
لطیف النساء
پوری دنیا لگتا ہے باغی ہے۔ کچھ نہیں کر رہے روزانہ چار پانچ سو لوگ لقمہ اجل بنا دیئے جا رہے ہیں۔ وہی بم باری طوفانِ غارت گاری، زخمی مزید زخمی،
گھر مکان دکان تباہ!زخمیوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ چکی جبکہ مرنے والوں کی تعداد تقریباً ً25ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک کے عوام اپنے غم وغصے کا اظہار احتجاجی مظاہروں کے ذریعے کر رہے ہیں اور ان مظلوموں کے غم میں شریک ہو کر انہیں آزاد کروانے اور جنگ رکوانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی کراچی میں جماعت اسلامی کی طرف سے ملین مارچ شاہراہ فیصل پر کیا گیا۔ پورے پاکستان کے ہر طبقے کے لوگ اس میں شامل تھےمگر اس مارچ کا اصل مقصد مسلم ممالک کے سربراہان کو عملی اقدامات کرنے اور فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام رکوانے پر دباؤ ڈالنا تھا۔ ظاہر ہے سو دن اور اتنی تبا ہیاں تو ہمیں ہلا کر رکھ دینے کیلئے کافی ہیں لیکن حکمران طبقہ خاص کر عرب ممالک،سعودی عرب پاکستان، انڈونیشیا اور اتنی کثیر تعداد میں ہندوستانی مسلمان اور ان کے حکمران کوئی قابل قدر کام نہیں کر رہے گویا انکا چپ رہنا کچھ نہ کرنا منفی رویے کے مترادف ہے جو قابل افسوس بھی ہے نہ خود کچھ کر رہے اور نہ ہی عوام کو کچھ کرنے دے رہے ہیں نہ فوجی طاقتیں کار گر ہیں کیوں؟
سب لوگ جدھروہ ہیں وہ اُدھر دیکھ رہے ہیں
ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
جدھر وہ ہیں سے مراد اسرائیلی ظالموں کے ظلم کا شکار نہتے فلسطینیوں کی طرف دیکھ رہے ہیں جبکہ ہم ان لوگوں کو بھی دیکھ رہے ہیں جو انکا ساتھ نہیں دے رہے بلکہ مخالف ہی کہوں گی اُن کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اسرائیل کبھی اکیلا یہ ستم نہیں کر رہا۔ اس کے ساتھ برطانیہ امریکہ اور خاموش تماشائی اسکے پٹھو شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو منظم کرے یہی تو اتفاق اور اتحاد کے ساتھ ملکر ان فلسطینیوں کی مدد کرنے اور مقامات مقدسہ کی پوری حفاظت کرنے کا عین وقت ہے۔ انتظار کس بات کا؟بلا وجہ وقت کے ساتھ ساتھ روز انہ ہزاروں زندہ گنوانا میرے نزدیک ایک مجرمانہ بلکہ مشتر کہ مجرمانہ ظلم ہے۔ امت مسلمہ پر یہ ذمہ داری آتی ہے۔ سعودی عرب کو پاکستان کو پہلے للکارنا چاہئے انکے حکمرانوں کو مشترکہ لائحہ عمل بنا کر فوراً جنگ بند کروانی چاہیے۔
اس طرح تماشائی بن کرنہیں رہنا چاہئے۔ یہ مسلمانوں کا شیوہ ہرگزنہیں ہو سکتا!وہ معصوم بچے،عورتیں،زخمی، بے گھر، بے در مسلمان فلسطینی مدد کیلئے پکار بھی نہیں رہے۔امن عامہ کے ادارے اور بین الا قوامی انسانی حقوق کے علمبردار بھی مجرمانہ حرکات کر رہے ہیں۔ ظلم کی انتہا ہے کہ خوراک، پانی اور ادویات تک نہیں پہنچنے دی جا رہی ہیں، نہ ہی بمباری روکی جارہی ہے کتنا ظلم!کیوں؟ کیا ضمیر سو گئے یا پھر ایمان اتنا ضعیف ہو چکا ہے کہ کسی کے دکھ، غم، تکلیف،موت تک کا احساس ختم ہو گیا؟ کیا ہمیں موت نہیں آئے گی؟کیا آخرت اور اسکا حساب کتاب بالکل ہی فراموش کر بیٹھے ہیں؟ خدارا ہوش میں آئیں! انسانیت کا احساس جگائیں!زندگی کا مقصد ادا کریں۔ امن قائم کروانے کی پوری کوشش کریں، اللہ کو فساد پسند نہیں! رکوائیں ہر طرح کے فساد کو ہر جانب کی فساد گری کو،توڑ ڈالیں ظلم کے ہاتھ، ظالم کے سر اوراپنا بھرپور رول نبھائیں۔ آخرت میں جواب کے کٹہرے میں کیسے کھڑے ہونگے؟
کچھ کئے بنا!سوچا ہے؟ یہ بد سلوکی ہے لا پرواہی ہے خود غرضی ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کا ساتھ نہ دیں جبکہ وہ خود امت مسلمہ سے شعائر کو بچانے اپنی آزادی بچانے کیلئے جانوں کے نذرانے مسلسل ڈٹ کر دیئے جارہے ہیں اورصبر برداشت سے اکیلے ہی اپنا فرض عین نبھا رہے ہیں جبکہ ہم پوری ہی امت مسلمہ اس سعادت سے محروم ہیں،نہ منظم ہیں اور نہ متحد، یہی ہماری کمزوری ٹیکنا لوجی سے زیادہ ہمیں اپنے قوت ایمانی پر بھروسہ کرکے ہر طرح کی بازی لگانی چاہئے یہ تو اب ہم سب پر فرض عین ہے!"جہاد" فلسطینیوں کی آزادی اور مقامات مقدسہ کی حفاظت کیلئے۔ عوام تو ہر لیول پر جلسے، جلوس، مظاہرے، پلے کارڈ، تقریر، تحریر ہر ہر طرح سے میڈیا کے ذریعے تک اپنا رول نبھا رہی ہے اور اپنے فلسطینی بھائیوں کی مدد کیلئے تیار اور متحرک ہیں مگر کیا کیا جائے جبکہ مسلم ممالک کے سربراہان غیر فعال اور ڈھیلے پڑے جارہے ہوں۔
ہمارے تمام پاکستانیوں کی اپنے اور دیگر مسلم ممالک کے سربراہان سے درخواست ہے کہ خدارا اپنا اہم کلیدی رول نبھائیں، جنگ رکوائیں، نسل کشی بند کروائیں اور اپنے حقوق کیلئے منظم اور متحد رہیں۔ جاگیں اور جگائیں، دنیا کو بتائیں جہالت کے اندھیروں سے ہدایت کی روشنی میں آئیں اور اس امن کے نور سے دنیا کو دوبارہ منور کردیں۔ امن کے پیامبر بنیں ظلم نہ کریں، نہ کرنے دیں کیونکہ ظلم کے خلاف کچھ نہ کرنا بھی ظلم ہے۔ اسے روکنا ہی ہوگادعا ہے کہ اللہ پاک ہم سب مسلمانوں کی مدد فرمائے اور دنیا میں منظم رہیں۔ پرامن رہیں۔ آمین
نوٹ :ایڈیٹر کا بلاگرکےخیالات سےمتفق یونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )





































