
لطیف النساء
اسکول کے زمانے سے مجھے یہ شعر یاد ہے
سبق پھر پڑھ صداقت کا،عدا لت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
صداقت، امانت، دیانت ان تینوں چیزوں سےانسان میں شجاعت(بہادری) آجاتی ہے اوراسی کی وجہ سے وہ دنیا کی امامت کرسکتا ہے۔ نہ جانے کیوں اچھا لگتا تھا آسانی سے سمجھ آگیا تھا یاد بھی ہو گیاتھا اورآج تک یاد ہے نہ جانے اس دور میں کیا بات تھی کئی کئی مرتبہ یہ شعرساتھی ایک دوسرے کوسناتے او محظوظ ہوتے تھے۔ سناتے ہوئے بھی اور دوسروں سے سنتے ہوئے بھی۔ ایک خوشی سی ہوتی تھی ، آہستہ آہستہ اس کے معنی بھی سمجھ آنےلگتے تھے۔
ذرا ذر اسی بات پر امی بھی کوئی نہ کوئی شعر کردارسازی کیلئے سناتی رہتی تھیں ۔ اُن کی عادت تھی توہم بھی موقع مناسبت کا لحاظ کیےبغیران کا رٹا ہواشعرسنا دیتے تھےاورہمیشہ امی سے داد وصول کرتے تھے۔میرے بڑے بھائی تو بالکل شاعرانہ اندازمیں اسٹائل کے ساتھ سناتے تھے اور آج وہ بستر کے ہوگئے ہیں ، پھر بھی کسی نہ کسی بات کا جواب ان کا یہ شعر ہی ہوتا ہے۔
مجھے آج بھی ایک مکمل درس لگتا ہےکتنی گہری بات ہےجنہیں آج کےدور میں ہر بندے کوسمجھ آجانا چاہیے۔ظاہر ہےدیانت داری کتنی بڑی صفت ہے،جو آنے والی مزید دو صفتوں امانت اورصداقت کو خود بخود سمو لیتی ہے۔ اگرآج بھی یہ صفات ہمارے اندر آجائیں رچ بس جائیں تویقین جانئے دنیا امن کا گہوارہ بن جائے۔
آج توزمانہ بالکل ہی الٹ گیا ہے۔اتنی برائیاں اتنی بے ایمانی اور جھوٹ ہر کسی پر اتنا غالب آگیا ہےکہ یہ تین خوبیاں خال خال ہی لوگوں میں پائی جاتی ہیں مگر آج بھی جن میں یہ خوبیاں مستقل پائی جاتی ہیں۔غیب سے اسے عزت شہرت اور سکون میسر آجاتا ہے۔جب بندہ دین کو اولین ترجیح دے کر اپنی زندگی گزارے گا تو یقیناًوہ اپنے ہر عمل میں سچائی کوملحوظِ خاطر رکھے گا۔ لوگوں کی نظر میں خود معتبر بن جائے گاپھر کیوں نہ لوگ اس کی امامت کو قبول کر یں گے۔
جتنا بندہ اپنی مقصدِ زندگی کو نظر میں رکھتا ہے یعنی قرآن سے جڑا ہوتا ہے شعوری طور پرتواس کا ہر دن اسے بہتر سے بہتر کرتاچلا جاتا ہے، یوں وہ رب العالمین کی جنت سے خود کو قریب کرتا جاتا ہے۔رب کی محبت اور قربت سے وہ اپنے دل میں اٹھنے والے سوالوں کا جواب پاتا ہےاورہرمشکل میں آسانی کو ڈھونڈ نکال لیتا ہے۔ہرمشکل اورغم ہیں میں اس کا تو کل اسے تسلی اور سکون دیتا ہے۔وہ نفع اورنقصان سےبالا تر ہو کر صرف اللہ کی خوشنودی کے کام کرتا ہے۔ اس کے لوگوں کے ساتھ روئیے، تعلقات ہمیشہ اچھے ہی رہتے ہیں۔ لوگ اس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اس لیے اس کی شخصیت مثبت کردار کی ہو جاتی ہے،جسے نہ صرف اس بندے کوتسکین ملتی ہےبلکہ اس سے متعلقہ لوگ بھی سکھ پاتے ہیں۔
ہمیں بچپن سے رسولؐ کی سیرت اور کردار کے بارے میں علم ہے اور اس میں اضافہ بھی ہوتا رہتا ہےجو ہم سب کیلئے زندگی کا نمونہ لئے ہوئے ہیں۔ بالکل سورج کی طرح روشن چاند کوروشی دینے والا ستاروں کو جلا بخشے والا! ٹھیک اسی طرح اپنے ماحول میں نظر دوڑائیں خاندان میں بھی کچھ لوگ مثالی کردار لئے ہوتےہیں۔ ملکی سیاست کو دیکھیں تو آج واضح مثال ہمارے سامنے حافظ نعیم الرحمن بھائی کی ہے جن کا کردار کہہ رہا ہے کہ سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا!کیوں؟ ہم میں ہر بندہ داعی ہے جس سے اسکی رعیت کے بارے میں پوچھا جائیگا۔ نیچے سے لے کر اوپر تک اور اوپر سے لے کر نیچے تک اگر یہ کردار کے حامل لوگ ہون گے تو ہی امامت کے ذمہ دار ہو سکتےہیں خود بخود چناؤ ہو جاتا ہے۔
؎امامت کیلئے اختیار اور اقتدار دونوں چاہئیں تاکہ ملک صحیح معنوں میں ترقی کرے!تو کیا خیال ہے کیا ہم امانت دار ہیں؟ صداقت ہے ہم میں؟امانت ہے ہمارے اندر؟ اگر نہیں ہے تو ہم کیسے امامت کر سکتے ہیں؟تو اس کے لیے کیا کرنا ہے۔ اپنے ملک میں حکومت کیلئے زمامِ کا ر ایسے لوگوں کو دینا ہے جن میں یہ ذاتی خوبیاں ہوں وہی اس کے اہل ہیں پھرمعاشرہ ملک خود بخود سنبھل جائے گا۔ لوگ بھرپور تعاون کریں گے اور خود بھی ان جیسا بننے اور عملی اقدام کرنے کے قابل ہوں گے۔ ہم دعائیں تو خوب مانگتے ہیں کہ ہمیں متقیوں کا امام بنا۔ آمین۔ مگر اپنے گریبانوں میں توجھانک کر دیکھیں؟ اللہ کرے یہ صفات ہم سب مسلمانوں میں آجائیں ،ہم اب کے بہترین چناؤ کریں اوراعلیٰ ترین بہترین قیادت لائیں تاکہ صالح قیادت فروغ پائے اور اخلاقی ،معاشرتی،معاشی ترقی سامنے آئے۔عملی اور شعوری طور پر ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان بنے۔آمین





































