
لطیف النساء
غفلت کی زندگی گزارنا کوئی کمال نہیں،بلکہ احساس کرنا چاہیے کہ مجھے بھیڑ چال نہیں چلنی، معاشرے کی اصلاح دراصل خود فرد کی اصلاح
پہلے ہے۔جب ہم معاشرے کی خرابیوں کی بات کرتے ہیں ،دوسروں کےہیعیب بتاتے رہتے ہیں تو گویا اپنے آپ کو بری رکھتے ہیں۔ گویا ہمارے اندر بھی ہزارہا روحانی بیماریاں ہوتی ہیں، اس لیے جو برائیاں ہم سے ہو رہی ہیں جو گناہ سرزد ہو رہے ہیں مگر احساس ہی نہیں رکھتے کہ ہم خود کیا کر رہے ہیں؟
کسی نہ کسی طرح ہم بھی رشوت لیتے دیتے رہتے ہیں، گویا گناہ کرتا جا رہا ہوں ۔بندوں کے حقوق تلف کر کے پورے معاشرے کے بگاڑ کا سبب بنتا جا رہا ہوں مگر احساس سے عاری اتنا کہ برائی کو برائی ہی نہ جانا،نہ حرام سمجھا،نہ آخرت میں حساب کی فکر کی کیونکہ لقمہ جو حرام تھا اور ہمارا گوشت بنا گویا جہنم کا ایندھن تیار کر رہے ہیں!برے معاشرے کی اصلاح بھلا کیسے ہو؟ ۔خود اصلاح یعنی معاشرے کے بجائے صرف اپنی فکر کریں، برائیوں سے بچتے رہیں۔ ہدایت پر آتے رہیں،لگے رہیں تو سمجھیں کہ کم از کم ہمیں کوئی نقصان نہیں دے گا اور ظاہر ہے کہ ہم بھی دوسروں کے لیے نفع بخش ہوتے چلے جائیں گے۔
عورت معاشرے کی کلید اور تعمیر کی ذمہ دار ہے، کسی محترمہ نے کہا کہ اگر ماں باپ کو رکھنے کا حق بیٹیوں کو مل جاتا تو پورے ملک میں کوئی اولڈ ہاؤس نظر نہیں آتا۔ اصلاحی سوچ کا حامل وہ فرد کیسی سمجھداری سے جواب دیتا ہے کہ اگر شادی کے بعد وہی بیٹیاں اپنی ہی ساس سسر کو اپنے ماں باپ دل و جان سے مان جائیں تو یہ ملک تو چھوڑیں پوری دنیا میں کہیں کوئی اولڈ ہاؤس نظر نہ آئے!کیونکہ لوگ فیشن ہی نہیں تہذیب بھی سیکھتے ہیں اپناتے ہیں۔ گویا واقعی " عورت نے ہر ایک دور میں قوموں کو سنبھالا" واقعی اچھی بیٹی شائستہ ماں، مخلص بیوی اور دیندار بیٹی دراصل ایسا کردار نبھاتی ہیں کہ قران کی تعلیم کے مطابق معاشرے کی خرابیوں کا پرچار کر کے فساد نہیں مچاتیں بلکہ اپنی اصلاح کر کے معاشرے کے سدھار کو مد نظر رکھ کر اپنی اولاد کو ایسی تربیت دیتی ہے کہ وہ گمراہ ہونے سے بچے رہتے ہیں۔
بچوں کو شروع سے ہی سمجھا کر یہ بات گھٹی میں ڈال دی جاتی ہے کہ تمہیں اپنے تمام اعمال کا پورا حساب دینا ہے۔ پھر اس کے دوست احباب بھی ویسے ہی ہوتے ہیں بنا غفلت کے اپنے عیوب کی اصلاح کرتے رہیں تو معاشرہ سدھرتا جاتا ہے۔ اصلاح ہوتی رہتی ہے۔ پہلے خود سمجھیں تو صحیح کہ ہم خود کس بیماری میں مبتلا ہیں؟کینسر کی طرح جب شروع سے یہ چیک رکھا جائے تو احساس کر کے علاج کروائیں اور روحانی طور پر ہمارے اعمال اچھے ہوں۔ احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ہر جگہ پر کام کریں، تو خود بخود بندہ گناہوں سے بچا رہتا ہے معاشرے کو بھی بچاتا رہتا ہے، ورنہ برائیوں کی تشہیر اس لیے منع ہے۔
رشوت کا احساس ہو، حرام حلال کا فرق ہو،ہر لمحہ ہر وقت ہو تو کیوں نا وہ نارِجہنم سے بچا رہے گا؟ورنہ وہ مستحکم خاندان کے لیے وبالِ جان ہی بنا رہے گا۔ برائیوں سے گھیر ے معاشرے کا بار بار تذکرہ کرنے سے بھی فساد بڑھتا ہے، فیشن کی طرح تیزی سے فروغ پاتا ہےلیکن اگر ہم ذاتی طور پر اپنی اصلاح کر کے ہدایت کی راہ پر چلتے رہیں۔ ساتھیوں کو بھی ساتھ لے کر چلیں تو خود بخود معاشرہ سنبھلتا جائے گا گویا فرد کی اصلاح معاشرے کی اصلاح ہے،خصوصا ًعورتیں مائیں،بہنیں،بیٹیاں اپنا کام اپنی ذمہ داریاں احکامِ الٰہی کے مطابق ادا کرتی رہیں۔
عورت کے اندر اللہ نے وہ صلاحیت رکھی ہے کہ وہ فرعون جیسےظالم بادشاہ کو زیرکرسکتی ہے۔ بیٹوں کے قتل کرنے والےسے بیٹا لے سکتی ہے تربیت کر سکتی ہے۔زندگی کا گول یہ ہوا کہ مجھے اپنے آپ کو اپنے اہل و عیال کو دوزخ کا ایندھن بننے سے بچانا ہے۔ گھر ہی تو خوشحالی اور سکون کی ایک نشانی ہے۔مہذب اور شائستہ خاندان کی اکائی کی جبکہ معاشرہ اس کا عکاس ہو تو کیوں نہ پرامن پر وقار اور مہذب ہو؟ آج عورت اپنا جائزہ لے! ہم کہاں کھڑے ہیں؟قطع تعلق کرنے والا جنت میں نہ جائے گا۔ کیا ہمارے تعلقات ٹھیک ہیں عہد و پیما ں کیا ہمیں اس کا پاس ہے؟غرض اپنا آپ تلاش کرتے رہیں۔ یہ عورت ہی ہے جو ازل سے معاشرے کا حسن رہی ہے پھر آج کل کابیگاڑ کیسا؟
عورت کبھی حوا، کبھی مریم، کبھی زہرہ
عورت نے ہر ایک دور میں قوموں کو سنبھالا
انبیاء، اولیاء،سلطان،بادشاہ، صدر،گورنر،کیا سائنسدان، کیا ڈاکٹر،کیا تاجر، کیا حکمران، لیڈر، جوان سب عورت ہی کے زیر سایہ مطلب زیر کفایت رہے ہیں۔بس اپنی پوزیشن، ذمہ داری اور احساس ادائیگی فرائض کی ہمہ وقت تڑپ طلب اور لگن ہونی چاہیے کہ اللہ نے یہ مقامِ شکر عورت کو عطا کیا ۔سبحان اللہ!دعا اور نیک نیتی سے کیا گیا کام ہی میرا انعام!ان شاء اللہ





































