
لطیف النساء
میں اپنےارد گرد ماحول میں خوداپنےخاندان میں خواتین کاجائزہ لیتی رہتی ہوں ۔ مجھ سمیت ہزارہاخواتین ایسی ہیں جو اپنی سکت سےزیادہ کام کر
رہی ہیں۔مالی طور پرمستحکم ہونے کیلئے بڑے پاپڑ بیل رہی ہیں۔کسی نہ کسی طور پر کہیں نہ کہیں کچھ کر گزرنےکی ایک مثبت سوچ لئےہوئےنظر آتی ہیں۔
ان میں سے کچھ تو بالکل ہی گئی گزری ہیں، اپنی دنیا میں مست، کسی چیز کی پروا نہیں، بس زیادہ سے زیادہ کماؤ،دیکھاؤ، ٹِپ ٹاپ رہو،ہرطرح سے اپنے آپ کو منواؤ،پھولےنہ سماؤ کہ ہم بہت سُپر ہیں۔ کسی کی پروا ہی نہیں بلکہ ان کاماحول ہی ان کاگواہ ہے۔حلیے مہرے سےشاز ونادر ہی مسلمان لگتی ہیں،ہرقسم کے ڈریس پہننے کا کمال رکھتی ہیں ۔ بلا جھجک بلا تکلف مردوں میں اٹھتی بیٹھتی ہیں ۔ انہیں کوئی عار نہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ ہم دنیا میں کامیا ب ہیں، ورنہ ہم ترقی کرہی نہیں سکتیں۔
اچھی خاصی میمن، بوہری، شیعہ، سنی عورتیں سب ہی ان میں شامل ہیں ۔اوور کانفیڈنٹ اتنی کہ کسی کی بات کو نصیحت وصیت کو سننا تو ہین سمجھتی ہیں اور بسا اوقات ان کی توہین بھی کردیتی ہیں۔یہ کہہ کر کہ ہم سے نہیں پہنےجاتےایسے ویسےدقیانوسی کپڑے،پینٹ شرٹ میں ہم پروفیشنل لگتےہیں۔ ان کے بڑے بھی سیٹ ہیں،خواتین ڈے جب منایا جاتا ہےتومیں سوچتی ہوں کہ کیا یہ بھی کوئی منانے کا دن ہے؟یہ تو زندگی بھر کا معاملہ ہے کہ لباس سترانسان کی پہچان اور وقار ہے۔ قابلیت صلاحیت اس کا امتحان! لباس کےتقاضوں کو پوراکرتے ہوئے بھی خواتین ہر ہر طرح کی ڈیوٹی انجام دے سکتی ہیں مگر بشرطیکہ وہ پہلے خود کو توذہنی طورپرتیار کریں۔ ایک تعلیم یافتہ عورت جب پوراادارہ چلا سکتی ہےتو وہ معاشرے کا کتنا فعال رکن ہوئیں؟ میں نے تو کچھ خواتین کو دیکھا ہے جو ماشاء اللہ بڑے بڑے عہدوں پرہیں۔ بڑے بڑے ادارے چلا رہی ہیں۔اعلیٰ تعلیم یافتہ، کہنے سننے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کا لباس کردارگفتگواور ہرعمل بولتا ہے۔ہر انداز سے اپنی ذمہ داریاں شرم وحیا کےساتھ پورا کرتی ہیں اور بڑے بڑے عہدوں پر فائزہیں۔ ڈاکٹر ز،انجینئرز،بزنس ویمن ،کارڈیلرز، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ اورنہ جانے کیا کیا؟ انہیں دیکھ کررشک آتا ہے۔
یہ بڑا بلکہ بہت بڑا چیلنج ہے۔آج کے جدید دوراورمیڈیا کی جادوگری میں مگرجس کا ایمان مضبوط ہو نیت خالص ہو،وہ سب کچھ کر گزرتی ہیں۔ مرد حضرات بھی سمجھتے ہیں صرف وہ جو لالچی اور خود غرض نہ ہوں ، ورنہ تو احساس کمتری اوردین سے دوری دونوں مل کر آدمی کا حلیہ بگاڑدیتے ہیں اور وہ عورتیں جن کے یہ حضرات سرپرست ہوتےہیں،جینا دوبھر کردیتے ہیں۔ خواتین کوکو لہو کا بیل بنا کربھی انہیں چین نہیں آتا۔
بیوی توبیوی وہ اپنے بچوں بچیوں تک کا استحصال کرتے ہیں۔ مارتے پیٹتے ہیں ان کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اپنی مکاریوں میں غیر ممالک میں بھی نہیں چونکتے اوراحساس کمتری کا شکاراپنے ہی اہل خانہ کو شکار بنا کر پوری دنیا میں معصوم ہونے کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔خواتین صحیح معنوں میں صرف عزت چاہتی ہیں۔ سچی محبت، پر خلوص محبت ومودت جو ان کا جائز حق ہے۔ اسی حق کو حاصل کرنے کیلئے خواتین کا ایک الگ طبقہ اپنی جانوں سےچپ چاپ گزرتا جاتا ہے مگرمتعلقہ حضرات کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اس حق کیلئے خواتین ڈے منایا جاتا ہےکہ ایک حسین احساس اجاگر کریں، قانونِ فطرت کی توہین دراصل عورت کی توہین ہے کیونکہ عورت معاشرہ گرہے۔ آپ کی نسلوں کی آبیاری کرنے والی اسے اس کا جائز حق ملنا چاہیے۔خواتین ڈے پاکستان میں بھی منایا جانے لگا ہے لیکن دیکھیں کتنا بڑا المیہ ہے کہ اُس دن بھی ہماری بہنیں، ماسیوں اور میڈزکو چھٹی نہیں دیتیں بلکہ مزید کام پر لگاتی ہیں۔ اکثرخواتین کو میں نے دیکھا ہے کہ وہ ماسیوں کوعین عید کے دن بھی چھٹی نہیں دیتیں۔ کیوں؟ کیا ان کا حق نہیں؟ یہ طبقاتی فرق بڑھتا جا رہا ہے۔ اس لئے دلوں کی بے چینی اوربیماریاں پروان چڑھتی جا رہی ہیں۔
خواتین ڈے کو پچھلے سال میں نےدیکھا صبح ہی صبح ماسیاں مختلف گھروں میں جارہی ہیں۔جب میرے گھرآئی تومیں نے کہاآج توتمہاری چھٹی ہےوہ حیران رہ گئی وہ کیسے؟میں نے کہا آج خواتین کا عالمی دن ہے تم جاؤ اور اپنا بہترین کام کرو! کہنےلگی باجی آپ نے کہا ہے سب تو بلاتےہیں کبھی کوئی چھٹی نہیں دیتا!۔
لیبر ڈے کو بھی میں کہتی ہوں تم چھٹی کیا کرو۔اسی طرح عید،بقرعید اور تہواروں پر بھی چھٹی کیا کرو۔ یہ تمہاراحق ہے۔ وہ کہنے لگی ہمیں تو کوئی اجازت نہیں دے گا۔میں تو کہتی ہوں ہفتےمیں ایک دن اتوارکی تو چھٹی دیا کریں۔ اب جا کر کچھ لوگ چھٹی دینے لگے ہیں، ورنہ اکثر کے ہاں اب بھی اتوار کو ماسیاں آتی ہیں۔
یوں جب خواتین ہی خواتین کاحق ماریں گی تو کیا خود سزانہ بھگتیں گی؟ اس لئے ہمیں خود ہی اپنے آپ کو اہمیت دینی ہے۔ اپنے کردار کو اہمیت دینی ہے اور اپنی ذمہ داری حیا، وفا، خلوص،محنت اور نیک نیتی کو نبھانا ہے۔ بڑے شوق سےسنتے ہیں نہ کہ" وجود زن سے ہے تصویر کا ئنات میں رنگ " اچھا لگتا ہےمگر ساتھیوسوچیں ہم کیا کر رہی ہیں۔ ہمارے کرتوت، اعمال، لباس، خیال اوراعمال کہاں جارہے ہیں؟ اور ہمارے انداز کیسےہیں کتنی مکاریاں، فحاشیاں، بےحیائیاں اور بدکرداریاں ہم سےمنسوب ہوتی جارہی ہیں؟ ہم انگلی پکڑنےکا موقع ہی کیوں دیں؟ ورنہ لوگ کہتے نہ چوکیں گےکہ "وجود زن سے تصویر کائنات میں گند " اللہ نہ کرے کہ ہم ایسے ہوں۔خود کو سنبھالو اور اپنی نسلوں کو عزت و توقیر،حیا، محنت، محبت، مشقت اورخلوص کاخوگر بناؤ یہ جنت تمہارے قدموں میں ہے۔اللہ عمل کی توفیق دے۔ آمین





































