
لطیف النساء
لوگ شب برأت مناتےہیں، اس کی اصل حقیقت کا مجھے پورا پورا اندازہ نہیں لیکن لوگ اہتمام سےروزے رکھتے ہیں اوررات میں عبادات کرتے ہیں
مرد حضرات قبرستانوں میں جا کراپنے مرحومین کیلئے فاتحہ پڑھتے ہیں یہ ایک دن یا ایک رات کا معاملہ نہیں عبرت، سبق، آگاہی کیلئےاوراپنے مرحوم رشتہ داروں ہی کیلئے کیا، بیمار، قریب دورسب کیلئے ہمارے یہی جذبے ہر دم ہمارے اندر ہونے چاہئیں۔
اللہ پاک ہمارے ہرعمل سے واقف ہیں اور قدر دان ہیں ۔ توبہ کیلئے ہروقت رب العالمین کے دروازے کھلے ہیں۔اللہ پاک ہماری کمیوں، کوتاہیوں کو معاف فرمائے اور ہمیں نیک اعمال ہر دم ادا کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین۔ کسی ایک دن یا ایک رات نہیں ہمہ وقت ہمیں اے رب اپنے کو راضی رکھنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین۔
ابھی صبح ہی ایک کلپ دیکھاجس میں ایک صاحب نے بہت ہی سچی بات کہی کہ واقعی ہم میں ہربندہ کرپٹ ہے۔ہماری بریشانیوں اور بے سکونی کی وجہ خودہمارے اپنے اعمالِ بد، بے ایمانیاں، حق تلفیاں ہیں۔ ہرلیول پرہربندہ بے ایمانی کرتا ہی رہتا ہے۔ کوئی چیز خالص نہیں، ملاوٹ، کہنے، سننے،لکھتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔برائیاں اتنی گھناؤنی کہ روح کانپ جائےاب درندوں سے نہ ہی بچیاں بچی ہیں، نہ بچے، عورت،لڑکی،جوان لڑکا تو دورکی بات ہے۔ ہم نے توقبر کے مردوں کی تک بے حرمتی کر ڈالی ہے۔ اللہ ہمیں معاف فرمائے۔اس لئے مکافات عمل مسلسل جاری ہے جو ہماری حکمرانی ہے! ہمارے لئے ویسے ہی حکمران ہیں جس کے ہم مستحق ہیں۔ ہم نے تو ہر ہر قوم کے گناہ اپنائے ہوئے ہیں جن پر عذاب آئے قوموں کی قومیں تباہ ہوگئیں مگر ہم! ہم کیسے ساری قوموں کی برائیاں دھڑلے سے کر رہے ہیں اورپھر الٹی شکایات!ہمیں زیب نہیں دیتا تو توبہ استغفار کرنے اور اپنے انجام سے ڈر نے کیلئے ہرلمحے کے احتساب کی ضرورت ہے۔
ہم کیسے مسلمان ہیں کہ اپنے ہی مسلمان بھائی کا دکھ درد محسوس نہیں کر رہے؟ فسلطین میں قیامت صغریٰ مہینوں سےبرپا ہے۔ ہم مسلمانوں اور حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی! اللہ کی پناہ! کیسی المناک خبر ہے یہ اور یہ ویڈیو اٹھائیس انتیس ہزار لوگوں کو ہلاک کر کے بموں سے ان کے املاک تباہ کر کے،ہزاروں کو بے بس بے کس کرکے زخمی بھوکے پیاسے نہتے لوگوں کو ان کے گدھ نما بزدل یہودی سولجرز ان کی تو آنکھیں تک نکال رہے ہیں اور ویڈیوز بنا کر دکھا رہے ہیں تاکہ اپنی بہادری کا چرچا کریں۔
عالم انسانیت کہاں ہے؟ یہ کیا ہو رہا ہے؟ مسلم حکمران کیوں اپنا رول نہیں نبھا رہے؟مجبوراورمظلوم فلسطینیوں کے حق میں احتجاج کا بھی وقت نہیں اب تو دو ٹوک بدلے کا فرض ہے، حد ہو گئی ظلم بر بریت کی!ظالم کو دیکھنا ظلم کرتے ہوئے دیکھنا اورظالم کا ہاتھ نہ روکنا اس سے بڑا ظلم نہیں؟
میرے نزدیک ظلم پرخاموش رہنا بڑا ظلم ہے۔ میری تمام مسلمان بہن بھائیوں ان کےحکمرانوں اورامت مسلمہ سے پر زور گزارش ہے کہ اللہ کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ ظلم سے روکیں، جنگ روکیں، انسانیت کا قتل عام نسل کشی اس جدید دور میں مزید تباہی کے در کھولے گی جبکہ ہمارا مشن تو امن کا قیام ہے،یاد نہیں کیا کہا گیا ہے کہ تم خیر الامت ہو! جو لوگوں کو نیکی کا پیغام دینے والے اور برائیوں سے بچانےوالے ہو! تو کیا ہم اپنا کام اپنا فرض بالکل ہی بھول گئے۔
جاگو جاگو اور جگاؤ دشمن کی منحوس آگ بجھاؤ،قت پر کام نہ کیا تو کچھ نہیں کیا، مہینے ہوگئے ابھی تک معاملہ اٹکا ہوا کیوں ہے۔ امن کیمیٹیاں، اقوام متحدہ کے ادارے زبانی بیان بازیاں کررہے ہیں،اصل تو اہل ایمان اور مسلمان ہیں ان میں خلوص اور سچائی ہونی چاہیے۔ مسلمان کبھی مایوس اور ناکام نہیں ہوتا۔ اپنے اندر کے انسان کو نہ مارو اور ظلم کا ہاتھ توڑنے کیلئے اپنا فرض عین نبھائیں ورنہ سوچیں آپ کہاں جائیں گے؟ مرکے بھی چین نہ پاؤ گے کدھر جاؤ گے؟یہ مظلوم ہمار ے لئے بڑا چیلنج ہیں۔ ہمت مرداں مدد خدا،پاکستانی حکمران بھی، عوام بھی، کھیلوں میں سیاست میں تیری میری میں لگے ہیں۔ عملی میدان میں کب اترو گے؟ صرف چند ٹرک امد اد کےبھجوانا کافی نہیں سوچیں "وقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے" والی بات ہے۔ اپنے مقصد حیات کو پہچانیں،جان ہے تو جہاں ہے۔ اپنے لمحات کو امر کیجئے، مہلت زندگی کا فائدہ اٹھائیے اور ہر طرح کی مدد کے ذریعے ظالم کا زور توڑیئے۔امت مسلمہ اپنی اخلاقی، ایمانی وحدت کا مظاہرہ کریں اور اپنا مثبت رول ہر وقت نبھائیں۔ اللہ ہم سب کی مدد فر مائے۔ آمین





































