
لطیف النساء
رحیم تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اسکا ہی رحم ہم سب کو ہر وقت ہر جگہ درکار ہے۔ یہ عنوان کے عوام پر رحم کرو یقینا حکومت اور اعلیٰ شخصیات سے کہا جا رہا ہے کیونکہ
اللہ تعالیٰ نے یہ صفت انسانوں میں ڈالی ہوئی ہے اور اسی سے دنیا کے رشتے جڑے ہیں اور یوں بھی مسلمان مسلمان کابھائی ہے ہر وقت اُس کی مدد کرنا اور تکالیف سے بچانااس کی زندگی کا ایک اہم مقصد ہے تو یہی انسانیت ہے مگر ساتھیو! آج کل کیا حال ہو رہا ہے کوئی کسی کیلئے کچھ کرنے کو تیار نہیں، نہ ہی کسی کے دکھ درد تکلیف کا احساس ہے؟ نہ جانے کیوں،ایک دوسرے کے خلاف ہوتے جارہے ہیں۔ کسی کو خوش دیکھنا تک نہیں چاہتے! ایسا کیوں ہے؟ جس کو دیکھو سیدھے منہ بات تک نہیں کرتا! چاہے وہ دو دھ والا ہو، سبزی والا ہو، مچھلی جھینگے والوں کے نام سن کر ہی کرنٹ لگتا ہے۔
ذرا کم کرواؤ تو یوں ناراض ہو کر جاتے ہیں جیسے گالی دے دی ہو! کبھی زندگی میں پانی والا نہیں سنا تھا۔ اب ما شاء اللہ سے پانی والا مستقل ہو گیا ہے۔ ہفتہ وار دو تین بوتلیں پانی پینے کیلئے 30 یا 40 روپے سے بڑھتے بڑھتے 100یا 150تک ہوچکی ہیں ، مطلب مہینے میں 12یا 15 بوتلیں ڈیڑھ دو ہزار کا مستقل خرچہ،کہیں تو نمکین پانی بھی نایاب ہے اور پیسے دے کر خریدا جا رہا ہے۔ ہمارے ہاں بھی سال بھر سے اتنا نمکین پانی نپا تلا آرہا ہے کہ کیا بولوں؟ شکرالحمد للہ!مگر حالات بد سے بہتر ہوتے ہی جارہے ہیں،کرائے ڈبل، سبزی کی قیمتیں ڈبل سے بھی زیادہ، 200 روپے کلوپیاز اور دیگر سبزیاں بھی 50 سے 80روپے پاؤ صرف دیکھنے اوربھاؤ تاؤ کرنے میں زندگی کا قیمتی وقت بھی لگ رہا ہے اور دل رُل رہا ہے۔ ہر مرتبہ ایک نئی بڑھتی ہوئی صورتحال!یہ سب کیا ہے نہ کوئی پولیس،نہ کوئی پوچھنے والا، جس کا جو جی چاہے لوٹ مار کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔
ایسے میں منہ سے ان ہی بھائیوں کیلئے نکلتا ہے کہ بھائی کیا دے رہے ہو؟کیوں ایسا ظلم کر رہے ہو؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم تھوڑی مہنگادے رہے ہیں اوپر سے سے مطلب آگے سے ہی ہمیں مہنگا مل رہا ہے اوپر سے ان کا مطلب حکومت سے ہی دام بڑھتے جارہے ہیں تو ہم کیا کریں؟ وہ جو کہا جاتا ہے ناکہ دنیاوی معاملات میں اپنے سے نیچے والوں کو دیکھو اور دینی معاملات میں اپنے سے اوپر والوں کو دیکھو!بالکل درست مگر یاد رکھیں حکومت اور عوام الگ الگ نہیں،کون کیا کر رہا ہے؟
اللہ کو سب کی خبر ہے کتنے بہانے بنالیں، کتنے دھوکے دے لیں جو اب تو اللہ کو دینا ہی ہوگا! ذرا ذراسی بات پر نوکری سے برطرف کر دینا ظلم ہےمیرے سامنے اسٹیٹ ایجنسی والے نے اپنے صفائی کرنے والے بندے کو کھڑے کھڑے نکال دیا تو وہ کہنے لگا ایسا ظلم نہ کرو رحم کرو، تم تو سرکار ہو عوام پررحم کرو تو اسٹیٹ ایجنسی والے نے کہا میں نہیں نکال رہا اوپروالا باس نکال رہا ہے۔ جاؤ کام کرو، کافی منت سماجت کے بعداس نے کہا جب اوپر والے نیچے والوں کو نہیں دیکھیں گے ناتوان سے اوپر والا بھی انہیں نہیں دیکھے گا! یہ کہنا اُن سے،میں یہ سب گیلری میں کھڑی سن رہی تھی۔ مجھے لگا یہی میں حکومت اور ان کے کرتے دھرتا سے کہہ رہی ہو ں کہ کس قدر لوٹ مار لگائی ہوئی ہے،عوام کی ریڑ لگا دی ہے نہ نوکری نہ چاکری نہ تو مستقبل میں اچھے پیشے کے ملنے کا اندیشہ، بس ٹیکس پر ٹیکس اور بس! ساری نظر یں اسی پر کہ کل گیس کے اور بجلی کے نرخ بڑھ گئے۔ چاہے بجلی نہ آئے بل آئے گا بڑھا ہوا۔آج پٹرول کو پہلے سے بڑے اور نئے پر لگ گئے اسکا اثر ہر شے پر پڑ گیا گویا کہ تابکار اثرات چھوڑے، ڈاکٹر کے پاس جاؤفیس سن کر مزید طبعیت بگڑی منہ سے نکلا عوام پر رحم کرو۔ چلو سرکاری ہسپتال اور اتنی بڑی لمبی لائین! چلو کوئی نہیں کوشش کرتے ہیں آخر الیکشن میں بھی تو لائین لگائیں گے انشاء اللہ! انہوں نے نسخہ لکھ دیاٹیسٹ کا الگ، دواؤں کا الگ! دوائیں لینے پہنچنے توقیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں ،ٹیسٹ کا پرچہ پھینکااور دواؤں پر اکتفاکیا منہ سے پھر نکلا خدارا عوام پر رحم کرو! منہ بنا کرکیمسٹ نے کہا اوپر سے ہی مہنگی آرہی ہیں تو ہم کیا کریں؟ واپسی میں بڑا سوچا نا جانے گیس ہو گی گھر پریانہیں؟ اتنی دیرہورہی ہے چلو روٹی بھی لے لیتی ہوں چار روٹی بھائی، چپاتی؟ نہیں تندوری نان 100 روپے،روٹی لینے تک کوئی انڈین گانا لگاخود سنائی دینے لگا۔
جائیں تو جائیں کہاں؟ سمجھے گا کیا؟
یہ جہاں درد بھرے دل کی صدا !!!
مجھے امی یاد آ گئیں۔ اکثر گنگناتی تھیں یہی گا نا! مجھے حیرت ہوئی سوچنے لگی کس کس طرح لوگ اپنا غم سناتے ہیں پھر وہی بات کہہ رہی ہوں! کہ" عوام پر رحم کرو" جس سے ہر شے کی قدر کھو کرعوام کو مجبور لاچار اورمغموم کر دیا ہے۔ گویا پکا رہے عوام کی عوام سے کہ رحم کرو عوام پر کیونکہ سرکار کی طرح عوام بھی بے درد ہوتی جا رہی ہے اس لئے سب کو احتساب کی ضرورت ہے۔ اوپر سے نیچے تک!اللہ ہم سب پر رحم فرمائے۔ آمین۔ مگر ہمارے لئے حکم کیاہے؟
کرو مہربانی تم اہل زمین پہ
خدا مہرباں ہو گا عرش بریں پہ





































