
لطیف النساء
ظلم پر خاموشی بے ضمیر ی اور موت کے مترادف ہے۔غزہ کابچہ بچہ جہاد کیلئے ڈٹا ہوا ہے!بے کسی بے بسی کے باوجود ان کی استقامت ہمیں للکار رہی ہے کہ امت مسلمہ
کے دلوں کو جگا دیا ہے جس طرح اہل غزہ اپنے فرائض سے غافل نہیں تو ہم کیسے اپنی ذمہ داریوں سے بری ہو سکتے ہیں؟ان کے فضا میں اڑتے جسم اور زبانی کلامی انسانیت کا دم بھرنے والے بے ضمیر لوگوں کے مقابلے اپنے مسلم بھائیوں کیلئے لمحہ آخر تک زندہ باضمیر ہونے کا ثبوت دیں، احتجاج کریں۔ان عظیم فلسطینیوں کے کاز کو پوری دنیا میں پھیلا کر ایک ایسا تہلکہ مچادیں اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑدیں، یہی نہیں ہر طرح کا جہاد اپنا فرض سمجھ کر ادا کریں۔اپنی قابلیت، اپنی اہلیت،اپنا قیمتی سرمایہ اور آپکا ایمانی جذبہ ہی ان کی عملی مدد ہے۔
اے میرے ہم وطن پاکستانی بھائیوں!! اور دیگر مسلم امہ کے نوجوانوں!!یہ وقت اپنی زندگی کی قیمت چکانےکاہے۔اہل ایمان کو جگانے اور قیام امن پر لگانےکاہے۔آخرت کا یقین کوئی کیسے بھول سکتا ہے؟ رب کی پکڑ سے کوئی کیسے بچ سکتا ہے؟آج نہیں توکل ہماری کوششیں، ہماری ممکنہ قربانیاں، ہمارے ہتھیار،ہمارے قلم اور ہماری دعائیں ضرور رنگ لائیں گی۔ انشاء اللہ!رات کتنی ہی تاریک کیوں نہ ہو صبح امید اور روشنی ضرور آئے گی۔
آخر ہم ان کے لئے حوصلہ ہیں۔ ہم اللہ کی مہربانی سے ان کا پورا اعتماد،امید، ایٹمی قوت بھی ہیں۔ ہم مایوس نہیں، ہم اپنے مظلوموں فلسطینی ہی کیا جہاں بھی مسلمان مغلوب ہیں ان کی مدد کے لیے تیار ہیں۔ اللہ پاک ہمارے حوصلے اور ہمارے جذبہ ایمانی کو قوت عطا فرمائے،قابل عمل بنائے اور ہمارے حکمرانوں کو غیرت دے تو ہم نہ صرف انسانیت کا قتل رکوائیں بلکہ انبیاء کی سرزمین کے تقدس کو کبھی پامال نہ ہونے دیں۔ نکلیں!!کیونکہ واقعی مایوسی کفر ہے۔
غزہ کے سرفروشوں کی قربانیوں کو کبھی ضائع نہ ہونے دیں گے۔ انشاء اللہ! ان کی امیدوں اوربجھتے ٹمٹموں کو دوبارہ روشن آفتاب بنائیں گے۔ اپنی تمام تر مفادات اورتفریحات، مصروفیات اور مشغولیات کو چھوڑ کر ہر جگہ سے نکلیں اور احتجاج میں اپنا حصہ ڈال کر طاغوتی قوتوں کو اپنی پوری طاقت سے توڑدیں کہ یہ وقت ہی فلسطینیوں کی تمناؤں اور اپنی قربانیوں کو ایک نئی جہد کے ساتھ ایک نئی صبح امید اور ایک پر امن زندگی بخشنے کا ذریعہ ہے۔ سمجھو جدوجہد آزادی اور اپنی ابدی حیات کی جانب بڑھتا ابتدائی قدم ہے!ساتھیوں نہ گھبراؤ قافلہ خود بنتا چلا جائے گا تم نفس کی قربانی کے ساتھ آگے توبڑھو، احساس خودداری اور ذمہ داری تو نبھاؤ یعنی پھر وہی بات کہ
اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے؟
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے!!؟





































