
لطیف النساء
ہر خوبصورت چیزہمیشہ چھپا کرحفاظت سےحجاب میں رکھی جاتی ہے۔یہ قدرت کا نظام ہے۔ کیڑے مکوڑے حشرات تک سے بچانے کیلئے اللہ
تعالیٰ نے پھل فروٹ ، میوہ جات کوغلافوں میں بلکہ کئی کئی غلافوں میں چھپا کررکھا ہوتا ہے۔ جب ہی وہ زیادہ محفوظ اوراہمیت کےحامل ہوتے ہیں بالکل اسی طرح رب نے بنیادی طور پرعورت میں حیا رکھی ہے۔
چھوٹی سی عمر سے ہی بچیاں جھجکتی ہیں، شرماتی ہیں اور کسی کا بعض دفعہ غور سے دیکھنا تک پسند نہیں کرتیں یہ کیا ہے؟ یہ یقینا عورت کی نسوانیت اس کی حیا ہے جو اسے معاشرے کی آلودہ اوربدنگاہی سےبچاتی ہیں ۔ مسلمان گھرانوں کی لڑکیاں جب اپنے بڑوں کو اس ماحول میں دیکھتی ہیں تو خود بخود ان کے اندرحیا اورحجاب کا تصور ترقی پا جاتا ہے۔
انہیں کہنےسننے کی قطعی ضرورت نہیں ہوتی۔ آج سے تیس چالیس سال پہلے ماحول کافی مختلف تھا۔ لوگوں میں خوف خدا اور آخرت کی جواب دہی کا احساس زیادہ تھا،اتنی بے حیائی عریانی، فحاشی اورمیڈیا کی لوفربازی، لچر پن بالکل نا تھا لیکن دھیرے دھیرے یہ میڈیا آگے بڑھتا گیا، مغربی ممالک ہندوانا ممالک اور نہ جانے کہاں کہاں کی خرافات سرِ عام بغیر روک ٹوک ٹی وی پر آنے لگیں۔ رہی سہی کسر موبائل نے پوری کردی۔ ہم صرف اس میڈیا کو الزام نہیں دے سکتے۔ اس کا غلط استعمال کرنے والے وہ تمام خواتین و حضرات ہیں جنہیں کبھی غلطی اور کوتاہی کا احساس ہی نہیں ہوا نہ ہی انہوں نے اس پر پابندی لگانے کی کوشش کی بلکہ خود بھی مکمل طور پر اس کا حصہ بن گئے ہم نے تو کبھی پڑھا تھا ایسے بھی شعر ہوا کرتے تھے جو درست تھے:۔
تمھیں سجنے سنورنے کی ضرورت کیا ہے؟
تم پہ سجتی ہے حیا کسی زیور کی طرح
سبحان اللہ آج بھی حیا کا وہی معیارہے اپنی حیا کو مضبوط حصارمیں کرلینے کیلئے ہی خواتین، لڑکیاں عبایا اورحجاب لیتی ہیں تاکہ اپنے آپ کومستور رکھیں اور ستائی نہ جائیں۔ جیسے قرآن پاک میں کہا گیا ہے ناکہ اپنےجسم کوڈھانپ کر حجاب میں نکلو بلکہ بغیر ضرورت باہر نہ نکلو۔ اس کے بھی آداب بتائے گئے کیوں؟ تا کہ حجاب اور حیا کا تصور برقرار رہے اور زمانہ جاہلیت کی طرح بن سنور کراتراتی پھرنےسے منع کیا گیا ہے اس تناظر میں دیکھا جائے توآج کا ماحول سر سے پاؤں تک کہاں کہاں سے حیا اور حجاب کورسو اکیا گیا ہے؟
لباس کے سارے ہی تقاضےپسِ پشت ڈال کر مردانہ کپڑوں میں سرجھاڑ منہ پھاڑوہ بھی رنگوں سےلیپا تھیپا! کیا ہونٹ، کیا آنکھیں، پلکیں لگی ہوئی، لینسز لگے ہوئے، بندی کچھ سےکچھ نظر آئے اوپرسے آواز اوراسٹائل کا جادو جگائے تو سوچیں وہ دنیا میں تو سب کچھ کمائے، آخرت میں کہاں جائے؟
کیا اس کے گھر والے اس کے محرم نہیں۔ کیا اپنی بہنوں، بیٹیوں کو پورا ہی کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے؟ آپ کیسے قوام ہیں؟ پوچھ تو آپ کی بھی ہوگی نا! ہرسال 14 فروری کو حیا ڈے منایا جاتا ہے صرف یاد دہانی کیلئے اپنے عزم اور اہم کام مزید تقویت دینے اور مزید نافذ کرنے کیلئے ورنہ تو میرے خیال میں ہر دن ہر لمحہ ہی ہمارا ہم سے حجاب میں رہنا ہی چاہتا ہے کیونکہ لوگ چہرہ ہی تو دیکھ کر آگے بڑھتے ہیں، رشتے نبھاتے ہیں لیکن اس کے حدود ہیں مگر دیکھا جائے توآپ کی نسوانیت کیا کہتی ہے؟ سوچا ہے؟ تو سنئے؟
تمہارا چہرہ ہر دم حجاب مانگتا ہے
یہ ہر لمحے کا تم سےحساب مانگتا ہے
دیکھانا کتنا اہم ہے حجاب ہم کتنامحفوظ محسوس کرتےہیں تویہ حصار ہمیں بےباک کردیتا ہےاورمعزز بنا دیتا ہے۔ ہمیں معلوم ہے سوائے رب کے کوئی ہمیں نہیں دیکھ رہا! ایک عجیب سی تقویت ہے اس حجاب میں ورنہ تو نئی نئی کہانیاں جنم لیتی ہیں۔ بچپن میں میں نے اتنی حجاب والی خواتین نہیں دیکھی تھیں مگر شکر الحمد للہ کہ اب زیادہ نظر آتی ہیں ہر جگہ ہر ادارے میں اورہمیں بھی بہت اچھا لگتا ہے گزرے ہوئے بے باکانہ بے حیائی پر ہم بہت نادم ہیں۔
یقین جانیے بغیر حجاب کے بھی ہم اتنے فیشن ایبل تھے جتنے آج ہیں۔ بے شک سب کچھ کریں لیکن اللہ کے احکام کی پابندی ضرور کریں اور اپنے چھوٹوں کو خود اپنا رول ماڈل دیتے ہوئے سیکھائیں کیونکہ اس حصار میں ایک پاکیزگی ہے، تحفظ ہے، شکر گزاری ہے اور فخر ہے کیوں؟ کیونکہ ہم مسلمان ہیں۔ لہٰذا ہماری پہچان ہیں تاکہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں، توساتھیو یہ تو آپ پر منحصر ہے ناکہ آپ کیا چاہتی ہیں؟ ہماراجسم، جان، روح، صلاحیت، قابلیت سب اللہ کی امانت ہے۔ اسے ویسے ہی بغیر خیانت واپس دینا ہےتو بے حجابی بھی میری نظر میں خیانت ہے۔ وہ کسی کو تو کیا رب کو بھی پسند نہ آئے گی سوائے شیطان کے۔ پردہ اور حجاب کرنے کے باوجود بھی شاعر حضرات کے کیا تاثرات ہیں۔ ظاہر ہے حجاب میں بھی بنی سنوری آنکھیں!! بہت کچھ بولتی ہیں۔
نہ دیکھو اتنی بے باکی سے افسانہ نہ بن جائیں
نگاہوں کے تصادم میں بڑی تاثیر ہوتی ہے؟
اس لئے کلام مجید میں جگہ جگہ آنکھ، کان اور دل کا ذکرکیا گیا ہے۔ کان سنتے ہیں، آنکھیں خطا کرتی ہیں اور دل کو مائل کردیتی ہیں۔ اچھائی اور برائی کا چناؤ کرنے کیلئے بس یہی انتخاب آپ کا ہے، آپ کبھی اپنے ہی انتخاب میں فیل ہونا چاہیں گے؟ نہیں نا اس لئے میرے ساتھیوں حیا حجاب کو لازم کریں رب کو ضرور راضی کرلیں کیونکہ رب راضی تو سب راضی! سبحان اللہ





































