
لطیف النساء
روزانہ دن میں کئی دفعہ مطلب جب بھی خبریں سننےٹی وی کھولیں یہ ایڈ آرہا ہوتا ہے گلابی غیرمہذب ناشائستہ مغربی طرزکےفراک میں ملبوس
محترمہ اترااترا کرکہتی ہیں ہائےگرلزاورمیرے منہ سےنکلتا ہے کہ تمہاری حیا گئی مر۔ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ حیا دین کاجزہے جس میں حیا نہیں تو وہ جوجی چاہے کرتا پھرے تو یہی تو عملی طور پر اس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہو رہا ہے۔
سارے ہی اشتہارات دیکھ لیں، ٹاک شوزدیکھ لیں، کھانا پکانا یا صبح کی نشریات دیکھ لیں اور تواورخبریں ہی دیکھ لیں! مختلف چینلز بے حیائی کےہزارہارنگ بکھیررہے ہیں،سمجھیں یہ وائرس اور کرونا سےبھی زیادہ خطر ناک ہے، بیہودہ لباس جو نہ صرف نظروں کوخراب کرےروح تک کوآلودہ کر دے۔خبروں میں تو نہ جانے کہاں کہاں کی مخلو ق لال کوٹ، پینٹ میں ہیل والےجوتے سرجھاڑمنہ پھاڑ اور خبریں سنانے کا انداز توبہ تو بہ چیخنا چلانا ہی ہوتاہےوہ خود بڑی خبر بڑااشتہار بنی ہوتی ہیں۔
زیادہ تر بغیر دوپٹہ، لباس کےتقاضے ہوا میں اڑا کربے باکی سےبے حیائی دیکھاتی ہیں، نہ لباس میں حیا،نہ آوازمیں حیا، نہ آنکھوں میں کوئی حیا،اپنے آپ کو مسحور کن کہلوانا پسند کرتی ہیں۔ کم ازکم لباس تو شخصیت کا آئینہ ہوتا ہے۔ ساری دنیا میں مسلمانوں کا امیج خراب ہوتا ہےتو ہو مگر کیا انہیں بالکل اللہ کاخوف نہیں یہ کیسےاتنے بے پاک ہو سکتے ہیں؟ میں نے کئی دفعہ پیمرا کو فون کیا بر وقت احساس دلوایا انہوں نے میرا ہی الٹا انٹرویولےڈالاجی جی بالکل بالکل صحیح کہا اورآج تک ذرہ برابر تبدیلی رونما نہ ہو سکی بلکہ اورآوے کا آوا ہی بگڑتا جا رہا ہے۔
کب تم بگڑے کیوں تم بگڑے کس کس کو بتلاؤ گے
اتنے دور تو آنکلے ہو اور کہاں تک جاؤ گے؟
خبروں کی تیاری سےنشرہونے تک ہزارہا مراحل سے یہ گزرتا ہوگا،گھر سے نکلتے وقت گھروالےبھی نہیں دیکھتے؟ چلو خیر ہے گھر سے باہر جا کر وہ کس رنگ میں ڈھالی گئی، کس نے ڈھالا کس نے میک اپ کیا۔ کس نے آگے پاس کیا؟ اور کیا سوچ کر کیا۔ کپڑے پہننے والیاں، پہنانے والے، بنانے والے،سنوارنے والے،کیا کسی کو نہیں معلوم کہ لباس کےبنیادی تقاضے کیا ہوتے ہیں؟ اگرقابو نہیں کرسکتے تو کم ازکم عورتوں کی اس طرح تشہیر تونہ کرو۔ یہ آپ کی ماں ،بہن ،بیٹیاں ہیں انہیں اس حلیے میں لانے والے سارے مرد حضرات ہیں۔
کیسےعورتوں کو اتنی آزادی دے دی کہ وہ جوجی چاہےکرے،جیسے چاہیں حلیے اپنائیں! کیا آپ کی پوچھ نہ ہوگی؟ آپ پرکوئی ذمہ داری نہیں آتی کیا ،آپ خود زن مرید ہیں؟ جو اِن کی چل رہی ہے؟کہیں بھی کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں!ایک برائی کو ختم کرنےسےہزاروں برائیوں کےدروازے بندہوجاتے ہیں۔ہمیں حکم کیاہے؟ اچھائیاں کرو اور برائیوں سے روکو! اور ہم کیا کر رہے ہیں؟کیا یہ ہماری نوکری جائز ہے؟ کوئی بھی اشتہار ہو چائے، دودھ، سرف، پینٹ، کریمیں، شیمپو اور اتنے بیہودہ اشیاء کے اشتہارات کہ نام لینا بھی برالگتاہے۔جب ہم چھوٹے ہوتےتھے تو پاکی صفائی سےمتعلق ان دو اسباق کو کلاس تک میں نہیں پڑھایا جاتا تھا بلکہ کہا جاتا تھا کہ امورخانہ داری کے یہ دونوں اسباق گھر میں والدہ کے ساتھ پڑھ کر آنا۔ اتنی حیا تھی اور اب تو اس کا جنازہ ہی نکل چکا ہے!نہ بڑوں کو شرم ہے نہ بچوں کو لاج وہی بد تمیزی اور بد تہذیبی بےحیائی بلکہ میں تو لو فرپن ہی کہوں گی! کیا مطلب ہے کسی کو کچھ سمجھ نہیں آتا ہے؟
آلویز کےایڈز، لکس کے ایڈز تو بند کردیں یہ تو جرم کے مترادف ہیں اورخبروں کی ہیروئنوں کی توخبر لینے کی ضرورت ہے۔ یہ کیسے اتنی بے باک بنی ہیں۔ ایک طرف عوام ٹرانس جنڈر کے خلاف کام کرنا چاہ رہی ہےتو دوسری طرف عورتوں نے مردوں کو مات دی ہوئی ہے ۔ پینٹ کوٹ، ٹی شرٹ، جینز،ٹراؤزر، شرٹ اور نہ جانے کیا کیا۔ دوپٹہ، چادر،اوڑھنی کا کیا سوال! سوائے چند ایک چینلز کے،سارے ہی خرافاتی عوامل کا شکار!اپنے آپ کو بہت ہی زیادہ ایڈوانس پیش کررہے ہیں۔
خبروں میں ہی کیا کسی بھی اشتہاری پیشےکیلئے عورتوں کو استعمال کرنا جرم کےمترادف ہے۔ یہ بات کیوں سمجھ نہیں آتی؟ اتنا کھلا ماحول ہمارا کیوں ہوتاجارہاہے؟کہ کیا مرد حضرات اس کام کیلئےناکافی ہیں۔ برابری کا تصور کیا یہیں پرپورا ہوتا ہے۔ڈراموں میں، انٹرویوز میں بھی یہی حال ہے۔ صبح کی نشریات تو اللہ کی پناہ!لگتا ہی نہیں پاکستان ہے۔ نہ جانے کہاں کی مخلوق لے کر صبح کا آغاز کرتے ہیں۔
کیا آپ لوگوں کے گھروں میں بھی ایسے ہی کر دار پائےجاتے ہیں۔ پوش علاقوں ڈیفنس وغیرہ تو ہمارازیادہ جانا ہی نہیں ہوتا لیکن سنا ہے کہ باہر نکل کر دیکھومعلوم ہو گا کیا چل رہا ہے ہے؟مگر میں کہتی ہوں کہیں جانے کی کیا ضرورت یہ ٹی وی یہ موبائل ہی کافی نہیں عکاسی کیلئے؟
بہرحال میری التجا ہے کہ خدارا اپنی عزتوں حرمتوں کا خیال کریں۔ اپنی قوم کا مذاق نہ اڑائیں،ترقی مادی ہوتو مناسب ہےمگر ترقی کے نام پر بے حیائی، فحاشی،بے غیرتی، نقالی مغربی دنیا کی دراصل تنزلی ہے۔ اخلاقی تہذیبی گراوٹ ہےلوفر پن ہے،حرام ہے۔ اپنی عزت اپنے ہاتھ ہے۔اپنی خواتین کی حیا اور توقیراس معاشرے کاوقار ہےورنہ تو بگاڑ ہی بگاڑ ہے۔
ہر لیول کا بگاڑ جوخیرنہیں شرہے۔ بے حیائی میں کوئی خیر نہیں یہ جہنم کا راستہ ہے۔ کیا آپ اورہم مل کر اس راستے کوبند نہیں کر سکتے؟ میڈیا کی کتنی بڑی ذمہ داری ہے، یہ تو صرف ایک ایشو سے ایسے تو ہزاہا ایشوز ہیں جن پر پیمرا نےآنکھیں بند کی ہوئی ہیں اور کھلی چھوٹ ہے۔ وقفہ کے نام پر دینی مذہبی پروگراموں کو بھی بری طرح متاثر کرکے لوگوں کاوقت پیسہ سب کچھ ضائع کر دیتے ہیں۔ یہ کسی حالت میں درست نہیں۔ پھر ان لوفر اشتہارات کی تکرار بھی ایک الگ لمبی کہانی بلکہ بے ہودہ فلم ہے۔ تکرار اچھی باتوں کی ہونی چاہیے تاکہ لوگوں کو ازبر ہو جائیں۔ان کے عملوں میں ڈھل جائیں!یہ کیا بات کہ مسلسل بے حیائی کوہی فروغ دیا جائے اور کوئی روکنے والا بھی نہ ہو دھڑلے سے جس کا جو جی چاہے کرتا پھرے، اب تو یہ اثرات گھروں میں تک چل نکلے ہیں،ٹاک شوز کے لہجے اور بحث و تکرار، عورتوں کے بیہودہ ہ لباس، مردوں کی بے تکی داڑھیاں، گندے ہیئراسٹائلزاورغیرمہذب نا شائستہ لباس، چڈے گویا پھڈے! اللہ کی پناہ!خبروں میں مردوں کےلباس کافی ڈیسنٹ ہوتےہیں لیکن عورتوں کےلباس کافی ناشائستہ ہوتےہیں۔





































