
لطیف النساء
اکثر سنا ہوگا کہ یہ تو "فساد کی جڑ "ہے۔ بچپن میں شایدمیں نےبھی ماں کو کتنا ہی تنگ کیا ہو گا؟ جس کی وجہ سے کبھی کبھار میرے چھوٹے
بھائی کی ابّا سے دھلائی ہو جاتی تھی تب بڑے بھائی، باجی اور امی بھی مجھے فساد کی جڑ کہہ دیا کرتی تھیں۔ بس جب سے ہی مجھے وہ جڑ تلاش کرنے کی دھن سوار تھی پھر زندگی کے تجربات نےسکھا دیا کہ کتنی پوشیدہ ہے یہ فساد کی جڑ! مگر کتنی بےچینی بے سکونی اور بگاڑ پیدا کر دیتی ہے؟ گویا جلتی پر تیل کا کام کرتی ہے! ویسے بھی ساتھیوں اللہ تعالیٰ کو زمین پر فساد پسند نہیں۔ نہ ہی کوئی فساد کرنے والے کو پسند کرتا ہے۔
جب سب کو الحمدللہ یہ بات معلوم ہے تو پھر بھی لوگ ایسےکام کیوں کر جاتےہیں کہ یہ فساد کی جڑ کے مترادف ہوتا ہے؟ ناجائز اورغیرقانونی کام، تکبر بھرا انداز، بے عزتی کرنا۔ دل آزاری کرنا، کسی پر بلاجواز ظلم کرنا، اپنے عہدے، حیثیت،رتبے یا طاقت کا غلط اور ناجائز استعمال کر کے دوسروں کوکمتر اور ذلیل جتلانا فساد ہی تو ہے! ویسے بھی ہمارے ہاں کہنے کو ہم مسلمان ہیں مگر مسلمانوں کی دو اولین صفات صبروتحمل ہم میں نام کو نہیں اس کا جو ری ایکشن فوری ہوتا ہے۔
وہ ایک فسا دی کاہی ری ایکشن ہوتا ہے، کل ہی کی بات ہے کہ ایک خاتون پر جوا یسا لباس پہنے ہوئے تھی جس پر کچھ عربی نما حروف لکھے ہوئے تھے لوگوں نے گھیرکر تنگ کرنا گویا فساد کرنا چاہا مگرشکر اللہ کا ایک خاتون پولیس افسر نے حکمت سے کام لیتے ہوئے اسے بچالیا مگر پھربھی آپ کو معلوم ہے ناکہ برائی وائرس کی طرح تیزسفر کر ہی جاتی ہے۔اس طرح کے واقعات پر بڑے سوالات جنم لیتے ہیں۔
اس لئے تو کہا گیا ہے کہ عملی اقدام سے پہلے تھوڑی تحقیق کرلیا کرو۔تھوڑا تحمل برداشت کیا کرو اورحکمت سےکام لیا کروتا کہ کسی کا کوئی حرج نہ ہو! ویسے مسلمانوں کو تو خاص طور پر سمجھنا ہی چاہیےکہ الفاظ مقدس ہوتے ہیں ، ان کا احترام کرنا چاہئے۔ الفاظ سے ہی تحریر بنتی ہےتحریر کیلئے قلم درکا رہے اور یہ سب چیزیں اپنی جگہ مقدس ہیں تحریر خاموش زبان ہے ،لہٰذا اسکا استعمال بھی معتبر ہونا چاہیے۔
لباس انسان کی شخصیت میں اہم کردار ادا کرتا ہےاوراس کی پہچان ہے،اللہ کی مخلوق میں صرف انسان کوہی لباس کا شعورہے۔الحمد اللہ ۔ مگر یہ کیا؟ نقالی میں ہم کہاں تک نکل گئے ہیں؟ کہ اپنے آپ میں نہیں رہتے ہمیں بڑے سکھاتے تھے کہ کچھ لکھا ہوا بھی ر استے میں پڑا ہو تو اٹھاکراوپرکہیں رکھ دو کہ پاؤں میں نہ آئے اور الفاظ کی یوں بے حرمتی نہ ہومگر غیر مسلموں کی دیکھا دیکھی تو کوے نے اپنا آپ ہی گنوا دیا! باہر ملکوں میں اخبار کے پرنٹ کے کپڑے،جوتے، پرس سب کچھ ملتا ہے۔ اس طرح بچوں بڑوں کے کپڑوں پر انسانوں جانوروں کارٹونوں کی تصاویر اور معنی،بے معنی جملے، فقر ے،الفاظ، ایمو جیز اور یہاں تک کہ شعائر اسلام، مساجد،محراب، مکہ مدینہ، گنبد خضریٰ سب کچھ بنا ہوتا ہے۔ کپڑے، برتن،پر س، جوتے اور چا دریں نہ جانے کہاں کہاں! یہاں تک کے گھروں کے ٹائیلز، باتھ رومز کی چھتوں کے ٹائیلز، دیواروں کی ڈیکوریشن میں تک اِن الفاظوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
ایک جگہ کسی کے گھر کے باتھ روم میں جو ٹائیلز لگے تھے اس میں اللہ محمد کی شبہات تھیں۔ اس طرح ایک چادر دیکھی لوگ کپڑا اچھا ہے کہہ کہہ خرید رہے تھے مگر اس پر جگہ جگہ رنگ برنگے انداز میں " الوحہ" لکھا تھا۔اسی طرح بے معنی الفاظ نہ جانے کون کس ز بان کے ہوں؟ انکا کیا مطلب ہو؟ وہ دیکھ کر لوگ خوش ہو ں یا ناراض! اگر نا راض ہوئے تو سمجھو فساد فی الارض! میں نے بچوں کے کپڑے لئے لیکن انگریزی ذرا سمجھ نہ آئی تو میری بہو نے کہا امی یہ نہ لیں یہ کرسمس اور ہیلوون کیلئے بنائے گئے ہیں۔ اگر وہ نہ کہتی اور میں نے لا کر کسی کو دیئے ہوتے تو سو چیں؟ نادانستہ تو اللہ بھی عزت رکھ لیتا ہے مگر میرے کہنے کا مطلب ہے کہ بنانے والوں کو بیچنے والوں کو، خریدنے والوں کو، سب کو سمجھداری دیکھانی چاہئے۔ ایسی بھی کیا ترقی کہ اسپیشل بننے کے چکر میں منہ کی کھانی پڑے؟ اس لیے تو کہتے ہیں نقل کیلئے عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس میں بھی مثبت اور منفی پہلو ہیں۔ یوں بھی لباس کے تقاضے جتنے عمدہ ہم مسلمانوں کے پاس ہیں سبحان اللہ! مگر ہم! افسوس صدافسو س ہمارے عمل میں نہیں، نہ رنگوں میں سنجیدگی نہ تراش خراش کا لحاظ، اب تو چڈے عام ہوگئے ہیں، گویا برائی برائی نہ رہی، فیشن اور اپ گریڈ کہہ کر ہمیں ہی پیچھے چھوڑ گئی جو اس کے خلاف بولے سمجھو اس نے بڑا جرم کر دیا۔ لوجی!رشتہ بھی ختم اب تو ہم تمھارے گھر ے ہی نہیں آئیں گے!گویا فساد کی جڑ سب نے دیکھی مگر ساتھ ہی لئے پھر رہے ہیں۔بے چارے معصوم!
ان عقل کے اندھوں کو الٹا نظر آتا ہے
مجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے!
پاکستانی میڈیا دیکھ لیں ہر چینل میں الگ رنگ انگریزوں سےآزادی تو لے لی مگر ان کا لباس گلے کا پھندا بنا ہوا ہے۔ غلط فہمی ہے کہ چار لفظ انگریزی بول لیں ان کاسا ڈریس پہن لیں!لو جی اپ گریڈ ہوگئے!نہیں ایسا نہیں ۔
اپنی مٹی ہی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگ مر مر پر چلو گے تو پھسل جاؤ گے





































