
لطیف النساء
بچپن کی زندگی لاشعوری لاا بالی مگر پھر بھی کچھ باتیں کچھ یادیں چمٹ کررہ جاتی ہیں۔ہمارے والد محترم بظاہرسخت مزاج اورمنظم حیثیت کے
مالک ہرچیز اپنی جگہ پر سمیٹی ہوئی ہو،صفائی پسند،وقت کی قدر کرنے والے،اگرچہ بعض اوقات ہمیں بہت ہی ناگوارگزرتاتھا کہ ہمیں سونےنہیں دیتے،ہر وقت کوئی نہ کوئی کام پر لگائےرکھتے ہیں اورخود بھی لگے رہتے ہیں مگر ہرکام اپنے وقت پر کرنےکے باوجود وقت بچ جاتا تھا۔
یہ کام تھا ان کا! اور یہی چیزہمیں آج بھی بڑی قوت اوررہنمائی دیتی ہے۔یہ بات مجھ سمیت میرے بچوں میں بھی کسی حد تک آئی ہے۔وہ صبح کوبڑی اہمیت دیتےتھےجلد اٹھنا اورجلد سوناان کا شعارتھا اورہمارا امتحان! اللہ ہماری نسلوں کو ایسا بنائے، آمین مگر شکرہے آخر کار ہم اس امتحان پرپورے اترنے کی کوشش ہی کرتے رہے اورکامیابی سمیٹتے رہے۔ سبحان اللہ
یہ بھی میرے رب کا فضل ہےالحمدللہ۔ جب شکوہ جواب شکوہ پڑھا، سنا،سمجھا تو بڑی خوشی ہوئی لگا علامہ اقبالؒ مرحوم اللہ ان کے درجات مزید بلند فرمائےآمین۔ ابا مرحوم کے پکے دوست ہوں گے؟ کیونکہ انہیں پورا شکوہ جواب شکوہ یاد تھا اورہمیں شاعری سنا سنا کر سمجھاتے تھے کہ تم کیا کروگے صبح تو اٹھنے میں اتنے منہ بناتے ہواتنی سستی اورکاہلی دکھاتے ہوجب ہی تونحوست آتی ہے! وغیرہ وغیرہ۔ کیا اللہ نے تمہیں صحت تندرستی دواغذا گھر ماں باپ سب کچھ نہیں دیا؟ احکام نہیں دیئے،کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا ہے؟تم جانوروں سے بھی بدتر ہو کیا؟ دیکھو پرندے کب سے چہچہارہے ہیں اور تم لوگ سو رہےہو؟واقعی یہ غفلت ہی تو ہےمعاشرے میں آج تو عروج پر ہے!۔
کس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہے
ہم سے کب پیار ہے؟ ہاں نیند تمہیں پیاری ہے
جب میں نے شعورسنبھالا تو میں صبح کی اہمیت سمجھ چکی تھی بی ایس سی اوربی ایڈ میں یہ میرا عملی ثبوت تھااگرچہ وہ دنیاوی کامیابی کی چاہ تھی مگر نماز کے لیے اتنی دلچسپی نہ تھی جتنی فکر آج بڑھاپے میں ہے۔ واقعی غیرمسلم سچ ہی کہتے ہیں کہ جس روز صبح کی نماز میں مساجد ایسی بھری ہوں جیسےعیدین اورحج میں تو ہمیں ان کی طاقت کا اندازہ ہوگا۔
وجہ کیا ہے؟ آج تو مجھے حالات پہلےسے بھی بدتر نظرآتے ہیں ۔ استغفر اللہ؟ نحوست کا لفظ سمجھ آتا ہے۔ صبح دیکھو تو سناٹا، اکا دکا بندےمسجد جا رہے ہوتےہیں۔ گھروں سے تلاوت کی آوازیں سنائی نہیں دیتیں، خود اپنے گھروں میں بلڈنگوں میں لوگ سوئے پڑے ہوتے ہیں ۔ سوائے چند لوگوں کے۔ یہ تنقید نہیں تشویش ہے۔ غیر ممالک میں بھی لوگ نوکریوں کے لیے کتنی صبح اٹھا لو اٹھ جائیں گے؟ گویا رزق کے لیے جس کا ذمہ رب نے لے رکھا ہے لیکن رازق کےلیے نہ اٹھیں گے؟ فجرکی نماز کے سناٹے کے چند ہی گھنٹے بعد سڑکوں کا، گاڑیوں کا،اسکول کالج کے بچوں کا، آفس والوں کا جو رش ہر جگہ نظر آتا ہےوہ قابل حیرت ہوتا ہے۔ جب کچھ دیر بعد اٹھنا ہی ہے دنیا کمانے کے لیے تو رب کی رضا کے لیے اٹھنا کیوں بھاری ہے؟ اس کی ایک وجہ ہمارے غلط رویے، لائف اسٹائل،اس میں بھی چوری چکاری،چھینا جھپٹی،لاقانونیت، دین سے دوری، لاپروائی اور بے خوفی اور آخرت کی غفلت ہے۔ لیل کو رات کو تمہارے آرام کے لیے بنایا جس میں تمہاری صحت اور روحانی سکون بھی ہے۔اسے تم غارت کر دیتے ہو سنتوں کو چھوڑ کر اور شریعت اور فطرت سے منہ موڑ کر ہزارہا بیماریاں ہم نے خود ہی پال لی ہیں خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے۔
کراچی کیا دیگرجگہوں پر دیکھ لیں؟ تجارت ہی کیا،تقریبات،شادی بیاہ،ملاقات،دعوت سب ہی نےفطرت کو مارڈالا ہے۔من مانی، من چاہی کرتےہیں۔ اس پر بھی فخر ہے۔ احساس ندامت نہیں ، جب راتیں ہی سنتوں کے مطابق نہ ہوں گی تو صبحیں کیسے خوش گوار ہو سکتی ہیں؟ احکام الٰہی کے مطابق راتوں کو بھی پامال کریں گے توکون سی راحتیں اور صحتیں میسر ہوں گی؟
بس یہی المیہ ہے بلکہ اب تو بیماری بلکہ وباہےبلا ہے! جب تک ہم اپنی نفس کی خواہشات کو لگام نہ دیں گے،کیسے رب کی رضا چاہ سکتےہیں؟ یہی مسئلہ یہی سوال توآج بھی للکاررہا ہے۔ کیا اللہ سے ملاقات نہیں کرنی؟چلیں اپنی نیتیں درست کر لیں۔ رب کو منا لیں۔ راتوں کو اوقات کو لمحات کوامربنا لیں کیونکہ وہ رحیم ہے۔





































