
لطیف النساء
اللہ ہی کی شان ہے کیسے کیسے مناظرسامنے آتے ہیں؟ ہمیں سکھاتے ہیں، سمجھاتےہیں، زندہ رہنے کے ڈھنگ سکھاتے ہیں اور بلاشبہ یہ سب کام اللہ کی
مرضی اور فرد کے اپنے اخلاص پر مبنی ہے کہ وہ خود ہدایت لینا چاہتا ہے سبق حاصل کرنا چاہتا ہے یا نہیں؟ سبق کے عنوان سے ایک مختصر سی ریل پڑھی واقعی سبق ملا سوچا ہر ذریعہ ابلاغ اصلاح کا ضامن ہے۔ اس میں اتنی جسارت ہے کہ اپنا پیغام دوسروں تک پہنچا سکے!استاد تو پھر استاد ہوتا ہے،انبیاء کا مشن لیے ہوئے ہر دم تڑپ اور لگن معاشرے کے سدھار کی! سبحان اللہ یہ بھی قدرت کا چناؤ اور بندوں پر اس کا خاص فضل ہے جس کا جتنا شکر کیا جائے کم ہے۔ الحمدللہ!۔
کہتے ہیں کہ ایک استاد نے کلاس میں داخل ہوتے ہی بلیک بورڈ پر دعا سلیک کے بعد ایک لکیر کھینچ دی اور کہا کہ تم میں سے کوئی اس لکیر کو ہاتھ لگائے بغیر چھوٹا کر سکتا ہے؟ارے یہ کیسے؟ناممکن ہے؟ساری کلاس میں سناٹا!ناممکن،مٹانا تو پڑے گا! استاد محترم نے گہری نظر کلاس پر ڈالی جواب نہ پا کر کچھ کہے بغیر بلیک بورڈ پراس لکیر کے نیچے اس سے بھی بڑی سی لکیر کھینچ دی جس کے بعد پہلی والی لکیر سب نے دیکھ لی کہ کافی چھوٹی لگنے لگی! سب کو نظر آ رہا تھا کہ یہ چھوٹی لکیر ہے، گویا وہ چھوٹی ہو گئی اور یوں استاد نے اس لکیر کو ہاتھ لگائے بغیر اس کو چھوٹا کر دکھایا!۔
طالب علموں نےآج مجھ سمیت اپنی زندگی کا سب سےبڑاسبق سیکھ لیا تھا کہ کس طرح دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر دوسروں پر تنقید کیے بغیر ان سے جلے،کڑے، حسد کیے بغیر ان سے آگے بڑھنے کا ہنر کیسے چند منٹوں میں ہی سیکھ لیا تھا۔ واقعی یہ سچ ہے کہ اگر ہم اپنے آپ کو اخلاق میں، اپنے کردار میں اور اپنے عمل میں دوسروں سے آگے بڑھا لیں تو ہم خود بخود دوسروں سے بڑے نظر آنے لگیں گے، مگر دوسروں سے بڑا لگنا اور اس پر تکبر کرنا بھی برا ہے! آپ کو معلوم ہے تکبر کیا ہوتا ہے؟خود کو سادہ رکھو،عام رکھو یہی ہمارا سٹیٹس ہے کہ تم کتنے ہی بڑے عہدے پر ہو مگر کوئی تمہارے سامنے بیٹھ کر خود کو کبھی حقیر نہ سمجھے۔ دنیا میں اکثر یت نئے طریقے اور رویئے اختیار کرتے ہیں، نئے نئے پکوان ہنر ٹیکنالوجی اور نہ جانے کیا کیا سیکھتے ہیں اپنی دنیا کو قیمتی اور پرتعیش بنانے کے لیے۔ ٹھیک ہے یہ بھی ضروری ہے مگر اس سے زیادہ ضروری ہماری روحانی اور اخلاقی ترقی ہوتی ہے جو ساتھ ساتھ ہونی چاہیے اور یہ صرف اور صرف رب سے جڑے رہنے ذکر الٰہی کرنے اور تقوے کی روش ہر عمل میں اختیار کرنے سے ہی حاصل ہوتی ہے ہر ہر قدم پر ہمیں ہمارا ایک نیا امتحان درپیش ہوتا ہے مگر ہم سمجھتے ہی نہیں! بہت آسان لیتے ہیں ہر کام کو، ہر چھوٹی بڑی بات پر کتنی نافرمانی کرتے ہیں،اپنے بڑوں کی کتنی تذلیل کرتے ہیں اوراپنے چھوٹوں کی اور کتنے خودغرض بن جاتے ہیں لمحے بھر میں رتی بھر فائدے کے لیے۔ کہاں چلا جاتا ہے اس وقت ہمارا ایمان؟ کہتے ہیں ہمارے تین والدین ہوتے ہیں ان کا احترام لازمی ہے مطلب تین مائیں ایک وہ ماں جو ہمیں جنم دیتی ہے پال پوس کر بولنا سکھا کر بڑا کرتی ہے۔
رشتوں کا احساس جگاتی ہے دوسری ماں جو دنیاوی تعلیم دیتی ہےہرطرح کی دنیاوی تعلیم اورتربیت دیتی ہے" معلمہ "اور جوجنم دین والی ماں کی طرح بے پناہ صلاحیتوں کو بڑھاتی ہے پھر ایک ماں شعوری زندگی میں "ساس "کی شکل میں ملتی ہے اس کے ساتھ آپ کا برتاؤ آپ خودجانتی ہیں؟ لاشعوری ہو ہی نہیں سکتا! نادانی اور بات ہے مگر اس طرح باپ تو جنت کے دروازے ہیں ان کی تو عظمت ہی اعلیٰ ہے، مخلص اور بے لوث! قابل تعظیم اور پروقار دنیا میں عطا کیے جانے والا اللہ کا خوبصورت شاہکار! اللہ پاک انہیں دونوں جہانوں میں کامیابی عطا فرما ئے اور کبھی اولاد کی آزمائش نہ دکھائے (آمین)مگر شرط یہ ہے کہ ہم حق بندگی ادا کرتے رہیں اور یاد رکھیں کہ زندگی بے بندگی شرمندگی! جو فجر کو سویا رہتا ہے تو فرشتے اس کا رزق واپس لے جاتے ہیں۔ نبیﷺ تمام برکتیں فجر کے وقت مانگتے تھے اور خاص طور پر امت کے لیے۔کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے والدین اور ہم جو خود والدین ہیں حقوق بندگی ادا کریں۔
قرآن کے حقوق ادا کریں تاکہ خود بخود یہ تذکیر ہماری اولادوں میں سرائیت کر جائے۔ کیاخوب حضرت حسن بصریؒ نے آپ ﷺکے تقویٰ کے بارے میں فرمایا" میں نے چار چیزیں سمجھ لیں پہلی میرا رزق کوئی نہیں چھین سکتا تو میرا دل مطمئن ہو گیا۔ دوسرا میں سمجھ گیا کہ عبادت میں نے خود کرنی ہے کوئی اور میری عبادت کبھی نہیں کر سکتا،تو عبادت شروع کر دی اور پھر تیسری بات یہ کہ رب کریم مجھے دیکھ رہا ہے چنانچہ مجھے گناہ سے شرمندگی محسوس ہونے لگی چوتھی یہ کہ موت میرا انتظار کر رہی ہے!تو بس میں نے رب سے ملاقات کی تیاری شروع کر دی" سبحان اللہ!کیا ہم ایسا کرتے ہیں؟





































