گھروں میں تو چولہے نہیں جل رہے۔
مہنگائی کے مارے لوگ ایک وقت بھی صحیح معنوں میں کھانا پکانےاورکھانے سے قاصر ہوئے جا رہے ہیں۔مہنگائی ، بیروز گاری نے الگ جینا حرام کر کےدلوں میں آگ بھڑکائی ہوئی ہےاورحکومت خاموش تماشائی ہے۔ اسے کوئی غرض نہیں ،وہ تو آئے دن اخراجات بڑھانے پرتلی ہے۔ ابھی پھر بجلی کے نرخوں میں اضافہ کر کے عوام پر مسلسل بجلی گرا رہی ہے۔ بتائیں ہےاسے عوام کی کچھ غرض؟لوگ رو رہے ہیں۔
مرنے مٹنےپر چلےگئے ہیں،بھوک سےمررہے ہیں اور پھربھوکے مریں توکیا نہ کریں! شاید اس کیلئے بھی ایک ہیروئنچیوں کامافیا تیزی سے سر گرم عمل ہےجو پوری عوام کیلئے وبال جان بنا ہوا ہے۔ اچھے خاصے لوگ مزدور پیشہ لوگ بےکار بیٹھے ہوتے ہیں۔ کاروبار ٹھپ ہیں۔ تعلیم اور صحت کا براحال ہے،حکومت ،ان کی چالبازیوں اور بے غرضیوں سے عوام پریشان ہیں۔
قوم کا سردار تو قوم کا خادم ہوتا ہے۔یہ کیسی حکومت ہے؟جو آئے وہ خودہی کھائے۔ ہرلمحہ عید منائے اورعوام کو ستائے،کسی چیز پر کنٹرول نہیں ، پولیس الگ طرح کی مافیا ہے لوگ بجائے مدد لینے کے اُن کے شرسے بچتےہیں اوراپنے معاملات کھل کر بتا بھی نہیں پاتے۔ صبر کے گھونٹ پی جاتے ہیں۔
کتنی گاڑیاں، موٹرسائیکلیں چوری ہو رہی ہیں؟ کبھی مل کے نہیں دیتیں۔ مجھ سمیت کئی رشتہ داروں کی گاڑیاں موٹرسائیکلیں برسوں سےغائب ہیں لیکن سب بے سود،ہمیں اپنے ہی مسائل میں گھِروا کربے چین رکھنے والے کوئی اورنہیں ہمارے ہی ہم وطن مسلمان بھائی ہیں! کیوں بھائیو یہ کیا اچھی بات ہے؟ قیامت صغریٰ دیکھی ہے۔ فلسطین کی تقریباً ًتین ماہ سے کتنی زندگیاں پامال ہورہی ہیں اور ہم ہیں کہ عبرت بھی نہیں لےرہے۔ ہمیں درد نہیں، احساس نہیں، نہ ہمیں مسلمانوں کی سی ہمدردی محبت پیدا ہو رہی ہے نہ ہمیں مومن اورمسلم اور محسن بننے کی شعوری خواہش اور نہ کوشش ہے یا عملی اقدامات ہیں۔توبرائی سے کیسے چھٹکارا ملے گا؟اورکیسےسکھ چین ملے گا؟جب ہم اپنوں کاہی دکھ نہیں بانٹ سکتےتو ان بےبس فلسطینیوں کا درد حکومت کیسےمحسوس کرے گی؟ ایٹمی طاقت ہونےکے باوجود کیونکرعملی قدم نہیں اٹھارہی اوراپنے نہتے مسلمانوں پر ظلم دیکھے چلےجا رہے ہیں اور ایک ہم ہی کیا دنیا کے 57 ممالک بھی کچھ قابل قدر اقدام عملی اقدامات نہیں کررہے۔ لگتا ہے یوں ہی کہہ رہی ہوکہ "ہمیں کوئی غرض نہیں " صرف دعائیں کرنے اور چاہنےسے سچی تو بہ سے بے شک اللہ مدد کرے گامگر اللہ تعالیٰ ہمارا عمل دیکھ کر ہی ہمیں عطا کرے گا۔ جب میں یوں کہوں کہ اللہ! میرا حال دیکھ! تو یقینا ہی جواب آے گا نا کہ" اپنا نامہ اعمال دیکھ"! توبہ استغفار کے بعد ہم سب کو سدھرنے کی ضرورت ہے اور حکومتی کارکردگی کو اچھا بنانے کیلئے اللہ ایک اور موقع دے رہا ہے۔
عوام بھی حکومت کے ذمہ دار ہیں،حکومت کو قائم کرنے والے ہیں تو انہیں اب بار بار غلطیاں دہرا کر اور حکومت کو الزام دینے کے بجائے ایسی حکومت لانے کی ضرورت ہے جو ساری عوام کے لئے مخلص ہو، اللہ کا ڈر اور خوف رکھے۔ اسی کی محبت میں وہ عوام کے حق میں اچھے کام کرے ۔ اُسے تحفظ،امن اور معاشرتی معاشی سکھ چین عطا فرمائے۔ اللہ بھی ایسے ہی لوگوں کی مدد کرتا ہے جواپنی مدد آپ کرتے ہیں۔ جب میں ہم دوسروں کے دکھ درد کو سمجھ کر انسانیت جگائیں گے۔
میراآنے والا کل گزرے ہوئے کل سے ہمیشہ بہتر ہونا چاہئے،مجھے آج ہی جاگنا ہوگا انسانیت کوجگانا ہوگا۔اس حکومت کو ظلم کے خلاف کام کرنے اور پر امن پاکستان کی تشکیل کے قابل بنانا ہوگا۔ اس کیلئے ہمیں خود ایماندارہوناہو گا، ہدایات کو لگن تڑپ کے ساتھ مانگنا ہوگا اور ہدایت یافتہ لوگوں کو راہنما بنانے کی دعا اور دوا کرنی ہوگی۔ گویا گواہی حق کیلئے ہی دینی ہوگی تاکہ دل سکون پائے۔ کیا آپ ایسا نہیں سوچتے؟





































