
لطیف النساء
ہر کامیابی کے پیچھے بڑی محنت مشقت اور جانفشانی چاہئے ہوتی ہے اور دنیا میں تو ہر بندہ ہر لحاظ سےکامیاب رہنا چاہتا ہے، جس نے جتنی کوشش اور
محنت کی اسے وہ رحیم رب عطاہی کر دیتا ہے۔ مگر آج کے ماحول میں انسان اپنے روئیے اور اخلاق میں اتنا گر گیا ہے کہ زندگی کی دوڑ میں ہر لحاظ سے کامیاب ہونے کے باوجود ماحول یہ ہے کہ بے سکونی اور خوف و ہراس کی ایک بھانس اٹکی ہوتی ہے۔اتنی بے اعتمادی اور بے ایمانی کے آدمی آدمی سے ڈرتا ہے،آئے دن ہونے والے واقعات گواہ ہیں کہ انسان باوجود ہوش ربا دنیاوی ترقیوں کے باوجود اخلاقی پستی اور بے راہ روی اور گمراہی میں مبتلا ہے تو جان کو سو روگ لگے ہوئے ہیں اور روحانی طور پر تو وہ مرا ہی ہوا ہے کیونکہ بے ضمیر بے عمل ہو گیا ہے۔
واضح ثبوت فلسطین کے حالات اورخود کراچی والوں کے حالات ہیں جو ثبوت ہیں کہ کس طرح مسلم غیر مسلم سب ہی انسانیت کے دشمن بنے ہوئےہیں حالانکہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں تو ایسا قابل قدر،قابل تقلید نمونہ رب کی ذات نے اپنے حبیب آخر الزماں رسول اللہ ﷺ کی شکل میں دیا ہوا ہے کہ جس پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے زمانہ جاہلیت میں لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے اور نسلوں بدلے چلتے تھے۔
بات بات پر لڑائی جھگڑے قتل و خون ہو جاتے تھے تو آج کیا وہی حالات نہیں بلکہ لگتا ہے اس سے بھی بدتر کیونکہ نہ جانے کیوں برائی منظم ہوتی جا رہی ہے تو اس میں ہمیں اس نزع کے عالم میں ایسا رول ماڈل ایسا نظام درکار ہے جو ہر جانب سے ہماری از سر نو رہنمائی کرے اور ہمیں ظلمت کے اندھیروں سے علم کی حق کی روشنی میں لا کھڑا کرے تو ہمیں آپ ﷺ کا اسوہ حسنہ اور آپ ْﷺ کی شریعت ہی وہ واحد ذریعہ نظر آتی ہے جو ہمیں نہ صرف اس جہاں میں متحرک اور باعمل رکھے بلکہ اس دنیا کا ہی یہ عمل ہمارے لیے آخرت کی راہِ نجات بنے۔
وہ عظیم بلند مرتبت ہستی آقائے دو جہاں جن کی مخالفین بھی قدردانی کرتےتھے،فیصلے کرواتے تھے، صادق اور امین مانتے تھے، کتنی ہی مصیبتیں برداشت کیں اپنی امت کے لیے کیا کیا نہ وارسہے تاکہ امت بحال ہو سکے! کتنے نا مصائب حالات میں اسلامی ریاست مدینہ قائم کر کے ثبوت دیا کہ یہ قرآن اور یہ شریعت ہی وہ عظیم ہتھیار ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر انہیں نافذ کر کے گویا اتباع رسولﷺ ہی دونوں جہاں میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔
رہنما گر نہ ہو محمدؐسا، نسل آدم بہک بہک جائے
رہنما گر نہ ہووہ سیرت پاک، نسل آدم بھٹک بھٹک جائے
گویا آپ ﷺ کی سیرت پاک ہی وہ عمدہ نمونہ ہے اخلاق کا، کردار کا،رہنما لیڈر،دوست،تاجر،خطیب،عالم،نرم خو، بردبار اور محنتی، جفاکش،مدبر، مبلغ کیا کیا صفات گنوائیں جو قابل تقلید اور باعث نجات ہوں۔ ان صفات کو اگر ہم خلوص دل سے خدا خوفی کے ساتھ اپنائیں اور خود ہی رول ماڈل یا نمونہ بن کر اپنے اہل و عیال کے لیے ایک داعی کا کام ساری زندگی کرتے رہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اسلام کا نظام خود بخود نافذ ہوتا جائے گا۔انتخاب اچھا ہوگا صالح قیادت ہوگی اور لوگ بھی مخلص ہوں گے اور خود صالح لوگوں کی قیادت لائیں گےتوہی اسوہ رسول ﷺہر جگہ ہر ایک کے لیے کتنا حسین اور پرامن ماحول فراہم کرے گا۔
آپ ﷺ نے فرمایا" اپنے گناہوں پر استغفار کریں، لوگوں سے ڈرنا چھوڑواوراپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دو "وہ کریم رب ہے۔"زندگی کے لیے یہ دنیا امتحان گاہ ہے "لہٰذا ہمیں اپنے وقت کا،صلاحیت کا، کمائی کا، غرض ہر چیز کا امتحان دینا ہے لہٰذا اسوہ رسول ﷺ کو اپناتے ہوئے آخرت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیشہ اتباع رسولﷺ اپنائیں اور انجام کے لیے رب سے ہر لمحے فضل مانگیں۔
آپ ﷺ بازار میں گلیوں میں لوگوں کو بتا رہے تھےکہ اے لوگوں لا الہ الا اللہ کہو،سب سےزیادہ لوگ بازاروں میں ہوتےہیں تواپ لوگوں میں بس صرف یہی بات کرتے تھے، آج ہمارا ایسا رویہ نہیں ہے ہم باتیں بہت کرتے ہیں مگر ہمارے اعمال سنتوں سے بھی خالی ہیں ایسے لوگ بہت کم ہیں کہیں نہ کہیں خطاب کرتے بھی نظر آتے ہیں وہ بھی باہر ملک میں لہٰذاان رویوں کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ قرآن کے ساتھ احادیث پڑھیں،خود پڑھیں،عمل کریں اور دوسروں تک پہنچائیں۔
مسلمان کا عقیدہ صرف قرآن و سنت پر ہو لہٰذا اختلافات ہوں گےہی نہیں، قرآن اورسنت ہی ہمارانصب العین اور یقینی عمل ہو کیونکہ ہمارارب ہمیں کامیاب دیکھنا چاہتا ہے تو ہمیں علمی اور سنجیدہ گفتگو کرتے اورغورو فکر کرتے ہوئے تعلیم و تعلم کو جاری و ساری رکھنا ہے کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تقوی کہاں ہوتا ہے؟ فرمایا دل کی طرف ہاتھ رکھ کے تقویٰ یہاں ہوتا ہے گویا ہمارا دل ہماراوجود جب اللہ اور رسول ﷺ کے ساتھ جڑا ہو تو ہی ہم فلاح حاصل کر سکتے ہیں۔ ہمیں اس بات پر بھی شکر کرنا چاہیے کہ رب نے ہمیں آپ ﷺ کی امت میں پیدا کیا۔:
میں تو خاک تھا میں دھول تھا مجھے کچھ نہ اپنا شعور تھا





































