
لطیف النسا ء
واقعی مجھے تو حول ہونے لگا ہےہروقت ایک انوکھا واقعہ،ایک درد انگیز کہانی، ایک دکھ بھری اسٹوری کہ جی آج پھر جیب کٹ گئی، موبائل اور 22 ہزار
روپے چلے گئے!۔صرف پانچ منٹ کا فاصلہ تھا رش تھا مسجد مغرب کی نماز پڑھنے گیا تھا۔ رش میں صرف ایک ہلکا سا دھکا لگا تھا مزید جا کر دیکھاتو موبائل اور تمام پیسے لٹ چکے تھے۔
نماز ادا کی اور مولوی صاحب سے کہا کہ پلیز کہہ دیں کہ بے شک موبائل یہیں رکھ دیں پیسے لے لیں مگر مجھے پریشان تو نہ کریں لیکن انہوں نے کہا کہ یہ تو روز کی کہانی ہے لہٰذا اعلان بھی نہیں کیا۔رب سے دعا کی جو اللہ ضرور سنے گا کیونکہ وہی تو ہے ایک سننے والا۔اجر بھی وہی دے گا صبر بھی۔ وہ دونوں کو کتنا کھا لے گا، کتنا جی لے گا۔آخر تو رب کے ہی دربار میں پہنچے گا؟ 35 ہزار کا فون اوراوپر سے 22 ہزار روپے جو گیزر خریدنے کے لیے لے جا رہے تھے ۔یہ واقعات اس دل کے مریض بوڑھے شخص کے ساتھ پچھلے تین چار سال میں چار مرتبہ پیش آچکے ہیں۔
فوراً سم بند کروانا، دوسرا یہ کہ مزیداوسا ن خطاہو جاتے ہیں اورخرچہ بھی۔توسوچیں کتنی تباہی اور بربادی کا عالم ہے بولتے ہوئے مجھے شرم آرہی ہے۔ لاکھوں کی قربانی دینے کے باوجود جو ملک حاصل ہوا اور اس کے لیے بھی ہم اب تک قربانیاں ہی دیے جا رہے ہیں۔
اللہ کا شکر ہے اپنی فیملی کے لیے اپنے لیے اوراس عظیم ملک کے لیے صبر کرتے ہیں ۔ دعا کرتے ہیں مگرافسوس صدافسوس کہ چور کو چور کیسے پکڑیں؟ اللہ ہی ہمارے حال پر رحم کرے۔بیماری، بجلی،گیس،پانی، سڑکیں، ٹرانسپورٹ، منہ پھاڑ مہنگائی اور اوپر سے یہ بے ضمیر چور لوٹ مار کرنے والے ہر لیول پر ہر جگہ دھوکہ دینے والے ہمارے لیے سزاسے کم نہیں!۔ اس لیے مجھے حول اٹھتا ہے پھر دعاہی کرتی ہوں کہ اے اللہ!ہمیں بخش دے اور ہماری حفاظت فرما۔ تیرے سوا ہمارا کوئی والی وارث ہے ہی نہیں۔ کل ہی کی خبر دل میں حول اٹھا رہی تھی جو ایک محلے سے دو بچے صبح سے لاپتا ہو گئے ہیں! سوچیں؟معمولی بات ہے؟کیا ہو گیا ہے ہمیں۔پولیس اور رینجرز کسی کا بھی کوئی کردار ہے؟ آج رکشے والا بھائی اتنی تنگی سے احسان اللہ لیب والی لمبی کچی روڈ جو دونوں جانب لنڈا بازار چلا رہی ہے ،وہاں سے گزرتا ہوا رو رہا تھا کہ یہ پولیس والوں کو پیسےدے کر کھڑے ہیں۔
خالق رازق مالک کی ڈھیل کو مذاق نہ سمجھیں! ظلم جب حد سے بڑھ جاتا ہے تو رب کی شدید پکڑ! اللہ اکبر! ڈریں تو بہ کریں اور حقوق العباد ادا کرتے رہیں، ورنہ نیند سکھ چین حرام ہو جائیں گے۔ سب کچھ ہوتے ہوئے بے سکونی تمہیں ہمیں کہیں کا نہ چھوڑے گی۔ایمان تو عمل صالحات سے جڑا ہے۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ مسلمان کہلاؤ، نمازیں پڑھو، روزے رکھو اور زکوٰۃ بھی دو،حج بھی کرو اور حرام سے نہ بچو، ظلم نہ چھوڑو، نرمی اور رحم دلی کو اپنے اوپر لازم نہ کرو، حقوق العباد ادا ہی نہ کرو بلکہ اکڑے اور دادا گیر بنتے پھرو۔اللہ کے حدود کی خلاف ورزی جرم ہے اور جرم کی سزا لازم ہے۔ صرف نام کے مسلمان ہونے سے یا مسلمان کے گھر پیدا ہونے سے آپ کی شخصیت کو چار چاند نہیں لگیں گے بلکہ نیک عمل کرنے سے اور بدی سے، خرافات، مکاری، دھوکہ بازی سے،جعلسازی سے، حرام سے معاشرے کا بگاڑ بڑھے گا جس کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے اور سزا وار بھی، ہر لمحہ ہماری زندگی کو اپنی منزل یعنی آخرت کی طرف لے جا رہا ہے۔ راستے میں جگہ جگہ دکھ پریشانی، بیماری اور ارد گرد ہونے والی اموات کیا آپ کے لیے کھلے اور واضح نوٹس نہیں؟آپ کیسے انکاری ہو سکتے ہو؟ کیسے دوسروں کو لوٹ کر بے عزت کر کےدکھی، زخمی، بے بس کر کے سکھ چین حاصل کر سکتے ہو؟
کاٹ لے تو وہی تو نے بویا جو تھا
تجھ کو کیسے ملے تو نے کھویا جو تھا
بن کے عبرت کا تو ایک نشان رہ گیا!
بول اب تو سکوں تیرا کہاں رہ گیا؟
گر ماں باپ کا تو کہا مان لے
اپنی جنت کو دنیا میں پہچان لے
اور لیتا رہے تو بڑوں کی دعا
تیرا حامی خداتیرا ناصر خدا
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )





































