
لطیف النساء
امی ہرمسئلہ کا حل یہی بتاتی تھیں کہ بیٹا صبرہمت، زور زبردستی سے کوئی کام نہیں ہوتا! کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کیلئے قربانیاں تو دینی
ہی پڑتی ہیں ۔ وہ انگریزی میں ایک محاورہ بولتی تھیں مطلب جب تک مشکل نہ سہواور درد نہ برداشت کرو آسانی نہیں حاصل ہوتی! واقعی زندگی کا بھی کیا تجربہ ہوتاہے۔ ماؤں سےبہتراس بات کو کون جان سکتا ہے؟ ہرمیدان میں یہی ایک اصول کارفرما ہوتا ہے۔ تعلیم ہو،نوکری ہو، کا روبار ہو،تعلقات ہوں، بیماری ہو یا جنگ و جدل ہو، جہاد ہو! ایک مقصد کیلئے بندہ دل وجان سے کام کرتا ہے۔ بسا اوقات اس کی مرضی کےبالکل برخلاف کام ہوتےہیں مگر کرنا پڑتا ہے۔
ڈاکٹرز کو دیکھ لیں ایک آپریشن کیلئے گھنٹوں کیسی محنت کرتے ہیں؟ ایمرجنسی پرایمرجنسی کو نبھاتےہیں اور یوں جان پر کھیل کر جان بچاتے ہیں۔ ساری انگلیاں برابرنہیں ہوتیں مگر اکثریت ڈاکٹر،اساتذہ، دین کی تعلیم دینے والےاور والدین ہی کو دیکھ لیں ہر کوئی اپنی سی پوری کوشش کرتا ہےکہ بچے معززپروقار شہری بنیں اور خوب ترقی کریں۔
والدین تو واقعی کیسے خاموشی سے ہرلمحے کے معلم ہوتے ہیں!کیسے اپنے بچوں کیلئےپیٹ کاٹ کرہر آسائش کو پوراکرتےہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں کرتا اور انہیں اُن کی محنت سے بڑھ کرنوازتاہے۔ہمیں بھی یاد ہےکس طرح ہمارے والدین مشکل حالات کسمپرسی اورغربت میں بھی کیسے ہمیں مایوس نہ ہونے دیتے تھے اور ایسی تربیت کرتےتھے کہ ہمیں کبھی زیادہ کی خواہش بھی نہ ہوتی تھی، بعض اوقات کچھ مسلسل ناکامیوں یامسائل سےگھبراکرلوگ شکایت کربیٹھتےہیں کہ ہماری قربانیاں ضائع ہوگئیں مگر ایسا نہیں ہے اللہ پاک ضرور دن بدلتا ہے۔ہمارے ہاں جوائنٹ فیملی سسٹم میں بسا اوقات لوگ بڑی بے ایمانیاں کردیتے ہیں حق مارجاتے ہیں۔اپنوں کا ہی خیال نہیں کرتےاورکمزوروں پر ہی ہاتھ صاف کرتے ہیں۔
ایسے میں متاثرہ لوگ صبربرداشت میں قربانیاں ہی دیتےرہتے ہیں،اسی طرح بعض جگہ شوہر حضرات ہر قسم کی قربانیاں لیتےہیں مگر خود کبھی قربانیاں دینے کی کوشش بھی نہیں کرتے! افسوس صدافسوس ذراسےنفع کیلئے کس طرح اپنوں کو دکھ دیتےہیں لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ایسےحالات میں بھی اللہ پاک قربانیاں دینے والوں کو وہ قلبی سکون دے دیتا ہےجو بہت بڑی نعمت ہوتی ہے۔
آخرت کا اجرالگ سبحان اللہ واقعی وہی ولی ہیں۔اب دیکھیں ناکس طرح فلسطینی اپنا دفاع کررہےہیں ،لگتا ہےصرف اسرائیل نہیں اسرائیل نما دیگرلوگ بھی اُن کا ساتھ دے رہےہیں اورمشکل میں جیسی مدد انہیں درکار ہےوہ نہیں دے رہے ہیں۔
انسانی حقوق کےعلمبردار، اقوام متحدہ کے ادارے،مسلم ممالک سب ہی زبانی بیانات دے تورہے ہیں مگر جنگ نہیں رکوارہے۔کیوں؟ یہ کیابات ہوئی روزانہ چارچار سو لوگ مررہے ہیں۔ ہزاروں زخمی ہو رہے ہیں، تعمیرات کھنڈرات میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ وہ بےچارے ہر طرح کا ظلم سہہ رہےہیں مگر اپنی مدد آپ اوراللہ توکل پرجانوں کی اپنے پیاروں کی قربانیاں دےرہے ہیں تو کیا اللہ یہ قربانیاں ضائع کردے گا؟ ہرگز نہیں۔
سرخروہوتا ہےانسان ٹھوکریں کھانے کےبعد! ان کی قربانیاں کبھی ضائع نہ ہوں گی؟ ہمارا ایمان ہےاللہ پاک ضرور ان کوفتح عطا فرمائیں گے۔ہماری دعا ہے کہ اللہ پاک ان کی قربانیاں کبھی ضائع نہ ہوں اور پوری دنیا کےلوگوں کیلئےوہ ظالم لوگ نشان عبرت بن جائیں۔ اللہ پاک بڑےقدر دان ہیں ،ہرتنگی کے بعد آسانی ہے۔ ہمیں اللہ پریقین رکھتے ہوئے اُس کی رضا کیلئےاپنے مقصد کوحاصل کرنے کیلئے ہر طرح کی قربانیاں دینی چاہئیں۔ یہ سوچنا بھی کفر ہے کہ قربانیاں رائیگاں جائیں گی۔ اللہ پاک آپ کی نیت کومحنت کو تڑپ اور لگن کو دیکھتا ہے جلد یا بدیر اسکا اچھا نتیجہ ضرور عطا فرماتا ہے۔
بس ہمیں صبر کےساتھ اپنےمشن پر لگے رہنا چاہئے۔ہماری نظریں اپنے کام پرہوں اورانجام رب پرچھوڑ دیں وہ ہمیں کبھی کہیں نا کام نہیں کرے گا کیونکہ اللہ پاک ہمیں اپنی پسندیدہ چی سے ہی تو آزماتا ہے تاکہ ہم اس کے اور قریب ہو جائیں، دنیا کی مایو سی ہمارا توکل اور بڑھاتی ہے جن لوگوں کے ہاتھوں ہم ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں،یہاں تک کہ ہم مجبورًااللہ کے حضور سجدے کرنے لگتے ہیں۔ دعائیں مانگتے ہیں اس یقین کے ساتھ کہ اللہ ہماری قربانیاں ضائع نہیں کرینگے اور بہترین صلہ دینگے وہی قادرہے کیونکہ وہ رب ہے۔سبحان اللہ!اللہ ہمیں بہترین حکمران عطافرمائے۔ آمین۔





































