
لطیف النساء
اللہ کی محبت اور خوف خدا دو ایسی چیزیں ہیں جو انسان میں انسانیت پیدا کرتی ہیں اور اعمال کی دیکھ بھال،پھونک پھونک کر قدم رکھنے اور
برائیوں سے بچنے پر دل آمادہ رہتا ہے ، یوں بھی قرآنی آیات الفاظ کا ایسا احترام بچپن سے ہی لوگوں میں بسا دیا جاتا ہے کہ اگر راہ میں کہیں کسی صفحے پر بھی عربی یا اس جیسا کچھ تحریر ہو تو چوم کر اوپر جگہ پررکھ دیتےتھے۔
اتنا ادب تھالیکن پھربھی پیچارے یہ احساس ضروررکھتے تھے کہ یہ مقدس کتاب کے انمول مقدس الفاظ ہیں ۔ ان کی بے حرمتی قابل سزا ہوگی! تو سوچیں اس کلام الٰہی پر عمل کرنا کتنا باعث ثو اب ہو گا؟ دنیا و آخرت میں! اس حوالے سے ہم قرآن پڑھنے بیٹھتے ہیں یا اس کی تفسیر ترجمہ یا کوئی درس قرآن ٹی وی پردیکھنےبیٹھتے ہیں تو ہمارے ذہنوں میں یہ ہوتا ہے کہ یکسو ہو کرغور سےسنا جائے اور کوئی درمیان میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو مطلب بیچ میں وقفے یا ایڈز نہ آئیں! ایک تسلسل ہو اور دل وماغ لگا رہےجب جاکر محسوس ہوتا ہےکہ ہم نے کچھ سیکھا سمجھا خوشی بھی ہوتی ہے آگاہی بھی اور ویسے بھی ساتھیوں قرآن کے بارے میں تو حکم ہے کہ جب قرآن پڑھا جائےتو اسے غور سے سنا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائےمگرکیا جائے ۔
ان شیطانی چالوں کا جو یہاں بھی براجمان ہیں۔ ابھی میں صبح کی یعنی چھ سےآٹھ تک نماز فجر کے بعد کسی ایک پروگرام پر فوکس کرتی ہوں۔ شجاع الدین شیخ صاحب کا ایک پروگرام "سماء "ٹی وی پرحکمتِ قرآن کے عنوان سے آتا ہے،وہ دیکھتی ہوں۔ اسی طرح مختلف چینلز پر الحمدللہ اچھے پروگرامز آرہے ہوتےہیں جو قابلِ سماعت اور آگاہی ہوتے ہیں ، اس پر وہ پیش کرنے والے قابلِ مبارک باد ہیں لیکن پھر بھی ہمیں دنیا کی اتنی لت پڑی ہےکہ اس 45 منٹ کے پروگرام میں بھی تین وقفے (ایڈورٹائزمنٹ) دیتے ہیں جن میں تضاد کام مختلف صابنوں،کریموں اورنہ جانے کن کن چیزوں کے بے تکے ایڈز اوردو تین منٹ کی خبر میں شامل ہوتی ہیں۔ بہت ہی براا لگتا ہے، ان پروگراموں میں یہ مدا خلت بڑا دل کڑتا ہے اور توجہ ہٹ جاتی ہے اگر آواز بند کرکے اس دوران ہم متعلقہ سورۃ کا ترجمہ پڑھتے ہیں اوردوبارہ پروگرام کے شروع ہوتے ہی وہیں سے جڑتےہیں جو بڑا بُرا اورعجیب لگتا ہے اور آج تو سمجھیں انتہا ہی ہوگئی؟ سورۃ النساء کی تفصیل آرہی تھی اچانک درمیان میں بریکنگ نیوز لکھ کر آیا اور معلم غائب!ایک منٹ کی بریکنگ نیوز کہ جی بنوں میں ایک پولیس چوکی پر حملہ ہوا اور ایک دھماکہ ہوا اور ایک اہلکار ماراگیا اور پھر اچانک سے محترم شجاع الدین شیخ صاحب کا پروگرام وہیں سے شروع ہوا۔اس کے ساتھ ساتھ نیچے، اوپراور سائیڈ تک میں پٹیاں چل رہی ہوتی ہیں۔ سمجھیں ایک طرح کی خبریں! یہ کیا ہے؟ یہ سب تو اس اہم مختصر دینی پروگرام بلکہ کلامِ الٰہیٰ کے احترام کی بے حرمتی کے مترادف ہے۔
اس کو اتنا غیرسنجیدہ کیسےلیا جا سکتا ہے؟کیا یہ سب کرنے والے مسلمان نہیں؟ انہیں پروگرام پیش کرنے سے پہلے یہ سب نہیں سوچنا چاہیے؟اس میں بھی پیسہ کمانا ہی مقصد ہے کیا؟ قول اور فعل میں یہ تضاد بچوں میں کیا تاثر بٹھائےگا؟ وہ خود کہتے ہیں کہ امی قرآن پڑھا جائےیا اس کا جائزہ یا امراورنواحی جب پیش کئے جارہے ہوں تو درمیان میں مداخلت یا ڈسٹربینس کیسا؟ بچے کیا سیکھیں گے اور ہم کیا کریں گے؟ فوری طور پرپیمرا کو فون کریں کبھی نہیں اٹھایا جاتا!پیمرا ان سب باتوں پر کیوں زور نہیں دیتا؟ بہرحال میری متعلقہ لوگوں سے گزارش ہے کہ پلیز دینی مذہبی پروگراموں میں اپنے تمام آداب کا خیال رکھا جائے، انہیں اہمیت دی جائے۔ کیا آپ کبھی الحاقہ، البینہ، التکویر، الانفطار اورسورۃ النباجیسی سورتوں کے نام تصور میں لائے ہیں۔ القارعہ جیسے الفاظ تو ہمارے لئے بڑی خبر، آگاہی اورالارمنگ ہیں۔ان سب کے ہوتے ہوئے ان سے بڑی اور کونسی خبر ہوسکتی ہے؟ کم از کم ان پروگراموں کے تقدس کو یقینی بنا کر کتاب الٰہی کا احترام لازم کریں۔





































