
لطیف النساء
آج سمجھ آتا ہے کیوں وہ ہر کام " بسم اللہ" سےشروع کرتی تھی؟ یہاں تک کہ کسی سے بات بھی کرتی ہو۔ دبلی پتلی اورا دھیڑ عمر کی مالن (کیونکہ
سسرال میں مالی کی بیوی تھی) سب مالن کہتے تھے ۔کبھی کبھی گھر آیاکرتی تھی کسی تقریب میں یا ویسےبھی،میں اس کے لیے بالکل اجنبی تھی مگر مجھےجانتی تھی کہ اس گھر کی نئی دلہن اور سب سے چھوٹی بہو ہے۔اگرچہ مجھے اس گھر میں 12 سال ہو چکے تھے مگر وہ مجھ سے پہلی دفعہ ملی۔ گلے لگایا"بسم اللہ "بول کر پھر اپنی خوشخبری سنائی کہ میری پڑوسن نےمجھے اپنے خواب میں دیکھا! سبحان اللہ! اب تو میرا بھی بلاواآ جائے گا! انشاء اللہ!
میں کچھ سمجھی نہیں،میں نے کہا ،مالن کیا کہہ رہی ہو،کیا ہوا؟ بڑی خوشی سے کہنے لگی کہ آمنہ پڑوسن حج پر گئی ہوئی تھی نا اب آگئی ہے، اس نے مکہ میں مجھے اپنے خواب میں دیکھا ہے، گویا میری حاضری وہاں ہو گئی۔ آپ کو پتا ہے کہ جو کوئی حاجی کسی دوست،ساتھی کو وہاں خواب میں دیکھ لے، اللہ تعالیٰ اسے ضرور حج کی سعادت نصیب فرماتے ہیں۔اب دیکھنا جلد میرا بلاوا آئے گا۔ اللہ پاک خود ہی انتظام کر دیں گے۔ گاؤں کی زمینوں کا فیصلہ بھی ہونے والا ہے تو میرا ہاتھ بھی کھل جائے گا۔ میں تو آج حاجی آمنہ پڑوسن کیلئے مٹھائی اور جوڑا لے کر گئی تھی، وہ بھی بڑی خوش تھی اور بتا رہی تھی، اب شاہدہ تیری باری ہے! تم ضرور ان شاء اللہ حج پر جاؤ گی، ساتھ ہی وہ اتنا خوش تھی کہ جیسے انعام لگ گیا ہو۔میں نے بھی اس کو گلے لگا لیا اور کہا ہاں ان شاء اللہ آپ کا بلاوہ آئے گا۔آپ کا چناؤ ضرور رب تعالیٰ ہزاروں لاکھوں میں سے کریں گے۔ آپ کی طلب اور تڑپ کتنی ہے ۔سبحان اللہ! بس پھر کیا تھا میں اپنے شوہر اور سسر کے لیے شام کی چائے بنا رہی تھی۔ وہیں باورچی خانے میں اسےچائے بھی دی اورکچھ دیر باتیں کیں۔ پھر میری دونوں جیٹھانیوں نے بھی اس کی خوشی دیکھتے ہوئے کہا ہم دعا کریں گے۔ آپ بھی ہمارے لئے دعا کیجئے گا۔
وقت تو پرلگا کراڑگیا اور دوبارہ حج کاموقع آگیا،میری جیٹھانی نےبتایا کہ شاہدہ (مالن) تواپنےشوہرکےہمراہ حج ادا کرنےجاچکی ہے۔یہ اس کا بیٹا ہے ،اس کا نام شاہد ہے، میٹرک میں پڑھتا ہے، میں بھی خوش ہو گئی۔ وہ ہفتے میں ایک دو دفعہ باغیچے میں پانی ڈالنے آنے لگاپھر اچانک سےمنیٰ میں آگ لگنے کی خبریں آنے لگیں جس میں کوئی ڈیڑھ سو لوگ(زائرین حج)جل کر شہادت پا گئے۔ ٹی وی پربار بارخبریں بریکنگ نیوز آنےلگی اوردو تین دن بعد عید تھی جیسےکل عید الاضحی ٰتھی اور رات پی ٹی وی خبروں میں حجاج کی جھلس کر جاں بحق ہو نے والوں کے نام آنے لگے کیونکہ سارا دھیان وہاں جانے والےحاجیوں کی طرف تھا کہ اچانک مجھے شاہدہ نام کی پاکستانی کراچی کی رہائشی کا نام بھی سنائی دیا! اللہ اکبر!کچھ دیر میں میری نظروں میں مالن گھومنے لگی! میں نےفورا ًاپنی جیٹھانی سےتصدیق کروائی۔انہوں نےفوراً کہا،ہاں وہی مالن ہے،ہم سب انتہائی حیران اور افسردہ تھے۔ " انا للہ وانا الیہ راجعون "پڑھنے لگےاور اس کے چھوٹے بیٹے کی خبرگیری کیلئےجیٹھانی نے اپنے بیٹےکوبھیجا کہ بلا کر لاؤ۔بس چند ہی گھنٹوں میں تصدیق بھی ہو گئی کہ صرف مالن گزر گئیں مگر ان کے شوہر حیات ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی بہترین مغفرت فرمائے۔ واقعی یہ کیسا انوکھا روحانی سفر ہے اور جسم اس کا تابع ہے۔کتنی شوق سےوہ وہاں گئی تھی، حاضر ہوں میں، حاضر ہوں۔۔۔۔اے اللہ! میں حاضر ہوں! لبیک اللہم لبیک۔
واقعی وہ حج کےسفر کیلئےہی نہیں اپنےابدی سفرکیلئےتیارتھی،واقعی کیا معرفت ہے،کیسا سفرہے؟غفلت سےشعورکا.ہرشےسےاپنےبچوں سے،اپنے رشتہ داروں، دوست احباب مگر محلہ کیا ملک کو چھوڑ کر اللہ کی راہ میں ہجرت کا سفر اپنے گناہوں پر نادم، اپنی تمام تر عبادات کے ساتھ اپنا آخری عبادتی رکن" حج" ادا کرنے چلا، کتنا خوش نصیب ہے،تمام شرائط کوپورا کرنےپرشاکرہےاورزندگی میں ہی اس عبادت کو اپنی سعادت اوراپنےرحمٰن رب کا چناؤسمجھتا ہے اور اس روحانی سفر کو اس آخری رکن کے پورا ہونے والے شعور کو بڑی خوش نصیبی سمجھتا ہےاورکیوں نہ سمجھیں ۔۔۔۔حج کےبعدآدمی گناہوں سے ایسے پاک ہو جاتا ہے جیسے آج ہی ماں کے پیٹ سے جنم لیا ہو۔
جب علم کی تلاش میں نکلنے والے بندے کو جو راہ میں مارا گیا شہیدکادرجہ ملتا ہےتواس حج کیلئےمشقتیں برداشت کرنے،ہجرت کرنے پرکیسے وہ خوشی سے منتظر تھی، کیسی اس کی تڑپ تھی،کہتے ہیں جہاں کی مٹی وہیں جاتی ہے، واللہ عالم! مگر ایسا ہی لگا۔میں اب پھر اس مرتبہ جانے والے حاجیوں کا سن کر وہاں کے منظر انسانوں کےسمندر کو یاد کرتی ہوں۔ اللہ کا شکر ہے مجھے بھی حج کی سعادت نصیب ہوئی اور کتنے ہی لوگ حجاج بن کر آتے ہیں۔ کیا کچھ نہ مانگا ہوتا ہے؟ بہت کچھ سہا ہوتا ہے بہت کچھ دیکھا ہوتا ہے۔ نیکی کی استقامت کی دعائیں مانگی جاتی ہیں، دراصل میں تو ہر خیر کا محتاج عاجز بندہ ہوں! جسے رب نے موقع دیا چناؤ کر کے، اپنی زندگی میں ہی گناہوں سے نجات پا جاؤ اور اللہ کے نزدیک رتبہ پا لوں آخرت کی کامیابی کا۔۔۔یہ کیا کم بات ہے؟
دنیا کا عظیم ترین روح پرور اجتماع اور روح پرور دعائیں،سب کچھ کرکےیہ حجاج جب واپس اپنےملکوں میں آتےہیں،اپنے لوگوں میں آتےہیں توپھربھی ماحول میں کوئی نمایاں تبدیلی کیوں نہیں ہوتی؟ ۔ کیوں معاشرے میں سدھار نہیں آتا؟کیوں بھائی چارگی نہیں پیدا ہوتی؟ رشتے ناطے کیوں نہیں پنپتے؟مجھے تو آج بھی وہ حجاج مرد حضرات کے سفرِ آخرت کے وہ مناظر یاد ہیں، جب جمرات میں دو مخالف سمت سے آنے والے حجاج کا شدید گرمی کی وجہ سے تصادم ہو گیا تھا اور سینکڑوں حجاج ابدی نیند سو گئے تھے تو انہیں کھلےمنہ دیدار کروایا گیاکہ ججاج کرام مرد حضرات کو کھلے منہ ان ہی احرام میں سپرد خاک کیا جاتا ہے۔ اس منظر کو دیکھ کر بھی میری روح کانپ گئی لیکن پھر بھی انسان اتنا غافل کہ پھر بھول بھال غفلت کا شکار دنیا میں کھو جاتا ہے جبکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ حج کر کے آنے کے بعد لوگوں کا عمل بدل جائے،معاشرے میں جب ہزاروں حجاج آئیں تو ان کی موجودگی ایک عملی تبدیلی کا نمونہ ہو اور امن و سلامتی اورہدایت کا ایک نہ ختم ہونے والاایسارویہ ملےکہ دل و روح سکون پا جائے یعنی دینی معاملات پوری طرح لوگوں پرچھا جائیں۔
دوبارہ گناہوں سے پاک زندگی کا پرسکون ماحول میسر آئے،گھرگھرایمان افروزتبدیلیاں دیکھنےمیں آجائیں۔اللہ نےاتنا بڑا انعام بھی تواس لئےہی رکھا ہےکہ حج مبرور کا صلہ جنت کے سوا کچھ نہیں، تو ساتھیوں اب کی بار دعا ہے کہ تمام حجاج خیر و عافیت سے جائیں اور ہمارے معاشرے کیا، دنیا بھر میں ایسا انقلاب لائیں کہ واقعی امن کے پیامبر ثابت ہوں۔انہیں ایسا حج مبرور نصیب ہو (آمین)کہ ہر بندہ خدا رب کی چاہت میں گرفتار ہو کر واقعتاً اللہ کا ہدایت یافتہ نیک بندہ بن جائے(آمین)





































