
لطیف النساء
اتنی تباہی بربادی اور انسانیت سوز مناظر بلکہ بدترین حیوانیت کھلی قیامت کے آنےکی دلیل!اللہ اکبر!واقعی کل قیامت کے دن، ان بے کس بے بس فلسطینی
مسلمانوں کا جنہیں جنگ بندی کے ختم ہونے والے معاہد کے بعد مزید زورآور بمباری سے تباہ کیا گیا بلکہ بد ترین نسل کشی کی گئی ،ضرور ان کا ہاتھ ہماری گردنوں پر خصوصاً مسلم حکمرانوں پر ہوگا جنہوں نے حکمت عملی سے کام نہ لے کر بروقت مدد نہ کر کے پوری امت مسلمہ کو افسردہ کیا اوراسلام کی ساکھ کو ٹھیس پہنچائی۔
کیسے مناظر! کہ وہ مجبور زخمی بندہ پاگلوں کی طرح صدا لگا رہا تھا کہ فلسطین جل رہا ہے کیونکہ وہ کمزور ہے ،ان پر رحم کراوران کی مغفرت کر، اے اللہ! مجھے ہمیں اور اہل غزہ کو بخش دے۔اے اللہ مجھے مصیبت سے نجات دے۔ اے اللہ! ہم نے گناہوں کی قیمت چکا دی۔ اے اللہ! اہل غزہ پر رحم کر اور مغفرت کر ہمیں بے حساب جنت میں داخل کر کیونکہ ہم کمزور ہیں۔ہمارے پاس کوئی طاقت نہیں ، تیری طاقت اور قوت سے بڑھ کر کوئی نہیں! اے اللہ ہماری حالت کو بہتر کر دے۔دراصل وہ اس وقت اپنے رب سے ہی دعا مانگ رہا تھا!۔ تڑپا دینے والی آواز،رو ح سے اٹھتا درد، اس کی پکار میں پوشیدہ جو ہماری روحوں کو تک رلا رہا تھا اور ہم بھی اس کی دعا میں رب سے التجا کر رہے تھے کہ اے رب اہل غزہ کوہم تیرے سپرد کرتے ہیں کہ تجھ سے بڑھ کر کوئی مدد کرنے والا نہیں (آمین)۔
دل سے تو واقعی یہی آواز نکل رہی تھی جیسے اکثر لوگوں کو محسوس ہو رہا تھاکہ رفح کو مکمل مٹا دیا گیا ہے۔۔۔ نہ کوئی سایہ ہےنہ دیوار، نہ کوئی سانس ہے نہ آواز،دیکھتے ہی نہ جانے کیوں دل تھم سا گیا اور ہمارے الفاظ بھی شرمندہ،قلم شرمندہ! ایسا ہی لگتا ہے کہ ایک شہر نہیں، ایک درد کا، کرب کا طوفان تھا جو اہل رفح کو ہی بہا لے گیا۔ اللہ اہل فلسطین پر اپنا خصوصی رحم فرمائے (آمین)جس کی وجود کی چیخ اب اس مٹی میں دفن ہے،یہ تو صرف ملبہ نہیں، یہ تو واقعی گواہی ہے کہ انسانی بہت ہی کڑے امتحان میں ہے اور ہمارے امتحان کی سخت ترین آزمائش ہے۔ اس چلتے پیغام نے واقعی ہم سب کے دلوں کی عکاسی کی اور ہم کیا اپنے آپ سے بھی شرمندہ نہیں۔
ستاون اسلامی مالک!اور ان کی افواج! حکمران! ایٹمی طاقتیں!کیا صرف زبانی کلامی تھیں؟ یہ کیسارویہ ہے؟ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے کہ مسلمانوں نے ہی بعض اوقات نہیں بلکہ اکثر اوقات میں منافقت دیکھائی ہے اور اللہ نے صاف کہہ دیا کہ تمہیں اس لیے دنیا میں بھیجا گیا کہ تم میں سے اچھے اعمال کون کر کے آیا ہے؟ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے کیا اب بھی معجزات کا انتظار کر رہے ہیں اور پانی سر سے گزر جائے؟اللہ نہ کرے معجزات تو جنم ہی تب لیتے ہیں کہ مسلمان اپنی پوری آخری سانس تک کوشش کرے۔تمام تر توانائیاں لگا دے،کھپا دے،گویا آخری لمحے تک الگ جم کر کھڑے رہیں تو معجزات ہوتے ہیں! یقینا اقتدار کی جنگ عقیدے سے الگ ہی شے ہے لہٰذا ان تمام ان ظالموں کو ضرور سزا ملے گی جو اپنی طاقت پر فرعون بنے رہے لیکن انجام سے بے خبر ہیں!کچھ کہہ نہیں سکتے جنگ اور اس کا انجام اللہ کی رضاہی ہوگی ۔ان شاء اللہ!لیکن ہمیں تاریخ کا سبق یاد رکھنا چاہئے۔قرآنی واقعات کس طرح ہمارے ایمان کو جھنجوڑتے ہیں۔ قربانیاں دے کر ہی فتوحات حاصل کی گئی تھیں۔ کیسے ایمان تھے اگلوں کے اور آج بھی اس کی مثالیں فلسطینی مٹھی بھر مجاہدین بتا رہے ہیں کہ ایسے ہوتے ہیں حزب اللہ کیونکہ
"تھے تو آباہی تمہارے!مگر تم کیا ہو؟
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو"
ایسے نہیں چلے گا! جب جنگ ایمان اور زندگیوں کی ہو تو زندگی دو ایمان بچاؤ۔آخرتم اس زمین کے نائب ہو، تمہارا مقصد حیات دین کا نفاذ ہے لیکن تمہیں وہن کی بیماری لگ چکی ہے کہ اپنے ہی مسلمانوں کے آہ و فغاں اور فضا میں اڑتے چیتھڑے نہیں متاثر کر رہے بچوں کی چیخیں اور ظالم کے ظلم نظر نہیں آرہے۔ہر لیول پر ان کی مدد آخری سانس تک کرنا ہمارا فرض ہے۔ یہ بائیکاٹ، مظاہرے،احتجاجی مظاہرے اور فنڈنگ بھی ناکافی ہے بھائیوں اب تو سدھر جاؤاور اپنے رب کو راضی کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑو کیونکہ اس طرح تو ہم خود عذاب کو دعوت دے رہے ہیں۔ رب کی ذات ڈھیل ضرور دیتی ہے مگر اس کی پکڑ شدید ہے۔ اب بھی متحد ہو جائیں امت بن کر کردار نبھائیں،ایمان اپنائیں اور اپنا اپنا فرض عین نبھائیں کیونکہ جب آپ آگ کو نہ روکیں تو وہ ہمیں بھی جلا کر بھسم کر دے گی۔ وقت کی پکار پر لبیک کہو کیونکہ:
وقت پر گر بات نہ مانی تم نے وقت کی
وقت پھر وقت نہ دے گا تمہیں پچھتانے کا





































