
لطیف النسا ء
ایک صدی پہلےکہاجانےوالایہ شعرعلامہ اقبال کی مقبولیت کوآج بھی چارچاند لگا دیتاہےکہ مقصد کےبغیرزندگی کچھ بھی نہیں ۔
کتنےجری،بہادراورمعتبرتھے!غازی علم دین! کیسےشمع عشق کےپروانےکہ آپ ﷺ کی ناموس پرجان کی پروا نہ کی اورچار آنےکی چھری خریدی وہ بھی ان کی حیثیت کا اندازہ لگانےاورجذبےاظہارکرنے کے لیے کافی ہےکہ سرعام اس ہندو ناشد راج پال کوبرتنوں کی دکان پرخود اس سےاس کااصل نام پتہ پوچھ کراوراس کےخوداقرارکرنےپر کہ میں ہی راج پال ہوں!چھری سے وار کر کے ہلاک کر دیا۔
میرے لیے یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ 1929 ء میں بھی لوگ کتنے اچھے پاکیزہ جذبات اورتجربات رکھتے تھے اور کیسے بڑوں کی بات مانتے،بڑے ہنگاموں سےبچتے اور خود انہوں نے ذاتی طور پر یہ کام کیا۔ آپ ﷺ پر گستاخانہ کتاب لکھنے پراور سچائی کاسامنا کرتےکرتے تختہ دارپر پہنچ گئے۔ سبحان اللہ!کیا خوب نصیحت وصیت کی اپنےخاندان کے لیے اورتمام ہی مسلمانوں کے لیے کہ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔
ہمیشہ حق پررہنا، نماز،روزہ،زکوٰۃ سب کچھ کرنامگر امن وامان اور سلامتی سے رہنا شریعت پرچلنااورمیری وجہ سے آپ پرکوئی گناہ نہ آئے گا اور نہ سزا ملے گی۔ 19 سالہ اس نوجوان کو پھانسی کے بعد کئی دن جیل میں بری حالت میں رکھا گیا ، جب ان کا جسدِ خاکی لینے کے لیے سرمحمد شفیع اور لاہور کےخطیب اور دیگر اہم شخصیات گئےتو وہاں پرتعینات عملےکےڈاکٹر وں نے انہیں دوا لگےہوئے ماسکس دئیےکہ جسدِ خاکی دو ہفتے سے رکھا ہواہے،اس سے بو آتی ہوگی! لیکن سبحان اللہ انہیں یہ بات معلوم تھی کہ شہید کوتو بہت ہی بڑا مقام کا حامل ہے۔شہادت تو ایک تمنا ہے۔
شہید توموت کو ایسے پسند کرتا ہےجیسے ظالم جابریہودی ہزارسالہ زندگی کو پسند کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس کو شہادت کا مرتبہ ملتا ہےوہ دراصل زندہ ہیں ۔ انہیں مردہ نہ سمجھو۔ لوگوں نے دیکھا کہ ان کا جسد خاکی قالین میں لپٹا ہواتھا مگر بے بو اور صحیح سالم! کسی نےبھی ڈاکٹرز کے دیئے ہوئے ماسک استعمال نہیں کیے اورجسدِخاکی کو تقدس کےساتھ لاہورلےآئے۔31 اکتوبر آپ کا یوم شہادت تھا اور لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھاجس میں چھ لاکھ مسلمانوں نے شرکت کی اور عظیم شخصیت کو قاری شمس الدین خطیب، مولانا ارشد شاہ اورعلامہ اقبال نے نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد قبر میں اتارا۔ اس وقت علامہ نے کہا کہ غازی علم دین لوہارکا بیٹا ہونے کے باوجود سب لکھے پڑھے لوگوں پر بازی لے گیا۔ اس طرح حقیقت عقیدت مندوں نے پھولوں کے نذرانے پیش کیے۔ کیوں نہ کرتے اپنے ہی مقدمے میں غازی علم دین نے وکلا سےکہا کہ آپ جب اپنی عدالت کی توہین برداشت نہیں کرسکتے تو بھلا ہم توہین رسالت کیسے برداشت کر سکتے ہیں؟ اس کے لیےتو میری جان بھی حاضر ہے اورانہوں نے اپنی زندگی کے مقصد کو عظیم جانا کسی چیز کی پروانہ کی۔ ان کے آخری الفاظ بھی کچھ ایسے تھے:۔
قسم رب کی بندہ نہ نال کوئی
مدد دتی سی اللہ ذوالجلال مینو ں
خنجر ماریا سی حکم رب دے نال
ایہو دل دے وچ مراد مینوں
علم الدین میاں ڈرنا موت تھیں نئیں
جھنڈے نبی ؐدے نال پیار مینوں
یہ ہوتی ہے نبی ﷺسے محبت اورعقیدت صرف زبانی بیانی کام نہیں ہوتا، حق کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے۔بڑے مقصد کے لیے بڑی قربانی۔آج واقعی ایسے پاکیزہ اور سچے جذوں سے ہم عاری ہوتے جارہے ہیں کیونکہ ہمیں اپنے اسلاف سے وہ قدریں، محبتیں و صحبتیں اپنانی نہیں آتیں یاشاید ہمارے احساس ذمہ داری ماند پڑتےجا رہے ہیں۔ آج جتنی ضرورت اپنےایمان ، کردار ، اسلام اور دین کے نفاذ کو عملی جامہ پہنانے کی ہے، اس کا ہمیں اندازہ غازی علم دین کی کہانی پڑھ کرجھنجوڑتا ہےکہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمارے مسائل کہاں جا رہے ہیں۔ کہاں مقصد کے لیے دی جانے والی جانی مالی قربانیاں اور کہاں ہماری غلط بیانیاں؟ سوچنے کی بات ہے عبرت لینے اورعمل کرنے کی بات ہےکہ غازی علم دین کی طرح زندگی کوبھرپور مقصد کے ساتھ گزاریں اورزندگی کا مقصد پورا کرنےمیں مخلص ہوں۔سرزمین مقدس کے لیے اپنی سی ہرممکن کوشش کریں تاکہ ہم بھی اپنےرب اوراپنے رسولﷺ کی خوشنودی کے لیے ہر ممکن طور پر آگے بڑھیں اور ظلم رکوائیں۔ ہر سنگینی میں اپنارول نبھائیں اوراللہ کے بندوں سے محبت کر کےاللہ سے محبت کا ثبوت دیں۔





































