
لطیف النساء
خوش نصیب وہ ہے جس کےنام پہ " دعوت کا رڈ" آئے۔ آپ سوچتے ہوں گے" دعوت کارڈ"؟ مطلب مجھے بھی
ہماری ایک ساتھی نےبھیجا ۔ اتنا اچھا لگا کہ ساری دوستوں اور گروپس میں شیئر کرنےکے بعد بھی تسلی نہ ہوئی سوچا بلاگ بھی لکھ کرباقی ساری دنیا کو بتا دوں کہ خوش نصیب کون ہے؟
ہم اکثرقیام اللیل کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بناتے۔اللہ کےمحبوب چنیدہ بندےہی ہوتے ہیں جو قیام اللیل کا اہتمام کرتے ہیں۔نیند کسےعزیز نہیں؟ اوروہ بھی رات کی آدھی پہرگزرنےکے بعد کی میٹھی نیند! انسان خواہش کرتا ہے جاگنے کے بعد کہ ابھی صبح ہونے میں بہت وقت باقی ہو!
اگرکبھی دو تین بجےرات کو آنکھ کھل جائے توبندہ خوش ہوجاتا ہےکہ ابھی مزید سو سکتےہیں مگرمزید خوش لوگ وہ ہوتے ہیں جوتہجد میں اٹھ کرنماز پڑھنے کا ارادہ کر کےسوتے ہیں خوشی خوشی اٹھ کر نماز پڑھتے ہیں اور رب سے دعائیں مانگتے ہیں۔
ظاہر ہے نیند موت برابر ہوتی ہے اوراللہ ہی زندگی واپس دیکر ہمیں موت سےزندگی کی طرف لوٹا تا ہے۔ بہر حال یہ "دعوت کارڈ" واقعی میرے رب کی طرف سے ہے جو رب العالمین ہے۔مجھے بھی تعجب ہوتا ہے اور قیام اللیل کیا خوشی نصیبی ہے پانےوالوں کی؟ سبحان اللہ! عام نمازوں اورقیام اللیل میں کتنا فرق ہےسوچ کر واقعی خوشی بھی ہوئی اوردل بھی چاہا کہ ہمیں بھی قیام اللیل ہی نصیب ہو باقی ماندہ زندگی میں ہمیشہ۔ آمین۔
دن میں اللہ تعالی نے پانچ اوقات میں نما زفرض کی ہیں جس کا اعلان یعنی ندا یا ہم اذان کہہ لیں کوئی بندہ یعنی مؤذن لگاتے ہیں اذان دیتے ہیں کہ حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح، آؤ نماز کی طرف، آؤ بھلائی کی طرف؟ جبکہ قیام اللیل کی ندا (ھل من سائل فا عطیہ۔۔۔) ہے کوئی سوال کرنے والا میں اسے عطا کر دوں؟ قیام اللیل صرف اللہ کےچنے ہوئے مومن ہی ادا کرتے ہیں جہاں بندہ مومن دنیا سے منقطع اورآخرت کی فکرمیں مگن ہو جاتا ہے۔ نینداس پر کبھی بھاری نہیں ہوتی۔
فرض نمازوں میں بھی انسان اللہ سے ملاقات کرتا ہے اور پھرمسجد میں دوسروں سے ملاقات میں مشغول ہوجاتا ہے جبکہ قیام اللیل میں مومن اللہ کا شرف اور اس سے کلام اور سوالوں کا متلاشی ہی رہتا ہے اور دعاؤں کے قبول ہونے کا یقین لئے ہوتا ہے جبکہ فرض نمازوں میں دعاؤں کے قبول ہونے کا علم اتنا نہیں ہوتا اور یہاں قیام اللیل میں تو اللہ تعالیٰ خودہی اپنے بندوں سے دُعا کی قبولیت کا وعدہ کرتے ہیں۔ اس لیے خوش نصیب تو وہی ہوئے نا جن سے اللہ کلام کرنا چاہتا ہو اوراس کے ھم وغم سننا بھی چاہتا ہو اوراس وقت وہ بندوں سے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ اس لیے تو خوش نصیب ہے وہ شخص جس نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا دعوت نامہ کارڈ کی صورت میں حاصل کیا اور اس کے سامنے بیٹھ کر کر خشوع و خضوع سے باتیں کیں اور اس سے تمام اپنی مناجات کی لذتیں حاصل کی ہوں۔
واقعی جب ہم رات کے آخری پہر جب سارا عالم سورہا ہوتا ہےاندھیروں میں اپنے مالکِ حقیقی، مالک الملک کے سامنے پیش ہوں توہمیں چاہئے کہ بالکل بچوں والا رویہ رکھیں جب بچہ کوئی چیز ماں سے مانگتا ہے نہ ملنے پر پیر رگڑتا ہے روتا ہے یہاں تک کہ حاصل ہی کر لیتا ہے پس ہم بھی بچے بن جائیں اور یقین کے ساتھ خالقِ حقیقی کو منالیں وہ جلد راضی ہو جاتا ہے۔ ہمیں بھی خود ایسا ہی کرناچاہئے اور اپنے سا تھیوں کو بھی ترغیب دینا چاہئے۔ روزمرہ زندگی میں کتنی چیزیں ہمیں متاثر کرتی ہیں ان میں سے ایک قیام اللیل ہے جسے ہم بہت سنجیدگی میں نہیں لیتے۔ فرض نما روں میں تو ہم دنیاوی سوچوں میں بھی مگن رہتے ہیں، وسوسوں میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ ہم قیام اللیل میں بالکل الگ تھلگ ایک پر سکون دنیا بنا کر صرف رب کے حضور گڑگڑاتے اور اپنی منواتے ہیں کیونکہ فرض نماز کی نداتو ہر بندہ سنتا ہے جبکہ قیام اللیل کی ندا جو بندہ نہیں لگاتا بلکہ رب العالمین لگاتے ہیں اور صرف چند چنیدہ بندے ہی اسے محسوس کرتے اور جواب دیتے ہیں۔ کیا خوب ندا ہے اور کیاخوب دینے والی رب کی ذات ہے!جسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند! فجر کی نماز میں اس کلمے کا اضافہ کہ نماز نیند سے بہتر ہے! کیسی اچھی تجویز ہے۔ واقعی غیر مسلم کہتے ہیں کہ مسلمانوں سے جب متاثر ہونگے جب فجر کی نماز میں عیدین کا سماء ہو توسوچیں کتنا پر اثر پیغام اور کتنی پراثر دعوت اور عبادت ہوگی؟ پس اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے والا بنا دے۔ آمین۔ رسول ؐکی شریعت پر عمل کرنا کتنا مؤثر ہوگا! رجب اللہ تعالیٰ کا مہینہ سمجھا جاتا ہے اللہ ہی اس کی فضلیت سمجھاتا ہے اور ہمیں اپنی طلب کے مواقع دیتا ہے اور عبادات کا بہترین صلہ دیتا ہے تو قیام اللیل تہجد کا کتنا ثواب دیگا؟ موت برابر نیند سے اٹھکر تہجد پڑھنا اللہ کی نعمتوں سے ایک بہترین نعمت ہے۔ اللہ ہمیں عام نماز اور تہجد نماز کے اس فرق کو سمجھنے عمل کرنے اور اپنے تمام فلسطینی عوام، پاکستانی عوام اورکل امت مسلمہ کو اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین





































