
لطیف النساء
کتنا ہم افسوس کریں!کتنی ہی دعائیں مانگیں!کتنے ہی لوگ مسلم غیر مسلم انسانیت کا درد رکھنے والوں نے احتجاج کیا، ریلیاں
نکالیں، غصہ ہوئے، اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں، مگر کیا کیا جائے واقعی جن کے دل پتھر کے ہو چکے ہوں ان پر کس کا اثر ہوتا ہے؟ کھلی نسل کشی ہے۔ساری دنیا تماشائی بنی ہوئی ہے!مگر پھر بھی درد دل رکھنے والے سچے پکے فلسطینی مسلمان حق کی خاطر اپنا فرض عین ہر ممکن طرح سے ادا کر رہے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں کیا کچھ نہ ہوا کتنے دکھ ،کتنے درد، المناک اموات بمباری تباہی، چپا چپا خون میں ڈوبا، افراد تباہ حال، عمارتیں کھنڈرات، ان میں موجود زخمی بے بس مددگار،بیمار، بے بس، بے کس لوگ مدد کے لیے پکار رہے ہیں! زندگی تو امانت ہے ،اس کی حفاظت بھی فرض ہے،دکھ درد بھوک پیاس سے بچنا بھی ہے مگر انسانیت مر چکی ہے، ان کوبھی نہیں چھوڑا جا رہا، کچھ دن پہلے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے سربرا ہ اسماعیل ہنیہ کو کس بے دردی سے تہران میں شہید کر دیا گیا۔ غزہ فلسطینی مزاحمت کا مرکز ہزاروں خاندانوں نے ناقابل تلافی نقصان اٹھایا۔انہی میں ہنیہ کا خاندان 70 افراد تک شہید کر دیے گئے۔قریبی رشتہ داروں کی شہادت بڑا صدمہ سہا مگر حوصلہ اور بلند ہوا اپنی تمام مشکلات اور غم کو خود اپنی جان کا نذرانہ دے کر فلسطینی قوم کے لیے ایک عظیم مثال قائم کی ۔واقعی آزادی کی جدوجہد کس قدر عظیم ہوتی ہے اللہ کرے ہم سمجھ جائیں!!!
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
سارے شہر کو بھی اور پوری امت مسلمہ کو اداس کر گیا مگر ہم پر امید ہیں اور اپنی سی کوششوں پر یقین رکھتے ہیں، دعا گو بھی ہیں کہ اللہ پاک ایسا جذبہ جہاد ہر مسلمان میں پیدا کرے کہ زندگی کی قیمت ادا ہو جائے! اس میں بھی رب کی مہربانی تہہ دل سے مطلوب ہے کیونکہ قران میں کہا گیا ہے ناکہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کیے گئے انہیں مردہ نہ کہو وہ زندہ ہیں مگر تمہیں خبر نہیں " پھر ایک جگہ سورہ آل عمران میں بھی کہا گیا" جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کیے گئے تم انہیں مردہ خیال نہ کرو وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے "اسی طرح فرمایا سورۃ یونس میں "خبردار جو اللہ کے دوست تھے نہ ان پر خوف ہے نہ ہی وہ غمگین ہوں گے "سبحان اللہ!کتنے عظیم درجات ہیں ان شہداء کے جتنی زبانی، بیانی، تحریری، انفرادی، اجتماعی، مالی کوششیں ہم کر سکتے تھے ہم نے کیں مگر شاید یہ چڑیا کی چونچ میں اس پانی سے بھی کم ہو جو ابراہیم علیہ السلام کی آگ میں ڈالنے جا رہی تھی۔ ساری دنیا کے اے انسانوں!انسانیت کا حق ادا کرو اور ہر لیول پر ان مجاہدین اسلام کی غزہ کے مسلمانوں کی اور جہاں جہاں وہ پِس رہے ہیں ان کی مدد کرو اللہ سب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو کیا ہم اب بھی غافل بنے رہیں اپنی جدوجہد عملی طور پر شروع کریں انقلاب لائیں اس دعا کے ساتھ کہ انقلاب آئے گا۔
پر امید ہیں ہم ہنیہ
رائیگاں خون تیرا نہیں جائے گا
انقلاب آئے گا! انقلاب آئے گا
السلام السلام اے شہید وفا
باخدا رنگ تیرا لہو لائے گا
حوصلہ شہادت تیری ہنیہ
دشمن دین بچننے نہ اب پائے گا
انقلاب آئے گا! انقلاب آئے گا!
انقلاب آئے گا! انقلاب آئے گا!
رائیگاں خون تیرا نہیں جائے گا!
انقلاب آئے گا! انقلاب آئے گا!
تو نہ ہوگا اگرچہ گلستاں میں پر
تیرا پرچم فضاؤں میں لہرائے گا
تیرگی میں چراغ منور تھا تو
نور تیرا قیامت تلک چھائے گا
انقلاب آئے گا! انقلاب آئے گا
انقلاب آئے گا! انقلاب آئے گا
رائیگاں خون تیرا نہیں جائے گا
انقلاب آئے گا! انقلاب آئے گا
انشاء اللہ اب جلد ہاں جلد ہی
دشمنِ امن روئے گا پچھتائے گا
دیر سے تو بھلا دیر سے ہی سہی
امن آباد القدس کہلائے گا
انقلاب آئے گا! انقلاب آئے گا
انقلاب آئے گا! انقلاب آئے گا
رائیگاں خون تیرا نہیں جائے گا
انقلاب آئے گا! انقلاب آئے گا
نوٹ: ایڈیٹر کابلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )





































