
لطیف النساء
دنیا کے سارے بچے دنیا کی رونق ہیں۔ خوبصورتی ہیں اورپیار ہی پیار ہیں۔ بے لوث بے غرض اپنی دنیا میں مست،قدرت کا حسین بڑھتا شاہکار، کمال محبت
سمیٹے ہوئے۔والدین کی آنکھ کے تارے،دل کا سکون، آنکھوں کی ٹھنڈک اور معرفتِ الٰہی کا کلی ثبوت۔ کیسی ان کی کہانی، ماں کا کہنا کہ میں صدقے میں واری! ان کی ہر دم خدمت کے لیے والدین کی کیسی تیاری! دنیا کےتمام بچے ان کا پیار سانجھاہی تو ہوتا ہے۔
زندگی بھر ان بچوں کی بہترین پرورش پر اللہ نے جنت کا انعام رکھا ہے ۔والدین کے لیے اور اولاد کو حکم ہے کہ جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے۔ سوچیں!جن کی خاطر جنت قدموں میں ڈال دی گئی ہے وہ خود کتنے اہم ہوئے؟ ان بچوں کی دنیا میں کامیاب شکلیں ڈاکٹرز،انجینئرز،اساتذہ، معمار،مزدور، کسان،ہرفن کے شاہکار، حکمران، سلطان اورتمام ہی لیڈران پہلے ماں باپ کے زیر سایہ تربیت پاتے ہیں اور یہ گھر کا ماحول اور دنیا کا ماحول مل کر انہیں معاشرے کا کارآمد اور مفید فرد بناتے ہیں۔ نارمل بچوں پر تو ہم سب شکر ادا کرتے ہیں مگر قربان جانئے ان والدین پر جوا سپیشل بچے رکھتے ہیں ایک دو اور بعض دفعہ کئی کئی اور کس طرح دنیا سے کٹ کر ان کے ہوجاتے ہیں۔ واقعی کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ جنت اگر ماؤں کے قدموں تلے ہے تو پھر جنت الفردوس کے حقدار توا سپیشل بچوں کی مائیں ہوں گی! آپ سوچیں کہ یہ مائیں اپنے ان اسپیشل بچوں کا کام کرتے انہیں سنبھالتے سنبھالتے کیا سے کیا ہو جاتی ہیں؟صرف انہی کی ہو کر رہ جاتی ہیں! نہ کہیں آنا نہ جانا،سوشل لائف کٹ، نہ دن کا سکون نہ رات کا قرار، مسلسل یہ کیفیت!اللہ اکبر! کتنے صبر و ضبط کی بات ہے؟ ان بچوں کے مطابق مائیں کیسے زندگی گزارتی ہیں جبکہ ان کے متعلقہ لوگ کیسے کیسے طعنے تیر، نشتر ان پر چلاتے ہیں کہ اللہ کی پناہ! اپاہج بچہ، پاگل،معذور، گناہوں کی سزا، توبہ توبہ اللہ کا عذاب تک کہنے سے نہیں چونکتے۔
پاگل ہیں تو سنبھال کر رکھیں دوسروں کو کیوں پاگل بناتے ہیں؟ ایک نیم پاگل ضدی شخص اکثر نل بند کرنا بھول جاتا ہے۔ پانی جب گلی میں بھرنے لگتا ہے تو لوگ بکتے لڑتے اس کے گھر آ جاتے ہیں اگرچہ اس پر بھی وہ صبر کرلیتے ہیں۔ ہائے بیچارہ!ہائے بیچاری! اور تو اور درندے اسپیشل بچوں پر تک رحم نہیں کھاتے اور ان کو بھی ہراساں کرتے ہیں۔ خاص کر لڑکیاں! پھر طعنے الگ دیتے ہیں کہ کڑی آزمائش! سوچنا چاہئے کہ والدین اور خاص کر ان بچوں کی مائیں تو زیادہ تر نہ روتی ہیں ،نہ شکوہ کرتی ہیں بلکہ جتنا کوئی انہیں برا بولتا ہے اتنا ہی ان کا محبت اور پیار بڑھتاہے۔ تڑپ جاتی ہیں۔ لوگوں کے مشورے سن کر کہ آپ ان کا علاج کسی اچھے ڈاکٹر سے کیوں نہیں کرواتیں؟ کیا ماں باپ ایسا نہیں کرتے ہوں گے؟ بعض تو پیدائشی ہوتے ہیں یا پھر بیماری کے سبب محتاج ہو جاتے ہیں۔
اکثر ماں باپ کے مرنے کے بعد بھی دیگر بچے افراد کیلئے ایک معمہ بنے ہوتے ہیں جبکہ یہ تو وہ ننھے فرشتے ہیں کہ کسی قسم کا لالچ نہیں رکھتے،منافقت نہیں رکھتے،نہ خود غرض ہوتے ۔مطلب آزمائش تو یہ سب کی ہی ہوتے ہیں۔ ہم آپ کی بھی کہ ہم ان کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں؟ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں! ذرا شرم محسوس نہیں کرتے ہیں؟اپنے لیے شکر گزار ہو کر ان سے ہمدردی کرتے ہیں یا جان چھڑاتے ہیں یااکڑتے ہیں؟ قدرت کے اس انمول خزانوں پر،والدین پراور ان ننھے فرشتوں پر بھی آفرین ہے۔ ان والدین پر جو فخر محسوس کرتے ہیں کہ وہ ایسی خدا کی مخلوق کی پرورش کرنے پر مامور ہیں جن کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتے۔کتنا بڑا ظرف ہے کہ ان کی بعض مائیں بسا اوقات یہ دل دہلا دینے والی دعا مانگتی ہیں کہ یہ اسپیشل بچے ان کی موت سے پہلے اللہ کے پاس پہنچ جائیں تاکہ زمانے کی بے رحمی نہ سہ پائیں!۔زمانہ اتنا سنگدل ہے۔وہ جانتی ہیں کوئی ان کا وارث بننا نہیں چاہتا۔ ہاں ان کی جائیداد کہ پورے وارث بننا پسند کرتے ہیں۔
ایک صاحب کہنے لگے کہ ان کی بیٹی جو اپنی ماں کے گزرنے کے بعد جب دوسرے بچے باہر ممالک شفٹ ہو چکے تھے۔اتنے مجبور ہوئے کہ بیٹی کے وہ کام کرنے پڑے جو ماؤں کے ذمہ ہوتے ہیں جبکہ ان کے لیے کتنی تکلیف دہ بات ہے کہ بہن، بھائی اور بھابیاں تک قبول نہیں کرتیں اور نہ بیرونی ممالک ان کا جانا آسان ہوتا ہے۔ آخر کار انہوں نے دل پر پتھر رکھ کر اپنی شہزادی کو ذہنی امراض کے سرکاری ہسپتال میں داخل کروا دیا کہ وہ خود کئی وجوہات، خدشات اور حیا کے پیش نظر یہ کر گئے۔ مائیں ہی نہیں باپ بھی اس کرب میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ اپنی جمع پونجی پر خرچ کرتے ہیں۔ ان کواحساس انسانیت ہو،ورنہ ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں ان کی قطعی پروا نہیں وہ اپنی رنگین دنیا میں مست ہیں۔صرف دکھاوا کرتے ہیں۔یہ بھی بڑا ظلم ہے۔ سہنے والی ماں کا گویا دگنا غم! حالانکہ تمام رشتہ دار خواتین کو چاہیے کہ وہ ان ماؤں کے لیے بھی اہتمام کریں۔ ان کی طرح کے دیگر بچوں کو ان کی ماؤں کو یکجا کریں۔ان کے لیے خاص انتظام کریں۔شاپنگ کا کھیل و تفریح کا دیگر مشاغل کاتاکہ وہ بھی اس ٹراما سے اپنے آپ کو ذرا ہٹ کرسوچیں اور چند گھنٹوں یا دنوں کا سکون پائیں۔
نارمل ماؤں کو ان کا ساتھ دینا چاہیے۔ان کے گھر جانا چاہیے۔ہر طرح کی مدد کرتے ہوئے انہیں بھی اپنے گھر بلانا چاہیے تاکہ وہ احساسِ محرومی کے دکھ کو بانٹ سکیں۔آفرین ہے ایسے بچوں کی ماؤں کو جو زیادہ صابر ہیں اور دیگر سرگرمیوں میں بھی وقت نکال کر شامل ہو جاتی ہیں۔ کچھ لکھاری ہیں،بچوں کی ہر حرکت سے واقف ہیں کروٹ دلانے، کھلانے اورپلانے کے باوجود مصنف ہیں مگر انہیں بنا بولتے سنتے بچے کی ہر ضرورت کا پتہ ہے اور بروقت وہ ان کی ضرورت کو پورا کرتی ہیں۔ آپ سوچ سکتے ہیں کہ ہمارا آپ کا غم ان کے سامنے کوئی حیثیت رکھتا ہے؟ کتنا شکر گزار ہونا چاہیے اپنے رب کا جس نے ہمیں یہ احساس دیا، پہچان دی اور اپنی قدرت اور معرفت کا ذریعہ بنایا۔ اللہ تعالیٰ ان بچوں کے والدین کو بہترین اجردے (آمین)اور ہمیں آپ کو سب کو عقل سمجھ اور احساس انسانیت دے (آمین)اور اپنے شاکر بندے بنائے۔ آمین





































