
لطیف النساء
بالکل صحیح بات ہےحق پرتوڈٹ ہی جانا چاہیے،یہ تو بڑا ظلم ہوگا ناکہ آپ اپنے کام میں اپنےبیان میں سچے ہیں اور اگلا اس کو نہ مانے بلکہ چالبازیاں
دکھائے تو آپ کیسے مان سکتے ہیں؟ دراصل حق ہی انصاف ہے اور جب انصاف نہ ہو تو پھر کیا ہوگا؟ ظاہر ہے ظلم ہوگا۔ اسی لیے تو ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا شہادت ہے،گواہی ہے۔حق بولنے والے کو ایک الہامی قوت اور طاقت ایسی عطا ہوتی ہے جس کے بل پر وہ اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن سے ٹکرانے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ ظالم کا ظلم ہی حق کی للکار سے رکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے بھی تو یہ کائنات گو یا زمین و آسمان حق کےساتھ پیدا کیےہیں۔ ظاہرہےاس ذات کے لیے کوئی بھی کام کرنے کی کس کو ہمت ہو سکتی ہے؟بس یہیں سے تو انسانوں کی زندگیوں میں حق و باطل کی ایک جنگ چلتی رہتی ہےبس جو حق کا متلاشی ہوتا ہے، غور و فکر تدبر اورتفکر میں لگا رہتا ہے اور پھر جستجو میں کامیاب ہو کر بندہ مزید عاجزاور بندگی کےبلند ترین مقام پر پہنچ جاتا ہے یعنی جو اپنے ضمیر کو زندہ رکھے اور حق و عقل کی کسوٹی پر بھی پرکھ کر فیصلہ کرے جو منصفانہ ہو یعنی حق پر ہو سچ پر ہو تو وہی بندہ زندہ کہلائے گا جبکہ جمود کا شکاراورتعصب رکھنےوالا کبھی حق پر پورا اتر ہی نہیں سکتا ،انہیں مردہ کہا جائے تو ہی درست ہے۔آج کے تناظر میں دیکھیں کہاں کہاں لوگ حق تلفیاں کر رہے ہیں ۔کیسے کیسے جال پھیلا رہے ہیں اور ناحق کیسے خون بہا رہے ہیں۔
محض ذرا سے اقتدار پر املاک پر یا ٹیکنالوجی کی پاور پر تو کیا لوگ بک جائیں گے؟نہیں نا!ظلم تو ظلم ہے سر چڑھ کر بول رہا ہے، غزہ اورفلسطین کے واقعات کیا درست نہیں؟ حق کو رد کرنے میں خود اس کی اپنی تباہی ہے،بربادی ہے۔ سمجھو جس نے ناحق کسی پر ظلم کیا اور جس نے حق جان کر بھی مظلوم کو بچانے کی اور ظالم کا ہاتھ روکنے کی انتہائی کوشش نہ کی تووہی توظالم ہوگا۔اسی لیے تو حق کا انکار کرنے والے اور حق سے فرار حاصل کرنے والے سمجھو کافر ہی بن جاتے ہیں تو ان پر ذلت ایسے مسلط کی جاتی ہےکہ وہ مکمل طور پر گمراہ ہو جاتے ہیں اور اللہ بھی انہیں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے ۔وہ خود اپنا ہی دشمن اور ذلیل و خوار ہو جاتا ہے کیونکہ حق کے سامنےنہ ڈٹا! گویا مستحق کو اس کے حق سے دور کر دینا ہوا! جیسے نوکری کرنے کے لیے جس قابلیت کی ضرورت ہے وہ قابل بندہ موجود ہو مگر اس کا حق مار کرسفارشی کو رکھ لیا جائے تو وہ اپنی ڈیوٹی لاکھ کوشش کے باوجود ویسی نہیں نبھا سکتا اور اس کا پول کھل جاتا ہے۔
بے عزتی اور مایوسی الگ اس کا نصیب نہیں ہےمگرآج کل الٹاہی زمانہ آگیاہے۔سب ہی جانتےہیں کہ ہمارے خوبصورت دین اسلام کا معیارہی حقوق اللہ اورحقوق العباد سے وابستہ ہے اور حقوق اللہ توہر بندے کولازمی ادا کرنے ہوتے ہیں یعنی حدود کی پابندی، احکام بجا لانا فرض ہے جبکہ حقوق اللہ نہ ادا کرنا گویا کفر ہے تو کتنا بڑا فرق ہوا لہٰذا حق کی خاطر ڈٹ جاؤ، کھپ جاؤ، مر جاؤ مگر حق کا انکار کبھی نہ کرو نصرت بھی ملے گی،سکون بھی، راحت بھی جب کہ جو حقوق العباد ادا نہیں کرتا تو گویا وہ ظلم کر رہا ہوتا ہے۔
آج دیکھ لیں کس طرح انسانوں کے حقوق پامال کر کے کیسے کیسے ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ڈیڑھ سال سے غزہ،فلسطین،کشمیر اور بوسینیا میں کیا ہو رہا ہے؟ مدتوں سے لوگ ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں!اور جو اس کے خلاف کچھ نہ کچھ کر رہے ہیں وہ تو پھر مزاحمتی ہیں لیکن جو چپ ہیں وہ سمجھو ظالم کے ہی ساتھ ہیں مظلوموں کا حق مار رہے ہیں، ان میں کتنے حکمران دیگر ادارےبے ضمیر بندے ہم آپ بھی شامل کئے جا سکتے ہیں، اگر حق پر نہ ہوں تو! ظاہر ہے حقوق العباد کا احترام کرنے والے بندے صاحب تقویٰ ہوں گے ،ان کےاندرایک جرات ہوگی وہی آگے بڑھیں گے، جائزہ لیں!ہم اور آپ کتنے حقوق ادا کر رہے ہیں؟ کیوں نہیں اللہ سے اپنے انجام سے رب کی پکڑ سے یوم آخرت کےحساب سے ہی ڈر کر حقوق العباد ہر لیول پر ادا کرتے ہیں،جب اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت حقوق اللہ کی کھلی خلاف ورزی ہے ،اسی طرح لوگوں کےمعاملے میں بھی حق بات کا ساتھ نہ دینا بندوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے جس کے لیے اہل ایمان کو باضمیر، صاحب کردار لوگوں کو حق پر ڈٹ جانا ہوگا تب ہی کام بنےگا۔ کیسے فلسطینی اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اپنی مقدس سرزمین کی حفاظت کا حق ادا کر رہے ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانیاں حق کے لیے ہی تو تھیں۔ کیسے ڈٹےتھےوہ ہرجگہ حق کی خاطر؟ ویساایمان اور رویہ آج بھی امت مسلمہ کے ہر فرد کو مطلوب ہے کیونکہ سب ہی جانتے ہیں جنگ کو بند کرنا نسل کشی کو روکنا اور فوری روکنا حق کی خاطر ڈٹ جانا ہی آج مظلوموں کو مطلوب ہے تو ہمیں ضرور ترجیحاً یہ کام فوری کرنے ہیں!ورنہ وہی بات کہ اب پچھتائےکیاہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔حکمت یہی تو ہے کونسا کام کب اور کیسے کرنا ہے؟ اللہ پاک ہمیں بہترین حکمت عملی دے کہ ہم دنیا کے فساد کو روک سکیں (آمین)۔ اپنے نفسوں سے جہاد کریں ڈٹ جائیں تقویٰ کی روش پر ہی رہ کر ہم بڑے سے بڑے دشمن کو چاہے اندرونی ہو یا بیرونی قابو کر سکتے ہیں۔اللہ پاک کہنےبولنےلکھنے پڑھنے سے زیادہ عملی طور پر حق پر ڈٹ جانے کی توفیق دے(آمین)آج امت مسلمہ سے میری بھرپورالتجا ہےکہ ڈٹ جاؤ حق پر۔





































