
لطیف النساء
منقول ہےکہ افریقہ میں ایک دعوتی کام کےدوران داعی ڈاکٹرعبدالرحمٰن السمیط رحمانی کےمطابق ایک ڈاکٹر کے پاس ایک افریقی عورت کو
گڑگڑاتے پایا جوعورت اپنے معصوم بچے کیلئے دکھی تھی جسے طبیب نے تقریباً میت قراردے دیا تھا اور وہ یہ نہیں سمجھ رہی تھی، نہ سمجھنا چاہتی تھی کہ اُس کے بیٹے کو جو دودھ پیتا ہے،اُن بچوں میں رکھا جائے جومردہ قرار دیئے جانے والے ہیں اوراُن بچوں میں رکھا جائے جن کا علاج کیا جاتا ہے۔
بقول ڈاکٹرجو مال ہم اس بچے پر خرچ کریں گےاس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ اس کا بیٹا گنتی کےچند ایام ہی جی پائے گا جبکہ یہ مال اس کا حق دا ہے کہ کسی اورپر خرچ کیا جائےجس کا علاج ممکن ہو! وہ عورت ڈاکٹرالسمیط کو بھی کسی وسیلے اور رحم کی درخواست سے تک رہی تھی جبکہ ڈاکٹر یہ سب انہیں بتا رہا تھا۔
ڈاکٹر السمیط نے کہا کہ مجھے بتاؤ اسے کتنا پیسہ درکار ہےروزانہ تاکہ وہ اس کا خرچہ آسانی سےاٹھا سکے؟تو اسے بتا یا گیا کہ بہت تھوڑا سا پیسہ درکار ہےجتنا وہ اپنے ملک میں صرف ایک سافٹ ڈرنک پر خرچ کرتے ہیں تو ڈاکٹر السمیط نے کہا کوئی بات نہیں میں اس عورت کو ذاتی طور پراتنا دوں گا تو عورت نے خوشی سے اس کا ہاتھ چومنا چاہا جسےانہوں نے منع کردیا اورکہا کہ اپنے بیٹے کیلئے یہ نقدی پورا سال لیتےرہنا اور کبھی ضرورت ہو تو ایک بندے کی طرف اشارہ کرکے کہا جو تمہیں چاہیے ہو دے دے گا اور ایک چیک سائن کرکے دے دیا تاکہ وہ اپنی ضروریات پورا کرسکے۔
وقت پرلگا کر اڑ گیا میں بھی اس بچے کو میت سمجھتا تھااورمال تو صرف ماں کی تسکین کیلئےدیا تھا، وہ بھی اس پرکہ اسلام کے ساتھ اپنا وعدہ مضبوط کرلے یعنی دین پر قائم رہے۔ اسلام پرپکی ہوجائے اور پھر وہ یہ بات بھول بھی گئے۔ تقریباًبارہ برس بعد ایک دن وہ اپنے مرکز پر بیٹھےتھےکہ ان کےملازم نے آکر بتایا کہ ایک افریقی عورت آپ سےملنے پربضد ہے اوربار باراصرار کر رہی ہے!تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔ ملنے دو یعنی اندر بھیج تو ایک عورت داخل ہوئی جسے میں جانتا تک نہ تھااس کے ساتھ ایک خوبصورت مطمئن چہرے والا بچہ بھی تھا۔
کہنے لگی ڈاکٹر صاحب (السمیط داعی) یہ میر ابیٹا عبد الرحمٰن ہے۔ یہ حافظ ہے اور بہت سی احادیث رسول ﷺ جانتا ہےاورمیں چاہتی ہوں کہ یہ آپ کے ساتھ رہے اور داعی بن جائے۔میں اس کے اصرار پر خوشی بھی ہوا اور حیران بھی اور کہا کہ تم مجھ سے اس بات پرکیوں اصرار کررہی ہو؟ جبکہ میں نے بچے کودیکھا تو وہ بہت اچھی عربی بول رہا تھا بلکہ مجھ سے کہا کہ واقعی اگر اسلام اوراس کی رحمتیں نہ ہوتیں تو میں آج زندہ نہ ہوتا! اور آپ کے سامنے کھڑا نہ ہوتا! سبحان اللہ! میری ماں نے آپ کے ساتھ گزرا ہوا واقعہ مجھے سنا رکھا ہے اور میری کم عمری میں جو کچھ مجھ ناتواں پر خرچ کیا اس سے میں واقف ہوں اس لئے میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں، مجھے افریقی زبان آتی ہے۔
میں آپ کے ساتھ اسلام کے داعی کے طور پر کام کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے اسکے عِوض کھانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں چاہئے ہوگا۔ آپ مجھے سن سکتے ہیں؟ پھر اس نے بہت ہی اچھے انداز میں سریلی آواز میں سورۃ البقرہ کی چند آیات سنائیں۔ ڈاکٹرا لسمیط نے اس کی خوبصورت آنکھوں میں تسلسل اور شکر گزاری پائی۔ مجھے پھر یاد آ گیا کہ ارے یہ تو وہی بچہ ہے؟ جس کی دیکھ بھال سے وہاں کے ڈاکٹر نے منع کر دیا تھا اور اسکی ماں علاج پر اصرار کر رہی تھی۔ کہیں یہ وہی تو نہیں؟ افریقی عورت کو دیکھتے ہوئے اسنے اشارے سے پوچھا؟ ماں نے حامی بھرلی اور پھر کہا اس لئے میں اسے آپ کے پاس لانے پر بضد تھی اور میں نے اس کا نام بھی آپ کے نام پر عبدالرحمن ہی رکھا ہے۔
ڈاکٹر السمیط کہتے ہیں کہ خوشی سے میرے پاؤں زمین سے اٹھ نہیں رہے تھے،حیرت نے مجھےمفلوج کر دیا تھا۔ میں نے اللہ کے حضور سجدہ شکر ادا کیا۔میں نے روتے ہوئے کہا کہ ایک سافٹ ڈرنک جتنا خرچ ایک جان بچا سکتا ہے اور اس سے بڑھ کر ہمیں ایک داعی عطا کر سکتا ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ سبحان اللہ کتنی ہی حسین بات اور رب کی کیسی قدردانی! ماں کی کیسی لگن،طلب اور تڑپ! اور واہ واہ کیا ماں کا کردار سبحان اللہ! یہی بچہ افریقہ کے قبائل میں بہترین داعی اور لوگوں میں مقبول ہوا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کتنے ہی چھوٹے چھوٹے صدقے ایسے ہوتے ہیں جو اتنے سارے لوگوں کی زندگیاں بدل دیتے ہیں اور انہیں سعادت مند بنا دیتے ہیں اور کتنا ہی مال ہم بلا سوچے سمجھے بغیر کسی مقصد یا ہدف کے خرچ کر بیٹھتے ہیں جو یقینا ہمارے اور امت کیلئے وبال بن سکتا ہے بلکہ بن جاتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی دیکھیں کہ ماں کی ممتا اور اسلام کی برکتیں کیسے کیسے رنگ دکھاتی ہیں؟ جب دنیا میں چھوٹی سی قدر دا نی کا یہ صلہ ہے تو سوچیں وہ رب کریم آخرت میں کیا نہ دے گا؟ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے لئے چن لے اور لینے اور دینے والا بنائے اور ہم سے راضی رہے۔ جبھی تو کہتے ہیں وہ ستر ماؤں سے زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے۔ سبحان اللہ





































