
لطیف النساء
حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے ایسا کیاکیا کہ پوری قوم عذاب کی زد میں تھی؟ مگر جب یونس علیہ السلام نے اس سرزمین کو ناراضی
اورجلد بازی کی وجہ سےچھوڑا تو انہوں نے اپنے رب کو توبہ واستغفار سےمنایا، راضی کیا۔ کتنا زبردست عمل کیا تھا اس قوم نے! کہ رب کے عذاب سے بچنے کے لیے سچی توبہ کر کے اپنے اپ کو عذاب سے بچا لیا، بالکل یہی بات توحضرت نوح علیہ السلام نےاپنی قوم سےکی تھی کہ انہوں نے بھی تو یہی سمجھایا تھااپنی قوم کو کہ اگر تم توبہ و استغفار کرو گےتو اللہ تعالی تمہیں نہ صرف معاف کر دے گا بلکہ آسمان سے بارشیں برسائے گا۔ تمہاری معیشت کو درست کرے گا۔ تمہیں مال اور اولاد دے گا۔ تمہارے لیے باغ اور نہریں جاری کر دے گا مگر استغفار بھی کیسا ہو؟ صرف ورد نہیں کیونکہ حضرت علیؓ نے ایک بدو کو تسبیح کے دانوں پراستغفار کا تیزی سے ورد کرتے دیکھا!
وہ جلدی جلدی استغفارکررہا تھاتوحضرت علیؓ نےاس سےکہا کہ اس طرح استغفارتوبہ کرنا توجھوٹوں کی توبہ ہے تو اس بدو نےکہا کہ وہ کیسے؟فرمایا صحیح توبہ میں چھ چیزیں شامل ہیں توبہ و استغفار کے ذریعے آج ہم بھی بچ سکتے ہیں مگرشرط یہ ہے کہ ان چھ چیزوں کو دل سےتسلیم کریں اورخلوص دل سے ان پرعمل کریں تاکہ توبۃ النصوح یعنی سچی توبہ میسر ہو سکے اورمسلمانوں پر سے یہ عذاب بھی ٹل جائے یعنی (۱)اپنی غلطی پر نادم ہو(۲) جن فرائض سے غفلت برتی ہو انہیں ادا کرو(۳) جس کو تکلیف پہنچائی ہو اس سے معافی مانگ لو، راضی کر لو(۴) کسی کا حق مارا ہو اس کو ادا کرو (۵) آئندہ کے لیے پختہ عزم کر لو کہ آئندہ کبھی ایسا نہ کرو گے وہ گناہ جو تم کر چکے ہو (۶)اپنے آپ کو اللہ کی مکمل فرمانبرداری میں دے دو اور فرمانبردار بندے بن جاؤ۔
جائزہ لیں آج ہمارے اخلاق،رویے،کردار کیاہیں۔احتساب درکار ہے نا؟ابھی بھی ہمارے لیےیہی حکم ہےامن و سلامتی کے لیے اے مسلمانو ں!نافرمانی کے کاموں میں نہ پڑو،جھوٹ، ظلم، کرپشن اور بد اخلاقی پر قائم رہو گے تو توبہ کیسے قبول ہوگی؟لہٰذا اپنی انفرادی اجتماعی زندگیوں میں دو رن گی چھوڑ دو اورصرف صبغت اللہ اختیارکرنےکی ہر ممکن کوشش کرو۔ ترقی و خوشحالی، امن وسلامتی کے لیے فحاشی،بے حیائی، بداخلاقی،ظلم،لوٹ مار، کرپشن،نا انصافی کبھی بھی سکون نہیں دے سکتی۔
ان گناہوں کےساتھ ساتھ توبہ واستغفارکرنایقیناًاللہ کےساتھ مذاق ہے۔صرف زبانی دعویٰ اوردکھاواکبھی بھی مؤثرنہیں ہوسکتا! آخر یونس علیہ السلام کی قوم توبہ و استغفارکی وجہ سے تو بچائی گئی! گویا عذاب نہ دینےکی ضمانت خود رب نےدی۔ اُسے تو سچی توبہ و استغفار سے نکلے ہوئے دو آنسو بہت پسند ہیں۔
مسلمان سست اور کاہل نہیں ہوتا،اسلامی نظام کے قیام کے لیے تو پہلے ہمیں ہی مخلص اور محنتی ہونا ہے۔ زندگی کی اس امتحان گاہ میں ہم حدوداللہ کے پابند ہیں اورآخرت کے لیے یہی امتحان پاس کرنا ضروری ہے۔ ہم اپنی غلطیوں کو تو کبھی دیکھتے ہی نہیں۔ دوسروں پرتنقید کر کے ہم کبھی نہ اپنی اصلاح کر سکتے ہیں نہ ہی اپنا معاشرہ درست کر سکتے ہیں بغیرظلم،فحاشی،بےحیائی کرپشن، بدکرداری اوربداخلاقی،ظلم کونہ چھوڑ کر ہم اپنی زندگیوں کو ضائع کر رہے ہیں بلکہ اللہ کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں جو بدترین گناہ ہے۔مسلمان ہوتے ہوئے ہمارا کردار مشکوک، حلیہ مشکوک، کام مشکوک،لاپروائی،خود غرضی کی زندگی ہمارے ایمان کوکمزورکرتی جائے گی اورآہستہ آہستہ دل سخت اوربے ضمیر بنتا جاتا ہےجو آخر کاربےحس ہوجاتا ہےجو بدترین عذاب ہے۔ احساس کا مرجانا ہی انسانیت کی موت ہے۔
ہماری ہر عبادت ہمارے لیےحصار ہے۔ گناہوں سے، عذابوں سے اور اللہ کی ناراضی سے اگراسے شعور کےساتھ مخلص ہو کرادا نہ کیا جائے تو کیا ساتھیوں ہم اتنے گرے ہوئے ہوسکتے ہیں کہ اللہ کے ساتھ نعوذ باللہ مذاق کر سکیں۔ اللہ پاک ہمیں سچی پکی توبہ استغفار کی نعمت عطا فرمائےکہ ہم اورہماری تمام مسلم امہ اللہ کی ناراضی کبھی نہ مول لیں بلکہ ہمیشہ رب کو اپنےکردار و اخلاق و عبادات سے راضی رکھیں۔آمین





































