
لطیف النساء
معاشرے کی اکائی خاندان ہے جو دو افراد سے شروع ہوتا ہے مگریہ دو افراد دومختلف خاندانوں کاعظیم سرمایہ اور فخر ہوتے ہیں جنہیں قدرت
چن لیتی ہے اور یوں ایک نئے خاندان کی بنیاد ڈلتی ہے۔ کیسے مبارک،سلامت اور دعاؤں سے خوشیوں کے ساتھ دو خاندان جڑ کر مزید بڑا خاندان بناتے ہیں اور کیسے ایک دوسرے سے آشنا ہی نہیں ہوتے لیکن محبت اور رشتوں کی ڈور میں مضبوطی سے بندھتے ہی چلے جاتے ہیں۔
اس بڑے گلشن میں ننھے ننھے پھول جنم لیتے ہیں جوسب ہی کو یکساں لبھاتے ہیں اور یوں نو بیاہتا جوڑا ایک نئی ذمہ داری کے خوش کن احساس سے سرشار ہوتا ہے اور آئے دن پھر اس کی بہاریں رنگ لاتی ہیں اورمعاشرے کو گلستان فراہم ہوتے رہتے ہیں۔سبحان اللہ!کیسے آہستہ آہستہ قدرت کام کرتی ہے۔ظاہر ہے شوہر بیوی کا رشتہ، پھر والدین، بہن بھائی، اولاد ہر فرد پیار،محبت،احترام اور تقدس سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتا ہے تو خاندانوں کی خوشیاں دوبالا ہو جاتی ہیں۔عزت شہرت اور خوشی سے ایک استحکام اور پرامن سکون جنم لیتا ہے جو دراصل کامیاب خاندان کی خصوصیت ہوتی ہے،اسی لیے تو دعائیں سمجھ آتی ہیں جو شادی کے وقت بڑے بوڑھے دیتے ہیں کہ گلشن آباد رہے،بیل منڈیر چڑھے،دودھو ں نہاؤ پوتوں پھلو وغیرہ وغیرہ۔
رشتوں کی مضبوطی کے لیے اچھے سچے نیک جذبوں کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ رشتے احساس سے ہی پروان چڑھتے ہیں، ورنہ تو ہر طرح کے ماحول ہی بگڑتے ہیں۔کہنے لگی میں اب سلائیاں نہیں کرتی خاندان کی کیا خوبصورت تصویر پیش کرنے کے بعد کہنے لگی میری چھوٹی بیٹی ڈاکٹر ہے،اس کی بیٹیاں سنبھالتی ہوں تو سارا دن گھر میں رہنا ہوتا ہے کام بھی کر لیتی ہوں۔ اس طرح داماد اور بیٹی بھی پرسکون رہتے ہیں۔ جب وہ سب کچھ کر لیتے ہیں۔ داماد سمجھدار ہے سمجھتا ہے کہ میرے بچوں کو نانا نانی سے زیادہ کون اچھی طرح رکھ سکتا ہے؟ وہ دین دار ہے،دین کا شعور ہے۔ عزت سے رکھتا ہے۔بیوی کو، بیٹیوں کو،مجھے اور میرے شوہر کا بھی بہت ہی خیال رکھتا ہے۔اس طرح ہم مستحکم ہیں اور اب سمجھو یہی مستحکم خاندان ہوتا ہے ہونا بھی چاہیے۔
ہر رشتہ پیار اور احساس ذمہ داری سے جڑا ہوتا ہے۔فرائض ادا کرتے چلے جاؤ اور خود بخود حقوق بھی ادا ہوتے چلے جاتے ہیں۔ شکر اللہ کا! یہی حال ہر گھر کا اور خاندان کا ہونا چاہیے کیونکہ مستحکم خاندان ہی خوشحال خاندان اور مضبوط معاشرہ ہوتا ہے۔پرامن اور پرسکون!اور دیکھیں نا میرا" بڑا داماد" اب تک بھی نا سدھرا!ساری زندگی بیٹھ کر گھر اور سسرال میں نخروں سے کھایا،نہ بچوں کی پرواہ،نہ بیوی کی۔ چار بچے ماشاء اللہ!اتنے سمجھدار لکھنے پڑھنے والے، ماں پر الگ ظلم، کھانے کو نہ دے، پینے کو نہ دے۔بیچاری صبر شکر سے جیسے تیسے بچوں کو پڑھاتی،خود چھوٹا موٹا کام کرتی بچوں کو سنبھالتی۔ میں اور میری دوسرے نمبر والی بیٹی اگرچہ غریب ہی ہے مگر کچھ نہ کچھ بہن کی مدد کر دیتی ہیں۔جن کی سلائیاں کرتی تھی اب وہ اساتذہ کچھ نہ کچھ مدد کر دیا کرتے تھے۔شوہر تو اتنی تنخواہ لاتے تھے کہ بمشکل بلز ادا ہوتے تھے مگر کبھی تنگ نہ کیا۔ باقی سارا خرچہ میں خود سلائیاں کر کے کرتی، کبھی کبھی بہن بھائی بھی کام آ جاتے، مگر بڑی مشکل سے دن گزرے، بچے خود ٹیوشن پڑھا کر ہی اپنی پڑھائیاں مکمل کرنے میں لگے رہے،بس مصروفیت میں دن کیا برسوں کا سفر طویل گزر ہی گیا۔
اب تو نظریں کمزور سوئی میں دھاگہ تک نہ ڈلے!کیا سلائیاں کروں؟ ان بچوں کو پوری ذمہ داری سے پالتی ہوں،چھوٹی بیٹی باہر چلی جائے گی تو ہمیں بھی بلا لے گی، درمیانی بیٹی بھی میری طرح کام کر کے میاں کا ہاتھ بٹاتی ہے اور بچوں کو جن میں دو جڑواں بیٹیاں بھی ہیں پالتی ہے۔اس کا شوہر بھی ماشاء اللہ!سمجھدار اور ذمہ دار ہے، بھلا مانس کبھی کوئی نخرہ نہیں دکھایا۔ کم آمدنی کے باوجود مجھے کبھی تنگ نہ کیا بلکہ بیٹے کے نہ ہونے کا احساس تک نہ ہونے دیا، ایسے ہوتے ہیں " داماد" نما بیٹے جبکہ بڑے داماد نے اب تک ناکوں چنے چبوائے ہوئے ہیں،احساس سے عاری بندہ انسان سے محبت نہیں کر سکتا تو معاشرے کا بگاڑ جنم لیتا ہے۔بچے خود بخود نفسیاتی ہونے لگتے ہیں،ظلم اور عورتوں کے ساتھ بدتمیزی، بے ادبی، چال بازی دیکھ کر وہ بھی عورت کا تقدس برقرار نہیں رکھتے مگر پھر بھی دیگر خاندان کے لوگوں کا سپورٹ اور مشفقانہ رویہ، مثبت کردار اور درگزر کا حسین انداز ایسے بچوں کے لیے موسم بہار کی برسات کی طرح انداز رکھتا ہے اور یوں بچے گھٹے ماحول میں بھی آگے بڑھتے رہتے ہیں۔الحمدللہ! شکر ہے رب کا،بس دعا کریں کہ وہ باپ کی قدر کریں اورکبھی بدلے اور بغاوت کا حصہ نہ بنیں اورباپ کی طرح عورتوں کے حقوق پامال کرنے والے کبھی نہ بنیں بلکہ عورتوں کے صحیح معنوں میں قوام ہوں اور ذمہ دار پکے سچے مسلمان ہوں۔
یہ ہوتی ہے" ماں "۔پہلے کئی دفعہ اس طرح ذکر کرتی رہتی تھی ہم سرسری سا سن کر تھوڑا بہت کردیا کرتے تھے مگر اس کو کتنے پاپڑ بیلنے پڑے یہ وہی جانتی ہے۔ جو باوجود گریجویٹ ہونے کے لوگوں کی سلائیاں اور دیگر کام کر کے اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوائی۔ اس طرح ان تین بیٹیوں کی تعلیم گویا معاشرے کی تعلیم ثابت ہوئی۔ کہتی تھی" تم قوم کی ماں ہو سوچو ذرا! عورت سے ہمیں یہ کہنا ہے "۔





































