
(بچوں کی کہانی کےمقابلے میں دوم پوزیشن حاصل کرنے والی کہانی)
لطیف النسا/ کراچی
انگریزی اتنی اچھی نہ تھی، ا سکول میں کام درست نہیں ہوتا تھا اور دیگر بچوں کے سامنے شرمندگی اٹھانا پڑتی تھی۔ شاہد کو روزانہ امی ابو بھی اس کی
تعلیمی کارکردگی پر شرمندہ کرتے تھے۔ماں مصروفیت کے باوجود بہت اچھی طرح سے وقت نہیں دے پاتی تھی، وہ نہ بداخلاق تھا ،نہ ہی کند ذہن بلکہ لمبی چوڑی کمبائن فیملی کا سب سے چھوٹا بچہ تھا کیونکہ دوسرے چھوٹے بچے نہ تھے، اس لیے وہ اپنی بے عزتی برداشت نہیں کر سکتا تھا۔
کام نہ کرتے کرتے اسے کافی وقت گزر چکا تھا،مہینہ وار ٹیسٹ کا کام اس کے پاس نہ تھا۔جب ماں نے خالی کاپی دیکھی۔۔۔ نامکمل کام اور ٹیسٹ کے لیے دیے گئے مواد کو دیکھ کرکَھل گئی اور شاہد کی خوب پٹائی کر ڈالی اور کہا کہ کل اپنی مس سے کہنا کہ کسی بچے کی فل کام والی کاپی دے دیں یا امی سے فون پر بات کر لیں۔ امی سوال جواب پوچھ کر کام مکمل کروا دیں گی مگر شاہد مزید ڈر گیا کہ امی نے تو مس کا فون نمبر بھی لے لیا اور مجھے امی کو کیسے جواب دینا ہے۔ اس نے جیسے تیسے سوال اورجوابات لکھ کر خود ہی مس کے دستخط کر دیئے اور کاپی دکھا کر کہنے لگا کہ کل مس سے بات کر کے فون کرنے کا وقت لوں گا۔
امی نے سرسری کاپی دیکھی خوش ہو گئیں کہ چلو کام تو کر لیا، اب اسےرات سب تیاری کروادوں گی! جب ماں مغرب کے بعد فل تیاری کے ساتھ شاہد کو پڑھانے بیٹھی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ شاہد نے کسی کی کاپی سے جوابات نقل کر لیے اور خود ہی صحیح کے نشانات لگا کر دستخط کر دیئے۔ ماں بھی کوئی فرشتہ نہیں ہوتی نہ ہی تجربہ کار، جدید دور کی دھوکہ دہی، چیٹنگ اوردو نمبری کے گھرے معاشرے میں بچے جو نہ کریں کم ہے۔
ماں نے بچے کی یعنی شاہد کی دھنائی کر دی اور کہا کہ کل تو نہیں میں پرسوں تمہارے ا سکول آ کر مس سے خود بات کروں گی۔شاہد ٹینشن کا شکار خوفزدہ ہو کر سو گیا۔ابھی ٹیسٹ میں دو دن باقی تھے۔اگلے دن شاہد ایک چھوٹا سا صاف ستھرا خط لفافے میں لایا کہ مس نے دیا ہے، دستخط کیے ہوئے ہیں کہ ہم کاپی کسی کی دے سکتے ہیں اور نہ میٹنگ کے بغیر والدہ سے مل سکتے ہیں۔ ہمیں اجازت نہیں ۔ اس کے ذمہ دار ہم نہیں!شاہد نے کتنے اعتماد سے خط ماں کو دیا۔ پھر ماں نے سوچا چلو ٹھیک ہے چھٹی کلاس کا بچہ ہے آج اورکل خود ہی محنت کروا لیتی ہوں۔ انشاءاللہ پاس ہو جائے گا ۔
ماں رات کو پھر شاہد کو لے کر تیاری کے لیے بیٹھی تو معلوم ہوا کہ وہ خط اور دستخط بھی جعلی اور شاہد کا ہی لکھا ہوا تھا۔ ایسی بے ایمانی پر دل خون کے آنسو رویا اور اس کی پھر دھنائی کر دی۔ سسرال والوں کی طرف داریاں اور باپ کی لاپروائی پر مزید غمگین ہوئی! شاہد مسلسل روتے روتے سو گیا۔نماز عشاءمیں رب سے ماں نے دعا کی کہ اس معصوم پر میں نے ہی ظلم کیا ہے اے رب مجھے معاف کر دے اور اس کو شعور دے ،ایمان دے ،یہ کم از کم جھوٹ کبھی نہ بولے۔ پھر صبح ہی صبح چار بجے شاہد کو پیار سے اٹھایا، سینے سے لگایا اور کہا غلطی میری تھی تم نے اس سے زیادہ غلط کام کیا۔ بے ایمانی دکھائی۔ اس پر مجھے غصہ آ گیا تو میں نے تمہیں بہت مارا مجھے معاف کر دو۔تم تو بہت اچھے بچے ہو،ذہین ہو اس ذہانت کو صحیح راہ پر لگاؤ۔اللہ عزت،شہرت،دولت سب دے گا۔پیار کیا وہ بھی مطمئن ہو گیا۔
منہ دھلوا کر جلدی جلدی سوال جواب جورات کومیں کاپی پر درست کرکےلکھ چکی تھی، یاد کروائے،نماز پڑھوائی، اچھا سا ناشتہ پسند کا کرواکراسکول بھیجا۔اللہ کا شکر وہ ٹیسٹ اس نے پاس کر لیا۔ صرف چار پانچ سوالات کے جوابات تھے مگر مجھے زندگی بھر کا تجربہ ہو گیا کہ بچوں کو بچہ سمجھ کر ان کی مشکلات کو ایسے شیئر کریں کہ وہ با اعتماد بنیں اور کھل کر اپنی کمزوریاں اورضروریات بتائیں۔ مزید غلطیاں کر کے نہ خود رسوا ہوں ،نہ دوسروں کو کریں، بچوں کو عزت اور احترام سے محبت سے محنت کی عظمت سکھائیں،اعتماد دلائیں یہی ہماری ذمہ داری اور ان کی ہماری کامیابی ہے۔ بلاوجہ سختی بھی بگاڑ کا باعث بنتی ہے۔ اس لیے کہتے ہیں یقین محکم عمل پیہم۔محبت فاتح عالم۔





































