
لطیف النساء
کتنا ہی کچھ لکھا جائے ،کہا جائے ،سنایا جائے،دیکھا یاجائے مگر لگتا ہےہرحکمران ہرلیڈرہرمسلمان انجان! مگر کیوں؟ احساس ذمہ داری نہیں ،انسانیت
نہیں۔ سفاکیت کے آگے انسانیت مرتی جا رہی ہے۔ کربلا کا واقعہ دیکھا نہیں سنا تھا ،آج کے مشینی اور ٹیکنالوجی کے تیزرفتار دور میں بھی انسانیت یوں رُلے گی؟سوچا نہیں تھا لمحوں میں پیغامات دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچانے والے بے ضمیر جانداروں کو کیا کہا جائے ،سوائے اس کے کہ
سانسوں کے سلسلے کو نہ دو زندگی کا نام
جینے کے باوجود بھی کچھ لوگ مر گئے
افسوس صد افسوس غذائی قلت کا بلکہ محرومی کا شکاربھوکے پیاسے،زخمی،بے بس، بےکس یتیم بچوں کو دیکھا جو بلک رہے ہیں، دودھ کے لیے، پانی کے لیے وہ ننھا منا سا معصوم بچہ افسوس صد افسوس! پانی کی ٹنکیوں سے بھری گاڑی کے پیچھے چھوٹی سی پلاسٹک کی تھیلی لیے ٹپکتے پانی کی دو بوندیں جمع کرنے اور پینے کیلئےاپنی سکت سےبھی زیادہ تیز دوڑتا ہوا ہمت ہار جاتا ہے اور پانی نہیں انسانی خون لے جانے والی وہ گاڑی نظروں سے تیزی سے گزر جاتی ہے۔ایمان لانے والےیہ مناظر دیکھ کر کیسے چپ رہ سکتےہیں؟ اللہ بس تو ہی مدد کر ان مظلوموں کی اور پلٹ دے دشمنوں کی تمام چالیں، جوتیری زمین پر فساد پھیلا رہے ہیں۔
کربلا کاواقعہ توکب کا ہےمگرغزہ اورفلسطین کےساتھ ساتھ دیگرمغلوب علاقوں میں اب تک کربلا سےبھی بدترافعال مسلسل جاری ہیں۔اس طرح غزہ کرب و بلا بھی، یہ کیسی ترقی ہے،یہ کیسی انسانی حقوق کی علمبردارکمیٹیاں ہیں، یہ کیسےبےحس بین الاقوامی ادارے ہیں؟ کیا یہ ان کےبےہودہ قوانین نہیں؟جن کی موجود گی میں بھوکے بےبس یتیموں، بیواؤں، زخمیوں پربھی خوراک دینےکا ڈرامہ رچاکر گولیاں برسائی جا رہی ہیں ۔ اللہ ضرور ہم سب سےپوچھےگا ،کیا ہمارے اندر اتنی بھی غیرت اور ہمت نہیں کہ بہتا خون، رِستا خون بند کرسکیں؟ کیسےہم تم اتنے بگڑ گئے اورکیوں؟ ذرااحتساب توکرو۔
کب تم بگڑے کیوں تم بگڑےکس کس کو بتلا ؤ گے؟
اتنے دور تو آ نکلے ہو اور کہاں تک جاؤ گے؟
اللہ کی پناہ!ساتھیو! مسلمانوں تمہیں ضرورایمان کو بڑھانا ہوگا،حوصلہ دکھانا ہوگا، ظلم کو روکنا ہوگا کیونکہ یادرکھیں اگر آگ کو بجھایا نہ گیا تویہ آگ سب کو ہی جلا کر راکھ کر دے گی (اللہ نہ کرے )لہٰذا اس کربلا کو سمجھو غزہ کےکرب وبلا کو سمجھو!آگےبڑھیے انتظار کس بات کا؟ نسل کشی روکنا،ظلم کو روکنا ہم سب پر لازم ہے۔ اے حکمرانوں! ہوش کے ناخن لو،اے مسلمانوں اپنا کردار تو نبھاؤ! ہمیں بھی آخرت کی تیاری کرنی ہے کہ نہیں؟ اندھیرے چھٹا نے کیلئے ایمان کی ٹارچ ہی تھام لو، روزے کی بھوک پیاس کا احساس کرکے ہی ہم عصرسےہی افطار جمع کرنےلگتےہیں نا! تو اتنی تباہی دیکھ کر بھی بچنے بچانے کا انتظام کریں؟ یہ کیسی بات ہے کہ ہمیں بھی اپنےآخری سفر اور ابدی زندگی کا یقین نہ ہو، نہ تیاری ہو، اگر ایسا ہے تو ضرور ہم امر بالمعروف نہی عن المنکر کے علمبردار ہوں گے۔





































