
لطیف النساء
رات سے تیز بارش، اگرچہ وقفے وقفے سے ہوتی رہی۔شہرکا حال دیکھیں!زیا دہ ترعلاقے اندھیرے میں ڈوبےہوئے، فون تک چارج نہ ہوسکا۔ شادی میں بہت
دور جانا تھا اس لئے وہ موخرہوگئی ۔ آج صبح سے موسم بوجھا بوجھااور دس ساڑھے دس بجے سے جو بارش ہوئی وہ اتنی زیادہ تو نہ تھی لیکن شہر کا حال نہ نکاسی آب کا نظام، نہ گٹر کے ڈھکنوں کا ہونا، غیرمتوازن سطح مرتفع، تجاوزات، گویا جگہ جگہ رکاوٹیں، ڈھلانیں، سیڑھیاں، جنگلے اور اندرونی بنگلےعجیب آسیب زدہ ماحول اورپھر کچی بستیاں اورروڈوں کا ٹوٹا پھوٹا ہونا ایک طرف! اللہ کی پناہ!جیسے ہی موبائل کھولا کسی دل جلے، چوٹ کھائے، زخمی دل کی فریاد، وہ کہنے لگا کہ اپنا ووٹ دینےسے پہلے اپنے محلے کی حالت بھی دیکھ لینا بھائی۔ ان سب کو یاد رکھنا جنہوں نے مہنگائی کی وجہ سے خودکشی کی،جنہوں نے بجلی کا بل بھرنے کی وجہ سے اپنے گھر کا ساراسامان بیچ دیا، جو بے چارہ اپنی بیوی بچوں کے ساتھ برسات میں نالے میں گر کرمرگیا۔ یہ جو آپ کو کہہ رہے ہیں نا کہ یہ آپ کو تین سویونٹ بجلی مفت دیں گے۔
یہ لوگ آپ لوگوں کوجیتنے کے بعد دوربین سے بھی نظر نہیں آئیں گے!! ابھی موقع ہے خیال کرنا! بعد میں اپنے دکھوں کا کسی سے بھی سوال نہ کرنا! اور اس کے بعد نغمہ لگا: اے میرے پیارے وطن، پاک وطن، پاک وطن! سن کے واقعی کان کھڑے ہو گئے۔
کتنے دکھ ہیں سوچیں رات سےبجلی نہیں گھروں میں، میٹھا پانی نہیں متوسط لوگوں کا یہ حال ہے باقیوں کا کیا ہوگا؟ اللہ سب کو پناہ میں رکھے۔ کس ہمدردی اور دکھ سے یہ بندہ بات کررہا ہے،دودھ کاجلاہےچھاچھ کو پھونک پھونک کرپی رہا ہےاور سب کو مطلع کر رہا ہے!
سبحان اللہ اس موبائیل میں بھی کتنےہمدرد لوگ ہیں، تنبیہہ بھی کرتےہیں اورآگاہی بھی دیتے ہیں ،فیصلہ تو آپ کو کرنا ہے۔ ماں کی طرح ہمدرد بندہ! اللہ کی شان جس کسی کی جان گئی، مال گیا، مکان دکان گیا! جس نے منہ کی کھائی بلا جواز اس کا کوئی پرسانِ حال نہیں! عدالتیں غیر فعال،پولیس اوررینجر زوبال، ہسپتال صرف اچھا گمان، منیجمنٹ نہ ہونے کے برابر۔ شکراللہ کا اس کے باوجود" انتخابات "اللہ ہی کی شان۔ اللہ پاک مبارک کرے۔ آمین۔ اچھی خواہش اور دعاؤں کے سا تھ خیر سے ہوجائیں، سوچ سمجھ کر ووٹ کا استعمال کریں۔ صالح اور وفادار لوگ جو اللہ سے ڈریں اور لوگوں کے حق میں رحم دل ہوں اورمعاشرے کی بھلائی، فلاح اور دین کے نفاذ کے خواہاں ہوں، تم مایوس نہ ہونا ۔ اللہ کی ذات عظیم ہے ۔ وہ ضرور ہماری مدد فرمائے گا اور صالح نیک حکمران ہم پر مسلط کرے گا بشرطیکہ ہم خود بھی نیت کریں کہ ہم اپنی ذات و صفات سے مخلص اور صالح ہوں گے اور آنے والی اس حکومت کے معاون و مدد گارہوں گے۔ انشا ء اللہ۔
مایوسی کفر ہے۔میرے بھائی اچھی نیت،اچھے کام، اچھی سوچ،دعا، دواسب کارگرہوتی ہے،بس ہمیں مضبوط اورمستحکم رہنا ہے۔اپنا ووٹ درست جگہ استعمال کرنا ہے،غلطی کی گنجائش نہیں۔مومن ایک بل سےدوبارہ یا بار بار نہیں ڈسا جاتا۔ویسے بھی عزت و وقار انسانی زندگی کا ہوتا ہے اداروں کی عزت ووقار نہیں۔ ذمہ داریاں ہوتی ہیں جنہیں انہیں عزت ووقار والےانسانوں نے نبھانا ہوتا ہے۔
اے عزتوں کے مالک میری عزت تیرے ہاتھ میں ہے۔ اےعطا کرنے والے ہماری مشکلا ت کو آسان کردے اور ہمیں نیک صالح حکمران عطا فرما اور ہمیں بھی نیک اورصالح بنادے کیونکہ واقعی مسلمان تو وہ ہے جسے دوسروں کےدکھوں کا احساس ہو تو ہم سب لوگ اگر متحد ہوں گے، دنیا میں ہرجگہ ہر مسلمان کے دکھ درد کو سمجھیں،اپنے ملک کے لوگوں کیلئے خیرخواہ اور ہمدرد ہوتو اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے گا۔
ہمیں کبھی بھی اپنے دکھ درد میں گھِرے بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑناچاہیے۔اپنے ہم وطن ہوں یا دنیا کےکسی بھی علاقے میں ہوں۔ آج ابھی سے اگر ہم اس بات کا تعین کرلیں کہ سارے مسلمان بھائی (امت مسلمہ) ہمارے لئے ہماری ہی ذمہ داری ہیں ،ہمارے حکمرانوں کی ذمہ داری ہیں جنہیں ہم ہی چنتے ہیں اور موقع دیتے ہیں کہ اپنی خدمات پیش کریں اورہم تمام لوگوں کوچاہیے وہ کسی بھی جماعت کے ہوں مقصد اور اپنے اعلیٰ مقصد کیلئے مل جل کر کام کرنا چاہیے۔ایک دوسرے کی مخالفت نہیں معاونت کے ساتھ نیک نیتی اور خلوصِ دل کے ساتھ امن کیلئے بھلائی کیلئے خیر خواہی کیلئےیک جان ہو کر کام کرنا پڑے گا کہ اس مختصرزندگی کے عظیم کام کو، اپنی ذمہ داری کو ہم بخوبی اور احسن طریقے سے انجام دے سکیں۔
اس بھلائی کی خیرخواہی ہمارے لیے قابلِ ستائش اورقابلِ عمل ہے کہ ووٹ اوراس کا استعمال ایک بہت ہی اہم فریضہ ہے،اس سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں اس امانت(ووٹ) کو اہل علم، دانشوروں،نیک اور صالح لوگوں تک مخلص ہو کر پہنچانا ہی ہمارا فرضِ عین ہے۔ اس میں کوتاہی تباہی ہے تباہی! اللہ بچائے۔آمین





































