
لطیف النساء
حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ" تم میں بہترین شخص وہ ہے جو قرآن کا علم سیکھے اورسیکھائے"۔ گویا کہ اللہ کی پہچان کیلئے قرآن کی پہچان
ضروری ہےکیونکہ اللہ پاک کی محبت، کبریائی اور ڈر قرآن سے گہرے تعلق کے بعد ہی بڑھنے لگتا ہے۔
کلامِ الٰہی کو اپنے ایمان میں اضافے کیلئے اور اس میں مسلسل تروتازگی کیلئے قرآن کو پڑھنا،سمجھنا ضروری ہے۔ اس لئے کہ یہ اللہ کی رسی ہے اس کو تھامے رہنے کا حکم ہے اس کاپہلا سِرا رب کے ہاتھ تو دوسرا سِراہمارے ہا تھ میں ہے۔ واقعی دلوں کا اطمینان اسی میں ہی ہے۔ جب ہی توپریشانیوں اور ڈپریشن سے نجات کیلئے ہم ہمیشہ قرآن سے ہی جڑتے ہیں۔
" فَاقْرَءُ وْمَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرآن" مطلب جتنا آسانی سے ہوسکےاتنا قرآن پڑھ لیا کرو۔ جوسمجھتا گیا اورعمل میں بھی لاتا گیا توسمجھیں وہیں قرآن سےجڑ گیا اور وہ فلاح پا گیا۔ سبحان اللہ! ۔ رمضان کی آمد ہے۔ گویا نیکیوں کا موسم بہار! اللہ ہم سب کو رمضان نصیب فرمائے۔ آمین۔
کتنےہی ایسے ہوں گے جو پچھلےرمضان میں تھے اور اب ہم میں نہیں! اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین اور ہمارے لئے سبق اور عبرت بنائے اورہم بھی اپنے رب سے قریب ہوتے جائیں۔ قرآن سے جڑے رہیں اوراسے اپنی زندگی میں ہرمعاملے میں شامل رکھیں۔ گویا رب چاہی کریں۔
رب کی رضا پررہیں اورکوشش کریں کہ اپنی زندگی کے ہرہرلمحے کی قدر دانی کریں جومجھےمیسر ہے۔میری آنکھوں کی بینائی کتنا بڑانور ہے،ورنہ تو کیسا اندھیر ہے!اللہ کی کتنی بڑی رحمت ہے کہ مجھے دل کے دھڑکنے کا احساس ہے۔ اللہ کی کتنی بنائی ہوئی ایسی چیزیں ہیں جنہیں ہم دیکھ تک نہیں سکتے مگر ان کا وجود ہے مثلاً وائرس۔کتنی نعمتیں ہیں جنہیں گن تک نہیں سکتے مثلاً ذرے ستارے۔یہاں تک کہ صبح سے شام تک استعمال کی گئی نعمتوں کو بھی ہم گن نہیں سکتے۔ صرف دھن دولت ہی تھوڑی نا کامیابی اور آسائشیں ہمارے لئے نعمتیں ہیں بلکہ ہمارا سونا جاگنا، صحت مند ہونا، چلنا پھرنا، سانس لینا، ہنسنا، رونا، لینا دینا، سوچنا،پڑھنا لکھنا، مختلف کام اپنی مرضی اور ان کا اپنی نیتوں کے مطابق استعمال کرنا اور پھر کسی کا محتاج نہ ہونا، بے بس اور بے کس نہ ہونا کتنی عظیم نعمت ہے؟ شکر الحمدللہ! بس اللہ کی ہر ہر نعمت کا احساس کرنا اور دوسروں کو احساس دلانا۔
رب کی قدر دانی اور اپنی زندگانی کا شکر بجا لانا! رمضان میں یہ تصور مزید نمایاں ہو جاتا ہےاس لیےاس رمضان میں ان سب بھلائیوں کو کرنے کی ابھی سے کوششیں کریں اپنے وسائل پر قناعت کرتے ہوئے شکر ادا کرتے ہوئے اللہ کی مخلوق کو ہر دم فائدہ پہنچانے کی کوشش کریں۔ توازن پیدا کریں، ناپ تول ہر سطح پر ہی درست ہو۔ہر کام ہر بات، ہر معاملہ جائز ہو،حلال ہو، حلال اور طیب چیزیں اور انفاق فی سبیل اللہ ہی میرا عمل ہو! آمین۔





































