
لطیف النساء
کتنے جلدی سال بدلتے ہیں اور نئے سال آتے ہیں لیکن اپنے ساتھ کیا کچھ لے جاتے ہیں اور کیا کچھ چھوڑ جاتے ہیں ،کیسا چکر ہے اغور کریں! اس ہیر پھیر کا۔ ساتھیو !کتنے خوش نصیب
لوگ ہوتے ہیں جن کے سروں پر چھت ہوتی ہے ۔تندرستی صحت کے ساتھ تین وقت کا کھانا کھاتے ہیں اور روز مرہ زندگی کے کام کاج کرتے ہیں اور اپنے گھر میں سکون سے سوتے ہیں، خوف اور ڈر سےدور! مگر دیکھیں آج میڈیا اورہمارے ہاتھ ارد گرد واقعات! آئے دن لرزہ خیز خبریں لٹتے پٹتے لوگ،زخمی،بھوکے پیاسے،ڈرے سہمے لوگ! بیمار، مجبور، بے بس، بے کس کیسی ہے یہ دنیا؟ زمانے کے تغیرات گرمی، سردی، خزاں، بہار ہمیں بہت کچھ سیکھا جاتے ہیں، پھرمزید قدرتی آفات، گھریلو رشتے ناطے اور اچھی بری معاشرے کی باتیں، آئے دن لڑائی جھگڑے،چوری چکاری کے واقعات، لوٹ کھسوٹ،ان سےکیسےبچا جائے؟ ساتھیو!اس ڈر خوف کے حالات غیر یقینی صورتحال جن کا ہمارا ملک خاص کر کراچی برسوں سے شکار ہے ۔اسی طرح پچھلا برس! کوئی بہتر صورت نظر نہیں آرہی۔لگتا ہے سارے لوگ ہی بے ضمیر اور ایمان سے خالی ہو چکے ہیں! اس لیے ایک دوسرے کے دکھ درد کانہ احساس کر رہے ہیں نہ ہی علاج! بلکہ بس لوٹو اور کھاؤ اپنا بناؤ والی بات ہے!گزشتہ سال تمام اقسام کے ٹیکسز دینے کے باوجود بری طرح گیس پانی اوربجلی کے ستائے رہے،پھر اس مرتبہ کی گرمی اور اوپر سے لوڈ شیڈنگ سونے پہ سہاگہ!اللہ کی پناہ! کب سدھریں گے ہم؟زندگیاں گزر رے جا رہی ہیں اورانہی میں جدوجہد کرتے لوگ 2025 میں ہمارے کتنے ہی رشتہ دار، عزیز اقارب گزر گئےاورپھر پورا سال ہمارےمسلمان فلسطینی عوام غزہ کے مسلمان پریشان مگر عزم و ہمت کا نشان! کیا کچھ نہ دیکھا ہم نے دنیا نے، مگر وہی بات کہ ان کا یقین! اللہ اکبر! شکر اور صبر یہ دو خصوصیات کوٹ کوٹ کر بھری ہیں ان فلسطینی عوام میں، کہتے ہیں کہ ان کا سکون ان کے شکرمیں ہے اور شکرتوآتا ہی صبر کی وجہ سے ہے،صبر میں ہی تو اللہ کی رضا ہے دراصل اللہ کی رضا ہی اللہ پاک کی حکمت ہے اور رب کا بھروسہ یعنی اللہ کی حکمت پر بھروسہ کرنے سے ایمان بڑھتا ہے اور یہی یقین زندگی کا بلکہ جیون کا ہتھیار ہے،سکھایا ہے ان فلسطینیوں نے۔
لگتا ہے وہ ذہنی طور پر تیار تھے ہر واراور مشکل کو سہنے کےلیے،بچوں کی تربیت ان کا ایمان اور اس ایمان کا لیول کے بنا بے ہوش کئے آپریشن ہو رہے ہیں، ہر وقت منہ سے آیات قرآنی ادا ہو رہے ہیں۔
حسبنا اللہ و نعم الوکیل۔شکر الحمدللہ کیا جا رہا ہے۔دوسروں کی لاشیں اٹھا کر دفنا کر بھی اور اپنوں کو دفنا کربھی الحمدللہ شکر استغفر اللہ کہا جا رہا ہے۔ یہ آخرت کی تیاری ہے۔ ہمارے ہاں تو لوگ واویلا کرکے بیٹھ گئے،بچے اماں اماں کر کے مزید پریشان کریں، مائیں خود بھی اپنی تربیت چیک کریں۔ اپنے وطن،اپنے گھر، اپنے ملک کی خاطر گویا حق کی خاطر کی جانے والی جنگ جو بلا جواز مسلط کر دی گئی تھی اور اس کی آڑ میں اتنا تباہ کن ظلم اور اس ظلم پر بروقت مسلم اور غیر مسلم لوگوں کا غیر منصفانہ رویہ مزید تکلیف اور کر ب کا باعث بنا ہوا ہے ۔قدرتی آفا ت سے پناہ مانگی جاتی ہے مگر انسانوں کی درندگی پر اس المیہ پر میرا دل بہت دکھی ہے، بائیکاٹ اور خلوص نیت سے دیئے جانے والے فنڈز کو ہی اللہ پاک قبول فرمائے جو ناکافی ہے، غیر تسلی بخش ہے مگر رب کی ذات جانتی ہے اور اس کے اجر میں ہمیں معاف فرما دے(آمین)۔
واقعی تاریخ کا بدترین دور ہے جو گزشتہ سے پیوستہ چلا آ رہا ہے، ایسی نسل کشی اللہ کبھی بھی کہیں بھی نہ دکھائے ۔یہ گزشتہ سال کا سیاہ المیہ اور انسانیت کا زوال ہے،سبق کیا لیا جانا چاہیےکہ کردارسنوارواورفطرت کے خلاف کچھ نہ کرو۔1400 سال پہلے دیے گئے منشور قرآن اور سنت کا ہر ہر لفظ قابل عمل ہے، دنیا کا سکون اور امن ہے،ہم ہی اپنی حدوں سے نکل پڑے ہیں۔ مرکز سے ہٹ گئے ہیں۔اپنے دشمنوں یہودو نصاریٰ کو اپنا خیر خواہ سمجھ کر مغربی فرعونوں کے ہتھے چڑھتے جا رہے ہیں۔ ان کے لباس، زبان، تہوار اپنانے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔
ہمارے بس میں نہیں رہا کہ وہی بن جائیں!ترقی نہیں یہ، نہ ہماری تہذیب ہے ،نہ اقدار تو گویا خود ہم ذہنی بیمار ہو گئے ۔ہم خود دشمنوں میں گرفتار، بدل ڈالے ہم نے اپنے اطوار، اقتدار اور پیمانے آزادی کے نام پربربادی خرید لی ہے،ترقی کے نام پر جاہلیت اور تنزلی!پھر بھی عقل سے کام نہیں لے رہے۔
پیغام تو یہ تھا کہ دنیا میں فساد نہ کرو اللہ کے بندوں بھائی بھائی بن کر رہو!آج دیکھ لیں فرقوں میں بٹنے سے کیسےمسلم امہ کا شیرازہ بکھر گیا ہے، اب بھی وقت ہے ،یہ صرف ایران کی جنگ نہیں ،پوری امت مسلمہ کی جنگ ہے ۔سب کو اس بات کا احساس ہو گیا ہے تا کہ اب اسرائیل کے خلاف عملی اتحاد اور یکجہتی وقت کی ضرورت ہے۔
مسلمانوں ا یسا کردار نبھائیں کیسے؟عبدالقدیر خان نے کہا تھا کہ مجھے بےقدرکیا گیا، تم لوگ خاموش رہے، مجھے پینشن تک نہ دی گئی، اس طرح پاکستانی کتنے عظیم لوگ تھےجنہوں نے خاموشی سےاپنےغم سہے مگر کیا فائدہ مرنے کے بعد ان کے گن گانے کاتواس سال کا پیغام یہی ہے کہ وقت پر ہی اپنےخلوص سدھار کے کام کرواورقدرکرویہ ان کا حق ہے، گزشتہ سال کی ناقدری کا،ظلموں کا، زیادتیوں کا ازالہ کرنا،بے گناہوں کے خون کا بدلہ لینا ہم سب پر اب لازم ہوچلا ہے توہمیں آنے والےنئےسال میں اپنے زندگی کے مشن کو دوبارہ زیادہ قوت سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
دنیا کو جنگ میں نہیں دھکیلنا بلکہ امن کے لیے ایک حکمت عملی سے کام لینا ہوگا۔ اپنےاتحاد اورایمان کی طاقت سےامت کی یکجہتی سے، انتہا ئی ہوشیاری اور چالاکی سے امن کے پیامبر بن کر کام کرنا ہے اور دنیا کو سکھانا ہے کہ زندگی جنگ کا نام نہیں ہے، امن کا پیغام ہے۔ انسانیت کے دکھ درد کا علاج ہے، ہمدرد ی تعاون اور معاون ہے۔ہم ہر شعبےمیں کمزور ہیں، ہماری حکمت عملی کمزور ہے۔ہماری انتظامی امور کمزوراور ہماری اعلیٰ قیادتیں بھی اس بدنظمی کا شکار ہیں۔
ملک کا انتظام دن بدن بد سےبدحال ہوتا جارہا ہے، ضرورت ہےکہ پچھلےکسمپرسی کےحالات سے باہر نکلنے کےلیےاچھی تعلیم دنیاوی اور دینی تعلیم جدید ٹیکنالوجی، بنو قابل جیسےپروگراموں کی ترویج اور نئے ذرائع آمد ورفت اور مؤ ثر،حسین روزگار کے ذرائع اختیار کریں۔ اپنی صلاحیتوں اورہنر کو فروغ دیں۔کاروبار چمکائیں،اپنے پروڈکٹ لائیں۔اپنے وسائل پربھروسہ کریں اور ان کی قدر کریں، صبر شکر کے ساتھ ان کو ہی بروئے کار لا کر ترقی کی طرف بڑھیں،ایمانداری سے کام کریں۔ کام ہی زندگی ہے،بے عمل رہنا اور باتیں بنانا بے ضمیری ہے ۔
قائد اعظم نےکہا تھا بالکل صحیح کہا تھا کہ کام کام اورکام، یہی ہوتا ہےزندگی کا انعام، ساتھیو!اپنی تنہائیوں کو پاکیزہ رکھو اپنے مقصد پر فوکس رہو۔ امن کے لیے کوششیں کرو۔ اللہ سے جڑے رہو، مدد مانگتے رہو،اپنے تعلقات مضبوط اور خوشگوار رکھو، کبھی رشتوں کو پامال نہ کرو، تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے، ہم کیسے اس میں غلط کام کر سکتے ہیں، پھر ہم میں سے ہر شخص داعی ہے جس کا اسے جواب دینا ہے۔ من چاہی نہ کرو، رب چاہی کرو، اللہ نے انسان کو درد دل کے واسطے پیدا کیا شکر ادا کرنا چاہیے ہمیں اپنے ملے ہوئے مشن پر کاربند ہو کر کیونکہ یہی تو نعمتوں کی شکر گزاری ہے اوراصل زندگی ہے۔





































