
لطیف النساء
اللہ ہی کی شان! پوری زندگی میں صرف ایک بار حج فرض ہے اور اسلام کاپانچواں رکن مگر اس اللہ کے حکم کی حکمت تو دیکھیں! سبحان اللہ! کاروبار!!کیسا کاروبار کے ساری دنیا کو
دنگ کر دے،اربوں روپے کا کاروباری چکر وہ بھی خوشی خوشی اللہ کی رضا کے لیے ساتھ ساتھ ڈر بھی اورامید بھی کہ اللہ پاک قربانی کو قبول کرے ,اس کا ڈر کہ ضائع نہ جائے , قربانی قبول ہو جائے ,اللہ پاک کی رضا حاصل کرنے کا موقع اور امید جو بندوں کو نہال کر کے عید منواتی ہے ۔
کیسا کاروباری چکر! کیسی اکنامکس! سوچیں دنیا کتنا بڑا کاروبار! اللہ اکبر! چارے کا کاروبار،قصائیوں کا کاروبار، کھا لیں کئی سو اربوں کی فروخت کی جاتی ہیں۔ پھر چمڑے کی صنعت متحرک رہتی ہے۔ ہزارہا گرم اشیاء جیکٹ،کوٹ، گرم جوتے،کپڑے،بیگز اور والٹس وغیرہ ہرجگہ بندےمتحرک اپنے اپنے پیشوں میں مگن اور ہزاروں کے لیے کفالت کا بندوبست ،تقریبا ًعید الاضحی پرچار ارب یا شاید نہیں بلکہ یقینا ًچار کھرب روپے کاروبار ہوتا ہےیعنی مویشی بکتےہیں 23 یا 24 ارب تو صرف ٹرانسپورٹ میں لگتے ہیں۔ چارے کتنے بکتے ہیں لاکھوں کے! اور پھر ان کی صفائی، سجاوٹ، چارہ منڈیاں ان پر لاکھوں کا کاروبار تو گلیوں بازاروں میں مسالہ جات مختلف اقسام کی چھریاں، چاقو،کنڈے، جانوروں کو سجانے کی اشیاء، چٹائیاں،گھنگرو،ہار سنگھار کی اشیاء ان کےمخصوص شامیانے، مزید ان کا خیال رکھنےکےلیےمخصوص جگہ پر ان پر کام کرنے والے سینکڑوں لوگ وقتی طور پر کام کرنے آ جاتے ہیں اور خلوص و محبت سے کام کرتے ہیں پھر عید کے ان تین دنوں میں قصائی حضرات اور ان کے ساتھ ہزاروں روپے کماتے ہیں اور خوشی خوشی کام کرتے ہیں۔حصے تقسیم کرنے کے لیے پھر ٹریفک مزید متحرک رہتی ہے،وہاں بھی کاروبار ہی چل رہے ہوتے ہیں پھر مزید عیدالاضحی کے نتیجے میں کئی کسانوں کی کمائی ہوتی ہے ، ان کا چارہ بکتا ہے اور شہروں میں بھی قربانی کے جانوروں کو لانے بیچنے چارہ منڈیاں بنانے مزید لوگوں تک پہنچانے کےلیے ہزاروں لوگوں کا کاروبار چل پڑتا ہے ۔
اس طرح دنیا کے اس سب سے بڑے کاروبار میں حیرت انگیز طور پر نہ صرف غریبوں کو نوکری ملتی ہے،کھالیں بکتی ہیں اور چمڑے کی صنعتیں چلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس طرح تمام حضرات پیسہ کماتے ہیں تاکہ اپنی ضروریات پوری کریں اور جمع کریں اور اگلے سال کی قربانی کے لیے بھی اس طرح صاف صفائی کے لیے گھر سے لے کر مذبحہ خانوں اور قربانی کی جگہوں پر صاف صفائی کے انتظامات گھروں کی ماسیوں کو بھی ڈبل نوکری اور لاکھوں غریبوں کو گوشت مفت ملتا ہےپکایا بھی اور غیر پکا بھی ،مطلب کچا گوشت،پھر مزید گوشت والے قیمہ بنانےوالےمختلف پکوان بنانے والے،ہنٹربیف کباب،گولا کباب، سیخ کباب،ران روسٹ اور دیگرمختلف انواع واقسام کے پکوان اور ان پکوانوں کے کرنے والے حضرات بھی سال میں اس موقع سے مزید ترقی پاتے ہیں ،یہاں تک کہ گھریلو طورپرپارٹی پکنک والی گھریلو خواتین بھی اپناپکوان کا بزنس چمکاتی ہیں ۔
خوشی کےساتھ اس طرح مہمان میزبان مختلف دعوتی ون ڈش پروگرامز کر کے ملنےملانے کےپروگرامزبناتے ہیں،یتیم خانوں جیلوں ہسپتالوں اور رفاعی اداروں میں تک گوشت کی رسائی ہوتی ہے۔ انہیں مرغن غذا کی صورت میں کئی دنوں تک گوشت کھانے کو ملتا ہے،دنیا بھر میں سمجھو اربوں روپوں کا کاروبار ہوتا ہے،ان میں کھالوں چمڑے کی فیکٹریوں میں تو آئندہ سال تک کام ہوتا رہتا ہے ،یہاں تک کہ دوسرا سال اور دوبارہ دوسرا دورشروع ہو جاتا ہےاوریوں کاروبار چلتا ہی رہتا ہے ۔سبحان اللہ
اس مرتبہ تو لوگوں نے بہت ہی زیادہ قربانی کا گوشت اور دیگر ضروری سامان فلسطینی اورغزہ کےمسلمانوں کےلیے بھجوایا ہے۔اللہ قبول فرمائے(آمین) ۔ اگرچہ سنت ابراہیمی ہے مگر اللہ کے اس حکم کو ادا کرنے پر سال بھر کے اس چلتے کاروبار کی کوئی مثال کہیں پیش نہیں کی جا سکتی۔ سبحان اللہ! کیا حکمت ہے اور کیا زبردست یکسانیت ہے، سبحان اللہ!۔
قربانی کےفلسفہ میں جسےاللہ نےبڑا شرف بخشاہے،کتنا ہی دل آویزہےاور رب کی رضا کےلیےہرچیز کی قربانی صبر وضبط سےادا کرنے کی زبردست پریکٹس ہے اورضبط نفس کے لیے تزکیہ نفس کے لیے دوسروں سے محبت اورخوشیاں بانٹنے کا کتنا اچھا نظام ہے۔ صرف اس ایک فریضے سے بھی کتنے لوگ جڑتے ہیں،ملتے ہیں جو تعلقات قائم رکھنے، پھلنے پھولنے کے لیے حسین موقع کو پاتے ہیں،یہی خوشیاں نمازعید اوراس کےاجتماع سے کتنی خوبصورت اور روح پروریادگاریں ہمارے ایمان کو تروتازہ کرتی ہیں۔ جب تکبیریں پڑھتے لوگ آگے بڑھتے،ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہیں، غریبوں مسکینوں عزیز رشتہ داروں سے مل کر محبت کا پیغام ساری دنیا میں پھیلاتے ہیں، رنجشیں ختم کر کے محبت آگے بڑھاتے ہیں دراصل یہ اس فلسفہ قربانی کی روح ہے۔ اللہ تعالی مسلمانوں کی قربانیوں سے جانوروں کی نہیں بلکہ اپنی جائز اور با مقصد اور اللہ کی رضا کے لیے دی جانے والی تعلقات اور رویوں کی قربانیوں کو بھی قبول و مقبول فرمائے اور ہم سے راضی ہو جائے۔ آمین





































