
لطیف النساء
ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ہوتی ہیں جتانے کے لیے نہیں۔ بھوکے کو کھانا کون دیتا ہے؟بچپن میں میرے بھائی مجھ سے پوچھتے تھے تو میں کہتی تھی اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔ تو وہ کہتے
تھے کہ اللہ تو سب کو ہی دیتا ہے کہ اللہ نے دنیا میں لوگوں کو ہی ایک دوسرے کا مددگار بنایا ہے ،جسے بھوک کا احساس ہو جو خود بھوکا رہ چکا ہو تو وہی بھوک کا احساس اور پھر خدا خوفی کا احساس رکھتے ہوئے بھوکے کو ضرور کھانا دیتا ہے جو ایک بڑی نیکی ہے، بالکل اسی طرح میں اپنی بلڈنگ میں کہتی ہی رہ جاتی ہوں کہ کوئی کچرا نہ پھینکے،تھیلیوں میں ڈال کر نیچے کچرا لے جانے والے کے لیے ایک جگہ رکھ دو مگر کیا حیوانیت ہے کہ کچھ لوگ کچرا چننے والے تھیلیوں کو کھول کھول کر کچرا پھینک کر تھیلیاں تک لے جاتے ہیں بلکہ بچے ٹکی پیکٹ،پلاسٹک کی تھیلیاں ہر جگہ پھینکتے ہی رہتے ہیں اور مسلسل کچرے میں اضافہ ہوتا ہے۔
کھلاگیلاکچرا تعفن کا شکار آنے جانے والوں ،چلنے والوں کے لیے اور گاڑی والوں کے لیے بھی وبالِ جان بن جاتاہے۔ لوگ بچوں کی تربیت نہیں کرتے بلکہ خود بھی اس عمل میں شامل ہیں!۔ بارشیں اللہ کی کتنی بڑی رحمت ہیں؟ انتظار کر رہے ہوتے ہیں ۔حکومتی ادارے اور خود غیر ذمہ دار لوگ! سرسری کام کرتے ہیں اور نالے اور گٹریں صاف تک نہیں کرتے، پچھلے مہینے ہونے والی بارشیں کس طرح وبال جان بنی ہوئی ہیں۔ ذرا سی بارشیں ساری حکومتی دعوؤں کا پول کھول بیٹھتی ہیں،کیا سڑکیں بنائی ہیں؟ کتنی ذمہ داری سے بنائی ہے کہ ذرا سی بارشوں سے کس طرح پورے کراچی کی بڑی چھوٹی سڑکیں اکھڑ گئیں، اجڑ گئیں۔ جگہ جگہ کھڈے،چکنی مٹی،کوڑا کر کٹ، تعمیری مواد اور خود غیر تعمیری رکھا ہوا کام وہ بھی میلوں تک پھیلا ہوا ہے ،تا حد نظر پتھر روڑے، غیر ہموار راستے،ادھڑی اجڑی ہوئی سڑکیں کتنا دشوار سفر کرتی جا رہی ہیں۔
لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنی ہوئی ہیں ۔رکشے والے بھائی کی جو چار بچوں کا باپ ہے صاف ستھرا مہذب بندہ اداس ہر وقت پریشان!میں جانتی ہوں اس کے کردار کو کافی محنتی بندہ ہے ۔ صمد!کہنے لگا باجی ہر مہینے کا خرچہ ہے اس رکشے پر سڑکوں اور راستوں کی خستہ حالی نے میرانیا رکشہ خراب کر دیا ہے، ہزاروں کا خرچہ ہوتا ہے، بچتا ہی کچھ نہیں۔ لوگوں سے کچھ زیادہ مانگو تو 10 باتیں سناتے ہیں۔ شکایت الگ کرتے ہیں کہ رکشے میں یہ خرابی ہے۔اچھلتا ہے، فلاں چیز نہیں ہے وغیرہ وغیرہ دل جلتا ہے ۔ پچھلے دنوں ایک اماں چڑھتے ہوئے پھسل کر گر گئیں۔ بڑی مشکل سے واپس گھر تک پہنچایا۔ دس قدم کا راستہ دو گھنٹے کی محنت لگی گاڑی تک صحیح جگہ پر کھڑا کرنے کی جگہ نہیں تھی۔پانی اتنا کہ نظر ہی نہ آئے آگے کیا ہے ،کتنا گہرا گڑھاہے؟ ہمارے حکمران اعلیٰ، اعلیٰ عہدوں پر بیٹھ کر بھی کچھ نہیں کرتے،ذمہ داری سے کام نہیں کرتے،سڑکیں نہیں بناتے،نہ کبھی اچھی طرح مرمت کرتے ہیں ۔ورنہ ہمارے سفر اتنے مشکل نہ ہو ں،بجلی، گیس، پانی نے تو الگ تنگ کیا ہے!اس کا غم الگ ہے تو دوسری طرف ہمارے لیے خطرہ ہی خطرہ ہے۔ ہر شخص ملوث ہے کسی کے لیے آسانی کا سوچتے ہی نہیں۔کیوں نہیں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے؟ دیکھیں بارش میں کتنی جانیں گئیں ،کیسے لوگ زخمی ہوئے،مرے،غائب تک ہو گئے؟خدا جانے کہاں کھو گئے بس گڑھے میں گر گئے۔نہ ملے،اندھیرے میں تو پتا ہی نہیں چلتانہ آگے نظر آئے،نہ ہم سنبھل پائیں!اچانک ہی سامنے بائیک گر جاتی ہے لوگ زخمی ہو جاتے ہیں، مر جاتے ہیں۔
ایمبولینس تک بر وقت نہیں پہنچتی تو پھر مزید پریشانیاں ہوتی ہیں، رش اور پریشانی اپنی اپنی،بہت مسائل ہیں، پورے کراچی کا یہی حال ہے۔اللہ حکمرانوں کو ہدایت دے بلکہ سب کو احساس ذمہ داری دے (آمین)۔کیسے ہمدرد یونیورسٹی کی" ڈاکٹر حنا "محض بائیک اچھلنے سے گڑھے میں گر گئیں اور سر کی چوٹ جان لیوا بن گئی۔ کوئی پوچھے نہ کون ذمہ دار ہے؟ اتنا بڑا سانحہ!شہر کی قابل ڈاکٹر، برسوں کی محنت،ماں باپ کا سرمایہ، لوگوں کی جان کی فکر کرنے والی مخلص باصلاحیت اور قابل قدر اور قابل فخر ڈاکٹر نی کس طرح لمحے میں نااہل لوگوں کی نااہلی کی وجہ سے ٹوٹی ہوئی سڑکوں کا شکار ہو گئی۔ ہم کیسے مسلمان؟ کہاں تو ایک کتا بھی پیاسا مر جائے تو حکمران جوابدہ ہونے والی مثالی معاشرے کی بدحالی قابل افسوس، صد افسوس ہے! اللہ مرحومہ کے ورثاء کو صبر جمیل دے (آمین)۔
کیا اب بھی ہوش کے ناخن نہ لو گے؟ عوام کو بھی چاہیے کہ حکومتی اداروں کا پرخلوص ساتھ دیں اور تعمیراتی کام کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھیں۔ہمیشہ تعمیر کریں تخریب نہیں۔ مرتے دم تک انسانی فلاح اور بھلائی کے لیے اپنے حصے کا کام کریں ورنہ کل روز حشر کیا جواب دو گے؟ رب کو کیا منہ دکھاؤ گے؟ ہر بندہ سمجھ لے کہ وہ یہاں ایک مقصد کے تحت بھیجا گیا ہے۔ انسانیت نہیں تو بندہ نرا جانور بلکہ اس سے بھی بد ترہے!اسرائیلیوں والا سلوک قابل مذمت،قابل شرم ہے ہر ایک کے لیے، خدارا! اللہ کی زمین پر اللہ کے بندے بن کر رہو اور اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھاؤ،جتاؤ نہیں بلکہ زندگیاں بچاؤ اورآخرت کماؤ! کیونکہ یہاں سے صرف اور صرف آخرت کا سودا ہی کر کے جانا ہے! کیوں کیا خیال ہے؟





































