
لطیف النساء
پانچ فروری ایک دن یا ڈے ہی نہیں بلکہ کشمیریوں کی انتھک محنت، جوانمردی،دلیری اور مستقل طور پر سر دھڑکی بازی لگاتے رہنے اور آزادی کی
بھرپور جدوجہد کا دبنگ سلسلہ ہے۔یک ایسا نظریہ جو ہماری رگ و پےمیں سمایاہوا اور اپنی حق خود ارادی کے لیے پیہم مستعد ہے۔
یہ وادی کشمیر جنت نظیر ہمارے لیے آج بھی بہت اہم ہے اور ہم اس کی آزادی کے لیے اس کے سکون کے لیے دل و جان سے کوشاں ہیں۔ اللہ کے حضور ہر وقت دعا گو ہیں کہ پاک پروردگار ان فرعونوں اور وقت کے دجالوں سے ہماری خوبصورت وادیوں کی حفاظت فرما۔ ظالموں نے اسے کب سے بڑی جیل بنا رکھا ہے؟ان کی ویرانیاں اور نوجوانوں کے خون کی ہولی کھیلنے والے یہ گھس بیٹھیے کبھی بھی ہمیں نہیں بھا سکتے۔
ہزاروں مظلوموں کی بد دعائیں، بیواؤں کی آہیں،بچوں بچیوں کی فریادیں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی کیونکہ یہ عرصے سےبھارتی تشدد کا نشانہ بنتے ہی جا رہے ہیں اور عالمی حقوق کی تنظیمیں کوئی کردار ادا کر ہی نہیں رہیں بالکل فلسطینیوں کی طرح کا حشر کرتے انہیں شرم نہیں۔ کیسے یہ ظالم! بالکل اسرائیلیوں کی طرح ظلم ڈھا رہے ہیں۔ ہندو آبادیاں بستیاں بسا بسا کر سمجھتے ہیں کہ جیت رہے ہیں۔ جب ہی تو کشمیریوں کی جائیدادیں مار کر انہیں بے گھر کر کے ان کی زمینوں پر اپنے ہندوؤں کو بسا کر سمجھتے ہیں کہ ہیرو بن گئے!ہرگز نہیں ہے! آپ کتنا ظلم کریں گے۔ تعلیم میں، نوکریوں میں،طبی امداد میں، ہر ہر طرح کی تکالیف انہیں دے کر ان کے تہواروں کے تقدس کو پامال کر کے بڑی خوشی محسوس کرتے ہیں جو کافروں کا کھلا عمل ہے لیکن پھر بھی دیکھ لیں کتنے بہادر ،صابر اور جری لوگ ہیں ۔
یہ کشمیری!اپنے بل پر ظلم کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ بقول کسی صاحب کےکرتےکرتےمرنا ہے،مرتے مرتےکرنا ہےکیا بھلا؟وہ اپنی آزادی کی جدوجہد!سلام ہے۔ ان کے عزم اور حوصلے کو پہلے تو دنیا کا سارا میڈیا کشمیریوں کے ڈٹے رہنے اور کشمیر کو ظالم جابر ہندوؤں کافروں سے نجات دلانے کی خبریں سرعام بتلاتا تھا مگر جب سے اسرائیلیوں کے کرتوت دیکھے گئے تو سب کی نظریں، جذبے، خدمات تھوڑا ہٹ گئیں مگر اس سے ان نہتے کشمیریوں کے حوصلے ٹوٹے نہیں بلکہ اور بڑھ گئے۔
پاکستانیوں کو بھی وہ حربے صاف نظر آنے لگے تو کشمیریوں کو کمزور کرنے اور قبضہ کرنے کی چالیں وقفے وقفےسےچھیڑتے ہیں۔ آج بھی وہاں بچے بڑے ہر ایک کی زبان آزادی کی نعروں سے گونجتی ہے تو دوسری طرف ان کافروں کی ظلم و زیادتی کا زیادہ نشانہ بنتے جا رہے ہیں۔ گھر گھر سے نوجوان اٹھائے جاتے ہیں کیسے کیسے ظلم کرتے ہیں۔ انہیں تو شرم نہ تھی نہ ہے۔
آج بھی کشمیر کے لیے ہم اتنے ہی بے چین اور بے قرار ہیں اگرچہ چاروں طرف کسم پرسی کاعالم ہےمگرہمارے حوصلے جوان اور ارادے مضبوط ہیں۔ یقین کامل ہے کہ یہ میرا کشمیر! میرا ہے،۔ہماری ساری محبتیں دعائیں وفائیں ان کے ساتھ ہیں ہم کبھی بھی اپنی جنت نظیر سرزمین کشمیر کو ان ظالموں کے حوالے نہیں کر سکتے۔ ان کے ہی ساتھ انشاء اللہ ہم بھی شہید وں اور غازیوں کی طرح کی کہانیاں بنانے میں کوئی کسر نہ اٹھائیں گے کیونکہ یہ وقت کا تقاضا ہے اور کشمیر کی للکار ہے تو ہماری بھی للکار ہے،اس ظالم کےلیے جو غلط فہمی کا شکار ہے کہ ظلم سے طاقت سے زمین ہتھیا لیں گے! دلوں کی جیت آسان نہیں! مانا کہ وہ تو برسوں سے قربانیاں دے رہے ہیں مگر یہی قربانیاں رنگ لائیں گی انشاء اللہ!بس ضرورت ہے اپنے حصے کا دیا جلانے کی،کام آنے کی،وقت پر ذمہ داری ادا کرنے کی،صرف بیان بازی نہیں چلے گی۔
آزادی ایک احساس کا نام ہے، ایک ذمہ داری ہے ظلم اور بربریت کے خلاف! ایک نظریہ ہے بے انصافی کے خلاف، غاصب کے خلاف!اگر ظالم کا ہاتھ نہ مروڑا، اتحاد تنظیم اور یقین کوبروئے کار نہ لایا گیا تو یہ ہماری ہی کمزوری ہوگی!اس لیے ہمیں پرعزم ہو کر اتحاد کے ساتھ عالمی طاقتوں کو آزادی کشمیر کے لیے لانا ہوگا، اپنا آپ آگے بڑھانا ہوگا۔ہر لمحہ ہر وقت صرف ایک دن کا منظر نہیں۔اس کے لیے مستقل لائحہ عمل ہو،مسلسل ہو اور منظم ہو تب ہی ہم غالب ہوں گے اور ہمیں ہونا ہے۔ اے کشمیریوں! ہم ہر میدان میں آپ کے ساتھ ہیں۔ اللہ ہمارا آپ کا حافظ و ناصر ہے۔





































