
لطیف النساء
ہر قیمتی شے یا چیز کو ایک مضبوط حصار میں ہونا چاہیے،یہی اس کی خوبصورتی ہے،جیسے سیپ میں موتی، چلغوزہ،بادام، پستہ سب
دیکھیں کیسے محفوظ رکھے گئے ہیں؟عورتوں کو مستورات کہا جاتا ہے یعنی چھپی ہوئی! چند لمحے کے لیے سوچیں قران میں کتنی سورتیں ہیں جو ہمیں پردے اور حیا کے ضابطے بتاتی ہیں۔ ظاہر ہے حیا ایمان کا جز ہے جس میں حیا نہیں اس کا جوجی چاہے کرتا پھرے۔
ایک تو ہوتی ہے بیرونی حیا جو آپ کے لباس رہن سہن میں نظر آئے، محترم اور معزز رکھے۔ "لباس" سے ہی اللہ نے لوگوں کو ایک ایسا شعور اور احساسِ ندامت بخشا ہے جو انسان کو حیوانوں سے ممتاز کرتا ہے۔لباس کے تقاضےجو پورا نہ کرے سمجھو وہ حیا سے عاری ہے۔ یہ تو نیتوں کے معاملے ہیں ورنہ نظریں تو شیطان کے وہ تیر ہیں جن سے بچنا محال ہے۔
میں تو کہتی ہوں کہ ہر طرح ہر بری نظرسے بچنےکی ذمہ داری ہم پرخودعائد ہوتی ہے۔ہم اندرونی طور پرباحیا ہیں۔اللہ نے خود ضمیر دے کر ہر لمحہ ہمیں امتحان میں رکھا ہے۔ہم کیا پہنتے ہیں؟کیسےغیروں کی نقالی کر کےلباس پہن کر بھی ننگے نظر آنا! اللہ تعالی پر ایمان ہی اس بات پر ہے کہ اس کا حکم مانا جائے ۔آخر ہمارا چہرہ ہی تو ہماری پہچان ہے۔ اتنی قیمتی متاع کیسے حیا کے وقار سےخالی ہو؟ ستر کا ڈھکا ہونا لازمی ہے۔
گھر میں بھی محرم لوگوں کے سامنے ستر پوشی شرطیہ ہےمگر یہ کیا بات ہوئی کہ ہم ہر بے حیائی کو اپنا کربہت ہی فخرمحسوس کرتے ہیں؟۔
ٹی وی پروگرامز کے علاوہ ہر ہاتھ میں موجود موبائل کے ذریعے ہرطرح کی بے حیائی فحاشی کوکیسے پروموٹ کیا جا رہا ہے؟کیا یہ کھلی بغاوت نہیں؟نہ والدین منع کرتے ہیں،نہ شوہر، باپ، بیٹے،بھائی ان کو برا نہ جانے،نہ روکیں، نہ ٹوکیں تو سمجھیں وہ بھی اس بے حیائی میں شامل ہیں۔صرف ایک دن حیا ڈے منانے کا مقصد صرف اس دن حجاب بانٹنا یا کسی کو پہنانا یا تقاریر کر دینا پروگرام بتا دینا کافی نہیں بلکہ معاشرے کی تمام تر برائیوں سے بچنے کے لیے اس احساس کو جگانا ہوگا کہ پہلے تو ہم اپنے رب سے ہی حیا کریں۔ میرا لباس، نظر، ادا،چال ڈھال بلکہ آواز میں تک حیا ہو! گویا میری نیت خالص ہو تو سمجھو یہی حجاب میری نجات ہے ۔ ورنہ تو میں پکڑی گئی۔
ایک عورت چار مردوں شوہر،باپ،بھائی،بیٹے کواپنی بےحیائی کی وجہ سے دوزخ میں لےجائے گی ۔اس کےعلاوہ میڈیا پر آنے والی ہر طرح کی فحاشی اور بے حیائی کیسے آگے بڑھ رہی ہےاور کیوں؟ کتنے درجات سے گزر کر یہ پروگرام سیٹ ہو کر تکرار کے ساتھ دکھائے جاتے ہیں۔ اشتہارات ہوں، خبریں ہوں، ڈرامے، فلمیں جو بھی ہوں ،کیا یہ آرگنائز کرنے والے، پاس کرنے والے سب ہی خدانخواستہ حیا سے عاری ہیں اور پھر دیکھنے والے بچ جائیں گے؟
بے حیائی سے بچنےکی دعائیں ہیں،بے حیائی سے بچنا تو دور کی بات ہم ایسے گھرانوں میں ہیں جن کے بچےبڑے اسے نیرومائنڈڈ سمجھتے ہیں اور خود کو ترقی یافتہ براڈ مائنڈڈ!استغفراللہ! امی کہتی تھیں پھل فروٹ، مٹھائی وغیرہ ہمیشہ ڈھانپ کر رکھو مکھیاں بیٹھتی ہیں اور جب ہم خود سج سنور کر لباس کے تقاضوں کو نظر انداز کر کے اپنی بیٹیوں بہنوں کو سجا سنوار کر نکلتے ہیں تو ان پر اور ناظرین پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہوں گے؟ نہیں معلوم! آج کل جس طرح کے ہولناک واقعات جنم لیتے ہیں اس کی وجہ بھی ہم خود ہوتے ہیں۔ عزت،احترام،شرم و حیا اور حجاب ساری کی ساری نیکی ہے، بھلائی ہے اور اس کا ٹھکانہ جنت ہے اور فحاشی، بے حیائی، بے ادبی، بد تہذیبی، برائی ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ آپ نے خود محسوس کیا ہوگا عبایا پہن کر حجاب لگا کر دل میں ایمان رکھ کر آپ ہر طرح ہر جگہ کتنی آسانی سے کام کر جاتے ہیں جبکہ دوسری شکل میں ہمیں جگہ جگہ مصائب اور غیر یقینی صورتحال کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔
خالق باری تعالی نے صحیح فرمایا ہے کہ! "اے نبی ﷺ! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں، اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہیے کہ وہ (باہر نکلتے وقت)اپنے جسم پر جلباب (چادر) ڈال لیا کریں اور اس کاکچھ حصہ اپنے چہروں پر لٹکا لیاکریں، جس سے ان کو پہچان لیا جائے اور ستائی نہ جائیں "۔
سبحان اللہ!واقعی سچ ہے حجاب میری نجات!





































